سندھ ایک مثالی صوبہ کیوں نہیں ؟

پہلی بار ملک میں 2008 سے 2013 تک آصف زرداری اور پی پی کی تینوں حکومتوں نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی تھی۔

m_saeedarain@hotmail.com

پاکستان کی تاریخ میں ملک کا دوسرا بڑا صوبہ سندھ ہے جہاں 2008 سے اب تک پیپلز پارٹی کی حکومت نہ صرف برقرار ہے بلکہ 2008 کے بعد فروری 2024 میں جو الیکشن ہوئے تھے ،اسی میں پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی کی سندھ سے سب سے زیادہ اور سندھ اسمبلی کی دو تہائی سے بھی زیادہ نشستیں حاصل کی تھیں۔

دسمبر 2007 میں پی پی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو اپنے تیسرے اقتدار کے لیے پورے ملک میں بھرپور انتخابی مہم چلا رہی تھیں کہ انھیں راولپنڈی میں شہید کر دیا گیا تھا اور ان کے شوہر ملک سے باہر تھے اور اپنی اہلیہ کی شہادت کے بعد وطن واپس آئے تھے اور انھوں نے اپنا پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا تھا جو بہت مقبول ہوا تھا اور اس کے بعد ہی زرداری صاحب کو ملک کی سیاست اور پیپلز پارٹی میں کھل کر سیاست کا موقعہ ملا تھا اور انھوں نے کسی مصلحت کے تحت ایک مبینہ وصیت کی بنیاد پر بلاول زرداری کو ان کی والدہ کی جگہ پیپلز پارٹی کا چیئرمین بنوایا تھا جس پر پیپلز پارٹی میں مکمل اتفاق تھا مگر پی پی کے مخالف اعتراض کر رہے تھے۔

آصف زرداری پہلی بار قومی رہنما کے طور پر سامنے آئے تھے اور وہ خود پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین تھے اور انھوں نے بھٹو خاندان سے اپنے تعلق کو مزید مضبوط بنانے کے لیے بلاول زرداری کو نیا نام بلاول بھٹو زرداری کے نام سے ملکی سیاست میں متعارف کرایا تھا۔ اس وقت بلاول زرداری اور ان کی دونوں بہنوں کے نام کے ساتھ بھی بھٹو لگا دیا گیا تھا جو بے نظیر بھٹو کی اولاد تھیں مگر اپنی والدہ کی شہادت سے قبل تینوں بچے اپنے والد کی نسبت سے زرداری کہلاتے تھے۔ بے نظیر بھٹو نے اپنی شادی کے بعد بے نظیر زرداری نہیں کہلایا تھا اور وہ بے نظیر بھٹو کے نام سے ہی آج بھی ملک اور دنیا بھر میں مشہور ہیں جب کہ ان کی والدہ بھٹو صاحب سے شادی کے بعد نصرت بھٹو کہلائی تھیں۔

اپنی اہلیہ کی شہادت کے بعد آصف زرداری عملی طور پر پی پی کے سربراہ بنے تھے مگر 2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے پاس حکومت بنانے کی اکثریت نہیں تھی اور آصف زرداری نے پہلی بار ملک میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ وفاقی حکومت بنائی تھی جب کہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی نے دیگر سے مل کر اپنے وزرا منتخب کرائے تھے۔

پنجاب میں تنہا مسلم لیگ (ن) کی اور صوبہ سرحد (کے پی کے) میں اے این پی کے وزیر اعلیٰ نے پیپلز پارٹی سے مل کر حکومت بنائی تھی اور صدر آصف زرداری نے بعد میں اے این پی کے کہنے پر 18 ویں ترمیم میں صوبہ سرحد کا نیا نام خیبرپختونخوا یعنی کے پی کے رکھوایا تھا۔

 پہلی بار ملک میں 2008 سے 2013 تک آصف زرداری اور پی پی کی تینوں حکومتوں نے اپنی پانچ سالہ مدت پوری کی تھی۔ 2008 میں بھی سابق وزیر اعلیٰ قائم علی شاہ کو ہی وزیر اعلیٰ سندھ بنایا گیا تھا بعد میں ان کی جگہ مراد علی شاہ کو بلاول بھٹو کی پسند پر وزیر اعلیٰ بنایا گیا جو سندھ میں سب سے زیادہ عرصہ رہنے والے اور اب بھی وزیر اعلیٰ سندھ ہیں۔ ملک میں پیپلز پارٹی واحد پارٹی ہے جو مسلسل چوتھی بار بھی 2024 میں دو تہائی سے بھی زیادہ اکثریت سے منتخب ہوئی اور سندھ میں سب سے زیادہ نشستوں کے ساتھ تنہا حکومت کر رہی ہے۔

آصف زرداری کی پالیسی کی وجہ سے آج سندھ میں پیپلز پارٹی کے پاس قومی اور سندھ اسمبلیوں کی جتنی زیادہ نشستیں ہیں اتنی زیادہ پی پی کی نشستیں کبھی بے نظیر تو کیا خود بھٹو صاحب کو 1970 کے الیکشن میں بھی حاصل نہیں ہوئی تھیں اور وہ الیکشن کافی حد تک منصفانہ قرار دیا جاتا ہے۔ سندھ کے تمام بڑے شہروں کراچی، میرپور خاص، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر اور لاڑکانہ کے میئروں کا تعلق پیپلز پارٹی سے ہے اور پہلی بار پیپلز پارٹی کی چوتھی حکومت کراچی بلدیہ عظمیٰ کے لیے اپنا میئر منتخب کرانے میں کامیاب ہوئی تھی۔

پورے سندھ پر مکمل حکمرانی اور سندھ حکومت کے اٹھارویں سال میں داخل ہو جانے اور اس عرصے میں آصف زرداری دوسری بار دو سال سے دوبارہ صدر مملکت ہیں مگر اس طویل ترین اقتدار کے باوجود پیپلز پارٹی کی واضح اکثریت کے باوجود سندھ ایک مثالی صوبہ کیوں نہیں بن سکا؟ اس پر سندھ ہی نہیں پورے ملک میں سوالات اٹھتے رہتے ہیں۔ سندھ اسمبلی میں پی پی حکومت کے سامنے ایم کیو ایم ایک کمزور اپوزیشن ہے جو دعوے زیادہ اور عملی کام کم کرتی آ رہی ہے۔

دوسرے نمبر پر اندرون سندھ سے کچھ صوبائی نشستیں رکھنے والا اتحاد جی ڈی اے جس کی سربراہی سیاست میں غیر فعال روحانی شخصیت پیر صاحب پگارا کی ہے اور تحریک انصاف کے پاس بھی کچھ نشستیں ہیں مگر یہ سب کمزور اپوزیشن ہیں۔ سندھ ملک کا دوسرا بڑا صوبہ اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی سندھ میں ہے جو وفاق کے سوا سندھ حکومت کی بھی کمائی کا سب سے بڑا ذریعہ اور 18 ویں ترمیم کے بعد سندھ مالی طور پر مستحکم صوبہ اور وفاق کا پہلے کی طرح محتاج نہیں ہے۔ سندھ حکومت سے کراچی کی اپوزیشن ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی مطمئن ہے نہ اندرون سندھ جی ڈی اے اور قوم پرست جماعتیں سب ہی سندھ حکومت کی شدید مخالف اور مسلسل الزامات لگا رہی ہیں کہ سندھ میں ترقی نظر آتی ہے اور نہ عوام کے مسائل حل ہو رہے ہیں صرف کرپشن کے چرچے ہیں۔

کراچی جیسے بڑے شہر کی حالت سب پر عیاں ہے اور اندرون سندھ کی حالت میں وہ بہتری نہیں آئی جو آنی چاہیے تھی جب کہ سندھ پر حکومت کرنے والوں کا تعلق اندرون سندھ سے ہے۔ کراچی میں پیدا ہونے والے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نہ کراچی میں دورے کرتے نظر آتے ہیں نہ زیادہ وقت اندرون سندھ میں گزارتے ہیں اور اپوزیشن کے بقول بلاول بھٹو سندھ کے حقائق سے لاعلم ہیں اور انھیں ترقی کا ایک رخ دکھایا جاتا ہے جو خود عوام سے دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں۔

Load Next Story