نارووال عالمی امن مکالمہ اور جناب احسن اقبال
کلاسیکی رُوسی ادب کے بانی اور عالمی شہرت یافتہ ناول نگار لیو ٹالسٹائی کا کہنا ہے :’’آیئے ، ہم ایک دوسرے کو معاف کرنا سیکھیں۔ ایک دوسرے کی دانستہ یا نا دانستہ سنگین غلطیوں کو اگر معاف کرنا سیکھ لیا جائے تو مقامی اور عالمی سطح پر ایک ایسا ماحول پیدا ہوگا جس میں ہر جانب امن ، شانتی اور چَین ہی چَین ہوگا۔‘‘ فکشن کے بادشاہ نے یہ بات کہہ اور لکھ تو دی ، مگر اِس پر عمل کرنا اور اِس کا حصول خاصا دشوار ہے : شائد ناقابلِ عمل اور ناقابلِ حصول !لیکن دُنیا کا ہر امن پسند دانشور اور فلسفی اِسی کے خواب دیکھتا آیا ہے ۔
مملکتِ خداداد پاکستان کو آج امن کی جتنی اشد ضرورت ہے ، شائد ہی دُنیا کے کسی اور ملک کو ہو۔ پاکستان ، خطّے اور دُنیا بھر میں مستقل قیامِ امن کے لیے آج پاکستان جتنی کوششیں کرتا دکھائی دے رہا ہے ، شائد ہی دُنیا کا کوئی اور ملک ایسی مساعی جمیلہ کررہا ہو ۔ الحمد للہ، اِن پاکستانی کوششوں کی تحسین بھی ہو رہی ہے اور اِنہیں تسلیم بھی کیا جارہا ہے ۔ حالیہ ایام میں وزیر اعظم پاکستان جناب شہباز شریف، فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے ایران وامریکہ میں سیز فائر کروانے اور مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے جو انتھک کوششیں کی ہیں، اِنہیں امریکہ سمیت عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے ۔ اِن کوششوں کے مثبت نتائج بھی سب کے سامنے آ رہے ہیں۔
مستقل قیامِ امن کے لیے ایک طرف جناب شہباز شریف کی دوڑ دھوپ قابلِ دید و قابلِ ستائش ہے، اور دوسری طرف شہباز شریف صاحب کی کابینہ کے ایک رکن ، وفاقی وزیر جناب احسن اقبال، بھی اپنی نجی حیثیت میں قیامِ امن اور مستقل امن کی کوششوں کو آگے بڑھاتے نظر آ رہے ہیں ۔
اُن کی کوشش ہے کہ نہ صرف اُن کے سیاسی و انتخابی حلقے میں پائیدار امن کا ماحول پیدا ہو ، بلکہ پورے پاکستان اور پھر پورے جنوبی ایشیا میں امن کی ہواؤں کا راج ہو ۔ جناب احسن اقبال کا ذاتی تجربہ و مشاہدہ ہے کہ اگر کسی سیاستدان کو مقامی سطح پر امن اور سکون حاصل نہیں ہے تو پھر وہ پورے ملک اور اپنے اِرد گرد کے ممالک میں بھی امن و شانتی کے خواب نہیں دیکھ سکتا ۔
کوئی آٹھ برس قبل یہی مہینہ اور مئی کے یہی گرم ایام تھے جب ایک شدت پسند اور گمراہ نوجوان نے، کسی کے آموختہ سے متاثر ہو کر، جناب احسن اقبال پر گولی چلا دی تھی ۔ اُس وقت وہ مرکزی وزیر داخلہ تھے اور اپنے سیاسی و انتخابی حلقے، نارووال ، میں سیاسی سرگرمیوں میں مشغول ۔ خوش قسمت تھے کہ مجرم کی گولی اُن کی زندگی چھیننے میں ناکام رہی ۔ احسن اقبال شدید زخمی ہُوئے اور اُنہیں بذریعہ ہیلی کاپٹر نارووال سے لاہور منتقل کیا گیا ۔
جناب احسن اقبال کی زندگی تو بچ گئی ، مگر یہ سانحہ اُنہیں ایک ناقابلِ فراموش درس سکھا گیا: یہ کہ وہ ذاتی حیثیت میں رواداری ، امن اور مستقل قیامِ امن کی عملی کوششیں جاری رکھیں گے۔ اُن پر گولی چلانے والا نوجوان مجرم گرفتار کر لیا گیا تھا ۔ اُس پر ظاہر ہے مقدمہ بھی چلا ، مگر احسن اقبال صاحب نے قتل کی نیت رکھنے والے نوجوان کو معاف کر دیا ۔یہ ایک بڑا ہی منفرد اور بڑے دل گردے کا اقدام تھا۔
جناب احسن اقبال نے مجرم نوجوان کو معاف کرنے کا سلیقہ اور طریقہ لیو ٹالسٹائی کے قول سے نہیں سیکھا تھا ، بلکہ اُنھوں نے یہ شاندار درس اللہ کے آخری رسولﷺکی بے مثال اور حسین و جمیل سیرتِ طیبہ سے سیکھا تھا ۔ مجرم نوجوان کو معاف کرتے وقت جناب احسن اقبال کے سامنے یقیناً نبی کریم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا وہ زرّیں ورق کھلا تھا جب اللہ کے آخری رسولﷺ نے فتح مکّہ کے روز اپنے سبھی بڑے بڑے جانی دشمنوں کو معاف فرما دیا تھا۔اپنے دشمنوں کو یک قلم معاف فرما کر یقیناً اللہ کے آخری رسولﷺ نے عرب کی سر زمین اور پھر ساری دُنیا میں اسلام کا نُور پھیلنے کے راستے کھول دیے ۔ آپﷺ کی امن پسند اور امن سازشخصیت دُنیا کے کروڑوں، اربوں انسانوں کو اب تک متاثر کررہی ہے اور تاقیامت متاثر کرتی رہی گی ۔
نارووال میںجناب احسن اقبال پر 6مئی 2018 کو گولی چلائی گئی تھی ۔ احسن اقبال صاحب تب سے اب تک ضلع نارووال(جسے اُن کی زبردست کوششوں سے علمی و تعلیمی و کھیل کی دُنیا کا مرکز بنا دیا گیا ہے)میں ہر سال ، مئی کی اِنہی تاریخوں میں، کوئی بڑا امن ساز جلسہ یا کوئی امن ساز کنونشن یا پھر قیامِ امن کی کوششوں کو مہمیز دینے کی کوئی عالمی کانفرنس کا انعقاد کرتے ہیں۔ نارووال شہر میں ہرسال مئی میں یہ ایک عظیم الشان ایونٹ بن جاتا ہے ۔ اِس سال بھی (5اور6مئی2026ء کو)جناب احسن اقبال نے Narrowal Peace Dialogueمنعقد کیا ہے۔ 6مئی2026ء کو وفاقی وزیر منصوبہ بندی ، جناب احسن اقبال، نے اپنے دلکشا خطاب میں کہا:’’آج نارووال صرف ایک امن کانفرنس ہی کا میزبان نہیں ہے ، بلکہ پاکستان ، خطّے اور پوری دُنیا کو ایک با معنی پیغام دے رہا ہے کہ:نفرت کا جواب محبت سے، انتہا پسندی کا جواب مکالمے سے اور ذاتی عناد کا جواب امن کے زریعے دیا جا سکتا ہے ۔‘‘
نارووال میں ’’دوسرے عالمی امن مکالمے‘‘ یا ’’دوسرے انٹرنیشنل نارووال پیس ڈائیلاگ‘‘کا یہ دو روزہ ایونٹ خاصا کامیاب رہا۔ اِسے’’ عالمی امن ساز مکالمہ‘‘ کہنا بجا ہو گا۔اِس میں مراکش کے سابق وزیر اعظم صاحب نے بطورِ مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی ۔ علاوہ ازیں200کی تعداد میں مقررین ، علماء ، محققین ، اسکالرز نے شرکت کی۔ چار ہزار کے قریب طلبا و طالبات کی شرکت اِس کے علاوہ تھی ۔ احسن اقبال صاحب وزیر اعظم جناب شہباز شریف کے شائد واحد ایسے دانشور وفاقی وزیر ہیں جو اپنی بات کہنے اور پاکستانیوں کے سامنے اپنا مافی الضمیررکھنے کی سکت بھی رکھتے ہیں اور اِس کا طریقہ اور سلیقہ بھی جانتے ہیں ۔ شائد اِسی لیے اُن کے مخالفین طنزاً اُنہیں ’’پروفیسر‘‘ کے لقب سے بھی پکارتے ہیں ۔
اِ س میں مگر کوئی شک نہیں ہے کہ وہ حقیقی پروفیسر بھی رہے ہیں اور وہ پروفیسروں کی طرح اپنا نکتہ نظر اپنے قارئین و سامعین کے سامنے رکھتے بھی ہیں ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ’’نارووال امن مکالمہ‘‘ کے تازہ ترین انعقاد سے قبل اُنھوں نے ایک انگریزی معاصر میں ، اِسی حوالے سے، ایک تفصیلی اور ذہن کشا آرٹیکل بھی لکھا ۔احسن اقبال نے اپنی ذات پر گزرے سانحہ کو رواداری ، برداشت اور امن سازی کے فروغ کے لیے ایک مشن بنا لیا ۔ اِس مشن میں وہ خاصے کامیاب رہے ہیں ۔ امن سازی کی کوششوں میں اُن کی کامیابی دراصل وزیر اعظم جناب شہباز شریف کی بھی کامیابی ہے کہ احسن اقبال رواں نون لیگی مرکزی حکومت کے معتمد ترین وزرا میں شمار کیے جاتے ہیں ۔
چند دن پہلے مجھے خود بھی نارووال کی ایک تحصیل ( شکر گڑھ ) میں ایک عدالتی گواہی دینے کے لیے جانا پڑا ۔ سہ پہر کے وقت ہم نارووال شہر میں سے گزرے ۔ شہر کی تجارتی چمک دمق ، صفائی ستھرائی اور نظم دیکھ کر مَیں تو ششدر رہ گیا۔ کئی برسوں کے بعد مَیں وہاں سے گزررہا تھا۔ مجھے بتایا گیا کہ امن پسند و تعلیم پسند احسن اقبال صاحب کی کوششوں سے آج نارووال شہر میں ایک سرکاری میڈیکل کالج، ایک انجینئرنگ یونیورسٹی ، ایک کمپیوٹر کالج، ایک بڑی سول یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ نارووال شہر کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر اسپتال (DHQ)کو بھی نئی شکل و صورت دی گئی ہے ۔
گاڑی میں میرے ساتھ بیٹھے میرے بھتیجے ( جو سینئر فوجی افسر ہیں)نے نارووال شہر کا علمی و تعلیمی زرق برق دیکھتے ہُوئے مجھے کہا:’’ انکل جی، جناب احسن اقبال کی اپنے سیاسی و انتخابی حلقے اور اپنے ووٹروں کے لیے شاندار خدمات کی قلمی و کالمی تحسین تو ہونی چاہیے ۔‘‘بِلا شبہ احسن اقبال صاحب ستائش و تحسین کے مستحق ہے ۔ احسن اقبال صاحب کی نون لیگی و شہباز حکومت نے مگر مہنگی ترین بجلی ، مہنگے پٹرول ، مہنگی گیس اور کمر توڑ مہنگائی سے عوام کی جس طرح کمر توڑ کر رکھ دی ہے ، اِن عوامل نے احسن اقبال سمیت ساری نون لیگی حکومت کی خدمات کو گہن لگا دیا ہے ۔ ایک بات اور: نارووال ضلعی اسپتال کو ابھی مزید جدید بنانے کی ضرورت ہے ۔ وہاں کئی مریضوں کے لواحقین کو اب بھی ڈاکٹروں سے یہ جملہ سُننا پڑتا ہے : اینوں لہور لے جاؤ!