تعلیمی کیلنڈر، شدید گرمی اور ہماری ترجیحات
ہمارے ہاں ایک عمومی شکایت یہ سننے کو ملتی ہے کہ برصغیر میں برطانیہ کے نوآبادیاتی دور کے اثرات آج بھی مختلف شعبوں میں موجود ہیں، خصوصاً تعلیمی نظام میں۔ بعض اہل دانش اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم ابھی تک اس نظام سے مکمل طور پر نجات حاصل نہیں کر سکے۔
یہ بات اپنی جگہ درست سہی، مگر اس سے بھی زیادہ قابل توجہ پہلو یہ ہے کہ ہم نے صرف نظامِ تعلیم ہی نہیں بلکہ اس سے جڑے ہوئے بعض ایسے معمولات کو بھی جوں کا توں برقرار رکھا ہوا ہے، جو آج کے حالات سے مطابقت نہیں رکھتے۔انھی میں سے ایک اہم مسئلہ تعلیمی کیلنڈر کا ہے۔ برطانوی دور میں اس خطے میں جو تعلیمی شیڈول ترتیب دیا گیا، اس میں گرمیوں کی چھٹیاں جون اور جولائی میں رکھی گئیں۔ اس کی بنیادی وجہ مقامی آبادی کی ضرورت نہیں بلکہ انگریز حکام کی اپنی سہولت تھی، جو ان مہینوں میں اپنے آبائی وطن واپس چلے جاتے تھے۔ وقت بدل گیا، حالات بدل گئے، مگر ہمارا تعلیمی کیلنڈر آج بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے۔
آج جب ہم کراچی جیسے بڑے شہر کی صورتحال دیکھتے ہیں تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف شدید گرمی کی لہر ہے، جہاں درجہ حرارت محسوساتی طور پر 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک جا پہنچتا ہے، دوسری طرف ہمارے تعلیمی ادارے معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ طلبہ نہ صرف اسکول اور کالج جا رہے ہیں بلکہ اسی شدید گرمی میں امتحانات بھی دے رہے ہیں۔
حال ہی میں میٹرک کے امتحانات مکمل ہوئے اور اب انٹرمیڈیٹ کے امتحانات جاری ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان امتحانات کو دو ماہ موخر نہیں کیا جا سکتا تھا؟ کیا ہمارے نظام میں اتنی لچک بھی موجود نہیں کہ ہم موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے شیڈول میں معمولی سی تبدیلی کر سکیں؟ جب کہ ہمارے تعلیمی اداروں میں پنکھے اور پینے کے پانی کی سہولیات بھی طلبہ کی تعداد کے اعتبار سے دستیاب نہیں ہوتی اور لوڈشیڈنگ ہو جائے تو طلبہ کی حالت اور بھی غیر ہو جاتی ہے ایسے میں یہ طلبہ کیا امتحان دیں گے؟
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ امتحانات صرف صبح کے اوقات تک محدود نہیں بلکہ دوپہر کی شفٹ میں بھی لیے جا رہے ہیں، جب گرمی اپنی شدت اور عروج پر ہوتی ہے۔ سائنسی اعتبار سے یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ شدید گرمی انسانی دماغ کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں طلبہ سے بہترین کارکردگی کی توقع رکھنا کس حد تک مناسب ہے؟
یہ مسئلہ صرف اسکولوں اور کالجوں تک محدود نہیں بلکہ جامعات میں بھی کم و بیش یہی صورتحال نظر آتی ہے۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ہماری تعلیمی پالیسیاں بنانے والے ادارے اور افراد کیا واقعی زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہیں یا محض ایک روایتی ڈھانچے کو برقرار رکھنے پر اکتفا کیا جا رہا ہے؟
اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھا جائے تو اس کے حل بھی کوئی مشکل نہیں ہیں۔ سب سے پہلا اور آسان قدم یہ ہو سکتا ہے کہ امتحانات کو مئی اور جون کی شدید گرمی میں لینے کے بجائے آگے جولائی یا اگست میں منتقل کر دیا جائے۔ بعض لوگ یہ اعتراض کر سکتے ہیں کہ اس سے نتائج میں تاخیر ہوگی، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارے ہاں نتائج کی تیاری میں پہلے ہی غیر معمولی تاخیر ہوتی ہے، جو بعض اوقات چھ ماہ تک جا پہنچتی ہے، اگر کاپیاں چیک کرنے والے اساتذہ کی تعداد بڑھا دی جائے اور اس عمل کو منظم بنایا جائے تو نتائج ایک ماہ کے اندر بھی جاری کیے جا سکتے ہیں۔
اسی طرح دوپہر کی شفٹ کے امتحانات کو صبح کے اوقات میں منتقل کیا جا سکتا ہے، اگر ایک ہی دن میں دونوں شفٹس کا انعقاد ممکن نہ ہو تو ایک دن ایک گروپ اور دوسرے دن دوسرا گروپ امتحان دے سکتا ہے۔ اس طریقہ کار سے نہ صرف گرمی کی شدت سے بچاؤ ممکن ہوگا بلکہ طلبہ کو تیاری کے لیے زیادہ وقفہ بھی ملے گا۔
ایک اور اہم پہلو ان طلبہ کا ہے جن کے امتحانات اس وقت نہیں ہو رہے ہیں مگر باقاعدگی سے ان کی کلاسیں ہو رہی ہیں۔ شدید گرمی کے مہینے، خصوصاً مئی میں، ان کے لیے تعطیلات کا اعلان کیا جا سکتا ہے یا متبادل طور پر آن لائن کلاسز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے۔ جب ہم دیگر وجوہات کی بنا پر آن لائن تعلیم کا سہارا لے سکتے ہیں تو طلبہ کی صحت کے تحفظ کے لیے ایسا کیوں نہیں کیا جا سکتا؟
مزید برآں، اسکولوں کے اوقات کار اور چھٹی کے نظام میں بھی بہتری کی گنجائش موجود ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ایک ہی علاقے میں متعدد اسکول ایک ہی وقت پر چھٹی کرتے ہیں، جس کے باعث شدید ٹریفک جام ہو جاتا ہے۔ گرمی کے موسم میں یہ صورتحال مزید تکلیف دہ ہو جاتی ہے، جب بچے گاڑیوں میں بیٹھے پسینے میں شرابور ہوتے ہیں، اگر اسکولوں کو پابند کیا جائے کہ وہ مختلف اوقات میں چھٹی کریں۔ مثلاً پرائمری اور سیکنڈری سطح پر الگ الگ اوقات مقرر کیے جائیں یعنی ان کے دوران بیس منٹ کا وقفہ رکھ دیا جائے، جیسے پرائمری کلاسز کی چھٹی سیکنڈری کلاسز سے بیس منٹ پہلے کردی جائے تو اس مسئلے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے، یوں ایک ہی وقت میں اسکولوں کے آگے ٹریفک کا رش نہیں ہوگا نہ ٹریفک جام ہوگا اور بچے بھی گرمی میں رش میں پھنسنے سے بچ جائیں گے۔
غور کیا جائے تو موسم کی سختی کا کچھ ایسا ہی معاملہ سخت سردی اور بارش کے سیزن میں بھی ہوتا ہے، چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بارش اور سخت سردی کی لہر جب بھی چلے فوری طور پر چند دن کے لیے (پیشن گوئی کے مطابق) تعلیمی اداروں میں چھٹی کردی جائے۔حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام مسائل ناقابل حل نہیں، بلکہ صرف سنجیدہ توجہ اور بہتر منصوبہ بندی کے متقاضی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم روایتی سوچ سے نکل کر حالات کے مطابق فیصلے کریں۔
تعلیمی نظام کا مقصد صرف نصاب کی تکمیل نہیں بلکہ طلبہ کی ذہنی و جسمانی صحت کا تحفظ بھی ہے،اگر ہم واقعی ایک ذمے دار معاشرہ بننا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی ترجیحات کا ازسرِ نو تعین کرنا ہوگا۔ طلبہ کا مستقبل صرف ان کے امتحانی نتائج سے وابستہ نہیں بلکہ ان کی صحت اور فلاح بھی اتنی ہی اہم ہے۔ امید ہے کہ متعلقہ ادارے اس جانب توجہ دیں گے اور ایسے اقدامات کریں گے جو ہمارے تعلیمی نظام کو زیادہ موثر، انسانی اور حالات کے مطابق بنا سکیں۔