ملک بھر میں معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریبات جاری

واہگہ اور گنڈا سنگھ بارڈر پر قومی پرچم اتارنے کی تقریبات میں روزانہ شہریوں کی بڑی تعداد میں شرکت

ملک بھر میں معرکہ حق کی فتح کا ایک سال مکمل ہونے پر تقریبات کا سلسلہ جاری ہے۔

لاہور کے واہگہ بارڈر اور قصور کے گنڈا سنگھ بارڈر پر بھی قومی جذبے، جوش و ولولے اور حب الوطنی کی منفرد فضا دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دونوں سرحدی مقامات پر روزانہ قومی پرچم اتارنے کی تقریبات میں شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے جہاں پاکستان رینجرز پنجاب کے جوانوں کی شاندار پریڈ حاضرین کے جذبات کو گرما دیتی ہے۔

یکم مئی کے بعد سے واہگہ بارڈر اور گنڈا سنگھ بارڈر پر پریڈ دیکھنے آنے والوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ لاہور، قصور، شیخوپورہ، فیصل آباد، گوجرانوالہ اور دیگر شہروں سے خاندانوں، نوجوانوں، خواتین اور بزرگ شہریوں کی بڑی تعداد سرحدی تقریبات میں شرکت کے لیے پہنچ رہی ہے۔ شہری ہاتھوں میں قومی پرچم اٹھائے پاکستان زندہ باد، نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور افواجِ پاکستان کے حق میں نعرے بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

پریڈ کے دوران پاکستان رینجرز پنجاب کے جوان بلند قدموں، پرجوش انداز اور بھرپور عسکری مہارت کا مظاہرہ کرتے ہیں تو سٹیڈیم میں موجود حاضرین تالیاں بجا کر اور قومی نغموں کے ساتھ ان کا استقبال کرتے ہیں۔ نوجوان شہریوں کا کہنا ہے کہ معرکۂ حق نے قوم کو متحد کیا اور پاکستان کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر ثابت کیا۔ خواتین شرکاء نے کہا کہ افواجِ پاکستان اور رینجرز کے جوان پوری قوم کا فخر ہیں، جبکہ بزرگ شہریوں نے قومی یکجہتی اور سرحدوں کے تحفظ کے عزم کو سراہا۔

واہگہ بارڈر پر آنے والے ایک شہری نے کہا کہ گزشتہ برس پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستانی افواج نے دشمن کو بھرپور جواب دیا، جس کے بعد قوم کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ ایک خاتون شہری کے مطابق سرحدی تقریب میں شریک ہو کر قومی فخر اور جذبہ مزید مضبوط ہوتا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پوری قوم اپنی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔

گزشتہ سال پاک بھارت جنگ کے بعد سے واہگہ بارڈر پر پاکستان رینجرز اور بھارتی بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی پریڈ کے دوران دونوں ممالک کے سرحدی گیٹ بند رکھے جاتے ہیں، جبکہ دونوں فورسز کے جوان ایک دوسرے سے مصافحہ بھی نہیں کرتے۔ سرحد کے پاکستانی جانب جوش، نعروں اور قومی جذبے کی فضا نمایاں نظر آتی ہے، جبکہ دوسری جانب بھارتی اسٹیڈیم میں خاموشی اور محدود حاضری دیکھی جا رہی ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ “آپریشن سندور” کی ناکامی کے اثرات آج بھی سرحد کے دوسری جانب محسوس کیے جا سکتے ہیں، جہاں بھارتی اہلکاروں کے چہروں پر سنجیدگی اور دباؤ نمایاں دکھائی دیتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی عوام اور رینجرز کے جوان قومی پرچم کی سربلندی اور دفاعِ وطن کے عزم کے ساتھ ہر روز نئی توانائی اور جذبے کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

Load Next Story