صوبائی حکومت 2 ماہ کے اندر یونیورسٹی روڈ کو مکمل طور پر فعال بنائے، ہائیکورٹ نے فیصلہ جاری کردیا

سندھ ہائیکورٹ نے ٹھیکے دار کنٹریکٹر کی مشینری سیل کرنے کی کارروائی غیر قانونی قرار دے دیا

سندھ ہائی کورٹ نے بی آرٹی ریڈ لائن لاٹ ٹو کے کنٹریکٹر کا دفتر سیل کرنے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مشینری سیل کی کارروائی کو غیر قانونی قرار دے دیا اور امید ظاہر کی کہ اکتوبر 27 تک بی آر ٹی کو فعال کردیا جائے گا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ٹھیکے دار کی جانب سے دائر کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کنٹریکٹر کی مشینری سیل کرنے کی کارروائی غیر قانونی قرار دے دی۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ توقع کی جاتی ہے کہ بی آر ٹی کو اکتوبر 2027 کی مدت کے اندر فعال کر دیا جائے گا، واضح کیا جاتا ہے کہ بی آر ٹی کی تعمیر کسی بھی صورت میں یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی کو متاثر نہیں کرے گی۔

سندھ ہائیکورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ کراچی کے عوام یونیورسٹی روڈ کی خراب حالت کی وجہ سے شدید مشکلات کا شکار ہیں،  سندھ حکومت دو ماہ کے اندر یونیورسٹی روڈ کو مکمل طور پر فعال بنائے۔

عدالت نے کہا کہ یونیورسٹی روڈ پر عوامی اور پرائیوٹ ٹرانسپورٹ کی روانی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ ہو، اس مقصد کے لیے حکومتِ سندھ اضافی فنڈز براہِ راست یا از سرِ نو مختص کر سکتی ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ تاہم اگر ٹرانس کراچی کی یہ رائے ہو کہ معاہدے کی شق 17، 18 اور 19 کے تحت انہیں مشینری درکار ہے  اگر ٹرانس کراچی کو مشنری کی ضرورت ہو معاہدے کے مطابق مشینری اپنے پاس رکھی سکتی ہے تاہم ٹرانس کراچی مشنری رکھنے کے لیے ڈسپیوٹ ریزولوشن بورڈ سے رجوع کر سکتے ہے۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ معاہدے ختم کرنے سے متعلق درخواست گزار کو یہ آزادی ہوگی کہ وہ معاہدے کے تحت قانونی کاروائی کرسکتا ہے۔

عدالت نے فیصلے کی نقول چیف سیکریٹری سندھ، اور سیکریٹری بلدیات سندھ کو تعمیل کے لیے ارسال کرنے کی ہدایت بھی کردی۔

عدالت نے کنٹریکٹر کی جانب سے دائر درخواست نمٹادی

متعلقہ

Load Next Story