قصہ گاڑیوں کی نمبر پلیٹس نہ ملنے کا

ایک نوجوان میڈیکل اسپیشلسٹ کو گزشتہ دنوں کراچی شہر کی مصروف شاہراہ فیصل پر نامعلوم افراد نے رکشے سے اتار کر قتل کردیا۔

ایک نوجوان میڈیکل اسپیشلسٹ کو گزشتہ دنوں کراچی شہر کی مصروف شاہراہ فیصل پر نامعلوم افراد نے رکشے سے اتار کر قتل کردیا۔ شاہراہ فیصل جہاں کلوز سرکٹ کیمرے لگے ہوئے ہیں، نامعلوم ملزمان ایک کار میں آئے اور ڈاکٹر سارنگ کو رکشے سے اتار کر گولیاں ماریں اور اطمینان سے اپنی کمین گاہوں میں روپوش ہوگئے۔ قتل کے وقت ڈاکٹر سارنگ کی اہلیہ ان کے ساتھ رکشہ میں سفر کررہی تھیں۔ پولیس نے بعد میں واردات میں ملوث کار برآمد کرنے کا دعویٰ کیا۔ یہ کار کرایہ پر حاصل کی گئی تھی ۔

 ڈاکٹر سارنگ کے قتل میں ملوث افراد کا شاہراہ فیصل سے اپنا ہدف حاصل کر کے اطمینان سے جانے کا مطلب شہرکی اہم ترین شاہراہ پر جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے نصب کیمروں کے نیٹ ورک کی ناکامی کا اعلان ہے۔ اگر سیکیورٹی کیمرے کنٹرول روم کو فورا اس جرم کی اطلاع دینے میں کامیاب ہوجاتے تو قاتل رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے۔

 صوبائی وزراء گزشتہ 16 برسوں سے کراچی سیف سٹی پروجیکٹ کا فخر سے ذکر کرتے رہتے ہیں ۔اس پروجیکٹ کے تحت شہر کی اہم شاہراہوں پر جدید کیمرے نصب کیے گئے اور ان کیمروں کی نگرانی کے لیے کروڑوں روپے کی لاگت سے مرکزی کنٹرول روم قائم ہوا مگر یہ نظام سڑکوں پر جرائم کو روکنے میں ناکام رہا ہے۔

سیف سٹی پروجیکٹ ابتدا سے ہی نقائص کا شکار ہے۔ یہ کیمرے عمومی طور پر کام نہیں کرتے اور کچھ واقعات میں شاہرہ فیصل سمیت اہم شاہراہوں پر ہونے والے قتل و ڈکیتی کی وارداتوں کی ریکارڈنگ نہ ہوسکی۔ یہ بھی کہا گیا کہ شہر کی بیشتر شاہراہوں پر کیمرے نصب نہیں ہیں، اس بناء پر اس پورے پروجیکٹ کو سیف سٹی پروجیکٹ کا نام نہیں دیا جاسکتا۔

سندھ حکومت نے پورے صوبے میں Provincial Motor Vehicles (Amendment) Act 2024 کو مکمل طور پر نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کے تحت اجرک والی نمبر پلیٹ گاڑیوں میں نصب کرنے فیصلہ کیا گیا۔ اس فیصلے کے تحت تمام گاڑیوں کے لیے یہ نمبر پلیٹ حاصل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔ ہر کار مالک کے لیے 2200روپے کی فیس جمع کرانا لازمی ٹھہرا۔ اس کے ساتھ ہی سابقہ واجبات کی ادائیگی بھی لازمی قرار دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے خصوصی نمبر کی پلیٹ نیلام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

ان نمبر پلیٹ کی قیمت 10 لاکھ سے 30 لاکھ روپے تک مختص کی گئی۔ کراچی میں ایک اندازے کے مطابق 3.6 ملین گاڑیاں ہیں جن میں پرائیویٹ کاروں کی تعداد 1.25 ملین بتائی گئی ہے۔ اسی طرح کمرشل گاڑیوں کی تعداد 450,000 بتائی جاتی ہے۔ حکومت سندھ نے گزشتہ دو برسوں کے دوران بار بار اعلان کیا کہ کار مالکان نئی نمبر پلیٹ حاصل کریں۔ اس مقصد کے لیے تاریخوں کا اعلان کیا گیا، پھر ان تاریخوں میں توسیع کی گئی۔

سیکڑوں افراد ایکسائز دفاتر کے چکر لگانے لگے،حکومت کی آمدنی میں بھی خاصا اضافہ ہوا ہوگا۔ صحافیوں کو ان کی کاروں کی نمبر پلیٹ جلدی مل جاتی رہی ، جن افراد کے پاس سفارش ہوتی یا انھیں سرکاری بابوؤں کو ’خوش‘ کرنے کے گرآتے ہیں ان کا کام بھی فوری ہوجاتا مگر 6ماہ قبل نمبر پلیٹ کی فراہمی بند کردی گئی۔ عملی صورتحال یہ ہے کہ لوگ روزانہ سرکاری دفاتر کے چکر لگاتے ہیں اور مایوس ہوکر واپس چلے جاتے ہیں۔

 کراچی پولیس نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ہزاروں روپے کے چالان کرنے کی اسکیم نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعلامیہ کے مطابق سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، ڈرائیور کے موبائل استعمال کرنے، ون وے کی خلاف ورزی ،سگنل توڑنے اور ممنوع مقامات پر گاڑی پارک کرنے کے جرائم کے مرتکب افراد پر 10 ہزار سے 30ہزار تک چالان ہوسکتے ہیں۔ چالان کی اتنی بڑی رقم پر خاصی تنقید ہوئی تو وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس چالان کا نظام شہریوں کی جان کے تحفظ کے لیے نافذ کیا جارہا ہے۔

اس بناء پر چالان کی رقم کم کرنے کے بجائے ٹریفک قوانین پر مکمل طور پر عملدرآمد ہونا چاہیے، پولیس حکام نے اس قانون کو نافذ کرتے ہوئے یہ رعایت دی کہ پہلی دفعہ چالان معاف کردیا جائے گا مگر اگر دوسری دفعہ پھر کیمرے نے ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی کی اور کمپیوٹرائزڈ کنٹرول روم کو سگنل ملا تو پھر دوسرے ای چالان میںپہلے چالان کی رقم بھی شامل ہوگی۔

اس دوران پولیس حکام کے علم میں آیا کہ بہت سی نمبرپلیٹ جعلی ہیں، دوسری جانب کچھ لوگوں کو ای چالان ملا تو انھوں نے پولیس حکام کو اطلاع دی کہ ان کی گاڑی تو 10 سال قبل چوری ہوگئی تھی جس کی ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔کسی کو موٹر سائیکل کا ای چالان ملا تو اس نے کہا کہ یہ موٹر سائیکل گھر پر کھڑی ہے، کسی نے ان کی جعلی نمبر پلیٹ استعمال کرلی ہے۔ ایک جانب یہ شور شرابا جب کہ دوسری طرف نئی نمبر پلیٹس نہیں مل رہی ہیں۔

 سندھ کے معروف وزراء اور پیپلز پارٹی کے رہنما جو اپنی سندھ حکومت کی کامیابیوں کے گن گاتے نہیں تھکتے وہ اس ایشو پرکچھ کہنے کو تیار نہیں ہیں۔ جب تمام گاڑیوں کی نمبر پلیٹ ہی نہیں ہوگی تو اس وقت تک کمپیوٹرائزڈ کیمرے بھی نتائج نہیں دے سکیں گے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو اس صورتحال کا فوری نوٹس لینا چاہیے ۔

Load Next Story