جنگ، حکمت اور وقارکا حسین امتزاج معرکۂ حق

اس جنگ نے جدید جنگی حکمت عملی کے کئی نئے پہلو بھی اجاگر کیے

گزشتہ برس جب بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر پہنچی تو خطے کے سیاسی مبصرین، عالمی تھنک ٹینکس اور بین الاقوامی سفارتی حلقے ایک ایسے منظرنامے کا تصور کر رہے تھے جس میں طاقت کا توازن محض عددی برتری سے متعین ہوگا۔

دنیا کی بڑی عسکری قوتوں میں شمار ہونے والا بھارت اپنی آبادی، معیشت، اسلحہ خریداری اور عالمی روابط کے باعث خود کو ناقابلِ تسخیر سمجھتا تھا، مگر جنگیں ہمیشہ ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں جیتی جاتیں، ان کا فیصلہ عزم، حکمت عملی، قیادت، تربیت، نظم اور قومی وحدت کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقت تھی جو اس معرکے میں کھل کر سامنے آئی۔ ایک برس گزرنے کے باوجود اس تصادم کی بازگشت اب بھی عالمی ایوانوں میں سنائی دیتی ہے، کیونکہ اس نے جنوبی ایشیا کی عسکری و سفارتی حرکیات کو نئے زاویے عطا کیے۔

اس تنازعے کے دوران پاک فوج نے جس پیشہ ورانہ مہارت، تحمل اور بروقت ردعمل کا مظاہرہ کیا، وہ صرف عسکری کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے ریاستی اعتماد کا اظہار تھا جو اپنے دفاع کو محض جغرافیائی حدود کی حفاظت نہیں بلکہ قومی وقار کا مسئلہ سمجھتا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے نہ صرف اپنی سرحدوں کا تحفظ کیا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ جدید جنگوں میں محض اسلحہ خانوں کی وسعت فیصلہ کن عنصر نہیں رہی۔ ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس، فوری ردعمل، سائبر استعداد اور سب سے بڑھ کر قیادت کی بصیرت وہ عوامل ہیں جو میدانِ جنگ میں برتری قائم کرتے ہیں۔

اس پورے منظرنامے میں سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ پاکستان نے جذباتی نعروں کے بجائے منظم عسکری حکمت عملی اختیار کی۔ جنگی ماحول میں اکثر ریاستیں داخلی دباؤ کے تحت غیر متوازن فیصلے کرتی ہیں، مگر یہاں صورت حال مختلف رہی۔ پاکستانی عسکری قیادت نے نہ صرف محدود وسائل میں موثر دفاعی حکمت عملی اپنائی بلکہ دشمن کو اس کے اندازوں کے برعکس جواب دے کر نفسیاتی برتری بھی حاصل کی۔

یہی وجہ ہے کہ اس تصادم کے بعد عالمی میڈیا میں پہلی بار بڑے پیمانے پر یہ سوال اٹھا کہ جنوبی ایشیا میں حقیقی عسکری توازن کیا ہے اور کیا بھارت واقعی خطے کی واحد فیصلہ کن طاقت ہے۔پاکستان نے اپنے دفاع کو جارحیت میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ یہ فرق نہایت اہم ہے، کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں دفاعی اقدام اور توسیع پسندانہ حکمت عملی کے درمیان لکیر بہت باریک ہوتی ہے۔

پاکستان نے اس لکیر کو عبور نہیں کیا۔ اس نے اپنے ردعمل کو محدود، متوازن اور قانونی دائرے میں رکھتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ امن کا خواہاں ہے، مگر کمزوری کا تاثر دینے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے بعد کئی اہم ممالک نے کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے کردار کو نسبتاً زیادہ ذمے دارانہ قرار دیا۔اس معرکے نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی کہ قومی طاقت صرف معاشی حجم سے پیدا نہیں ہوتی، اگر ایسا ہوتا تو دنیا کی ہر بڑی معیشت عسکری طور پر ناقابل شکست ہوتی۔

حقیقت یہ ہے کہ قوموں کی اصل قوت ان کے اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت، عوام کے اعتماد اور قیادت کی یکسوئی سے جنم لیتی ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برس کے بحران میں یہی عناصر بروئے کار لائے۔ جب قومی سلامتی کا معاملہ سامنے آیا تو پوری قوم اور تمام ریاستی ادارے ایک صفحے پر دکھائی دیے۔ اس اتحاد نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ دنیا کو یہ پیغام بھی دیا کہ پاکستان کو کمزور یا منتشر سمجھنا ایک سنگین غلط فہمی ہوگی۔

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ اس جنگ کے بعد عالمی سفارتی حلقوں میں پاکستان کی حیثیت میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ماضی میں اکثر یہ تاثر دیا جاتا تھا کہ پاکستان محض ردعمل کی سیاست کرنے والی ریاست ہے، مگر حالیہ برسوں میں اس کی سفارتی حکمت عملی میں سنجیدگی اور توازن نمایاں ہوا ہے۔ گزشتہ سال کے بحران کے دوران پاکستان نے بین الاقوامی فورمز پر اپنے مؤقف کو مدلل انداز میں پیش کیا، عالمی میڈیا کے ساتھ مؤثر رابطہ رکھا اور سفارتی سطح پر ایسے شواہد مہیا کیے جنہوں نے اس کے مؤقف کو تقویت دی۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد عالمی دارالحکومتوں میں پاکستان کو محض ایک علاقائی فریق کے بجائے ایک ذمے دار ریاست کے طور پر دیکھا جانے لگا۔اس سارے تناظر میں بھارتی قیادت کا رویہ بھی تجزیے کا اہم موضوع ہے۔

گزشتہ برس کی کشیدگی نے واضح کیا کہ بھارت میں قوم پرستی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا رجحان بڑھ چکا ہے۔ جنگی بیانیہ وہاں داخلی سیاست کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ میڈیا کا بڑا حصہ ریاستی بیانیے کو بغیر تنقیدی جائزے کے آگے بڑھاتا ہے، جس سے عوامی جذبات تو بھڑکتے ہیں مگر حقیقت پسندی متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ بھارتی عوام کو ایک ایسی تصویر دکھائی گئی جس میں عسکری کامیابی کے دعوے زیادہ تھے اور زمینی حقائق کم۔ اس کے برعکس پاکستان میں اگرچہ قومی جذبات موجود تھے، مگر عسکری اور سیاسی قیادت نے بیانیے کو نسبتاً ذمے دارانہ حدود میں رکھا۔

اس جنگ نے جدید جنگی حکمت عملی کے کئی نئے پہلو بھی اجاگر کیے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر، انٹیلی جنس اشتراک اور فضائی دفاعی نظام اب جنگوں کے بنیادی عناصر بن چکے ہیں۔ پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود ان میدانوں میں اپنی صلاحیت کا ایسا مظاہرہ کیا جس نے بڑے عسکری تجزیہ کاروں کو حیران کیا۔ کئی بین الاقوامی دفاعی جرائد میں اس امر پر بحث ہوئی کہ پاکستان نے کس طرح نسبتاً کم وسائل کے باوجود موثر دفاعی برتری قائم کی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بھارت کمزور ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی صلاحیتوں کو زیادہ موثر انداز میں استعمال کیا۔ ترجمانِ پاک فوج کی پریس کانفرنس میں ایک اور قابلِ توجہ پہلو شواہد کی زبان تھی۔

جدید دنیا میں جنگیں صرف میدان میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ اطلاعات کے محاذ پر بھی برتری حاصل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان نے پہلی بار اس میدان میں نسبتاً زیادہ منظم انداز اپنایا۔ عالمی میڈیا کو بروقت معلومات فراہم کی گئیں، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مؤثر ردعمل دیا گیا اور بیانیے کی جنگ میں جذبات کے بجائے دستاویزی شواہد کو اہمیت دی گئی۔ اس حکمت عملی نے پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر تقویت پہنچائی۔اس موقع پر پاکستانی عوام کے کردار کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

قوموں کی اصل طاقت ان کے عوام ہوتے ہیں، اور گزشتہ برس بحران کے دنوں میں پاکستانی معاشرے نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ ذکر تھا۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ ہمیشہ سے موجود ہوتے ہیں، مگر قومی سلامتی کے معاملے پر اجتماعی شعور نمایاں دکھائی دیا۔ یہی وہ عنصر تھا جس نے دشمن کے اس تاثر کو غلط ثابت کیا کہ پاکستان اندرونی سیاسی اختلافات کا شکار ہو کر مؤثر ردعمل دینے کی صلاحیت کھو چکا ہے۔یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ جنگوں کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے معاشی، نفسیاتی اور سفارتی نتائج برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے اگرچہ عسکری سطح پر کامیابی حاصل کی، مگر اسے یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خطے میں پائیدار امن کے بغیر ترقی کا خواب مکمل نہیں ہوسکتا۔ جنوبی ایشیا دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں غربت، بے روزگاری، ماحولیاتی بحران اور وسائل کی کمی جیسے مسائل پہلے ہی سنگین صورت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے میں مسلسل کشیدگی دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں نہیں۔ تاہم امن کی خواہش یک طرفہ نہیں ہوسکتی۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ طاقت کے زعم کے بجائے برابری، احترام اور حقیقت پسندی کو بنیاد بنایا جائے۔گزشتہ برس کے واقعات نے عالمی طاقتوں کو بھی ایک نئی حقیقت کا احساس دلایا۔ یہی وجہ ہے کہ بعد ازاں مختلف عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ دفاعی، اقتصادی اور سفارتی روابط میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ کئی ممالک نے پاکستان کی عسکری پیشہ ورانہ صلاحیت اور بحران کو سنبھالنے کی مہارت کو سنجیدگی سے لیا۔اس پورے تناظر میں پاکستانی میڈیا کے کردار پر بھی غور ضروری ہے۔ ایک ایسے دور میں جب سوشل میڈیا کے باعث افواہیں اور منفی پروپیگنڈا تیزی سے پھیلتا ہے، وہاں گزشتہ برس کے واقعات نے یہ ثابت کیا کہ عملی کارکردگی ہی کسی ادارے کی اصل ساکھ بناتی ہے۔ جب قوم اپنے اداروں کو مؤثر، منظم اور ذمے دار دیکھتی ہے تو اعتماد خود بخود پیدا ہوتا ہے، یہی اعتماد کسی بھی ریاست کی سب سے بڑی طاقت ہوتا ہے۔

آج جب اس واقعے کو ایک برس مکمل ہوچکا ہے تو ضروری ہے کہ اس پورے تجربے کو محض جذباتی یادگار کے طور پر نہ دیکھا جائے بلکہ اسے ایک قومی سبق کے طور پر سمجھا جائے۔ اس نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہ وہ ذمے دار ریاست کے طور پر امن، توازن اور سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے۔ یہی توازن پاکستان کی اصل طاقت ہے۔ ایک طرف عسکری تیاری، دوسری جانب سفارتی تدبر، ایک طرف دفاعی عزم، دوسری طرف امن کی خواہش۔ یہی وہ امتزاج ہے جو کسی بھی ریاست کو حقیقی معنوں میں مضبوط بناتا ہے۔

پاکستان نے داخلی استحکام، معاشی خود انحصاری، ادارہ جاتی اصلاحات اور علمی ترقی کو اپنی ترجیح بنایا تو گزشتہ برس کی عسکری کامیابی ایک نئے قومی دور کا پیش خیمہ بن سکتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو تاریخ صرف یہ نہیں لکھے گی کہ پاکستان نے ایک بڑے دشمن کا مقابلہ کیا، بلکہ یہ بھی لکھے گی کہ اس قوم نے آزمائش کے ایک لمحے کو اپنے اجتماعی احیاء کی بنیاد بنا دیا۔

Load Next Story