جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انسانی معاشرہ

بینہ سرور نے رائے دی کہ سوشل میڈیا پر مواد وائرل کرنے والے عناصر کے احتساب کا کوئی مہذب طریقہ ہونا ضروری ہے۔

ڈاکٹر ریاض شیخ سماجیات کے استاد ہیں، وہ کراچی کی شہید ذوالفقار علی بھٹو انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے سوشل سائنس کی فیکلٹی کے ڈین ہیں۔ ماہر تعلیم شہناز وزیر علی زیبسٹ یونیورسٹی کی صدر ہیں۔ ڈاکٹر ریاض شیخ یونیورسٹی کے ادارے کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے قومی اور بین الاقوامی مسائل پر بین الاقوامی کانفرنس منعقد کراتے رہتے ہیں۔

زیبسٹ یونیورسٹی کی صدر شہناز وزیر علی علمی آزادی (Academic Freedom) کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور وہ سمجھتی ہیں کہ یونیورسٹیاں علمی آزادی کے ذریعے معاشرے اور ریاست کی نگہبانی کا فریضہ انجام دیتی ہیں، یوں اس علمی ماحول میں اس سال پھر زیبسٹ میں چوتھی کانفرنس4th Global Conference on Research in Education and Social Sciences 2026 منعقد ہوئی، یہ دو روزہ کانفرنس تھی۔ ان دو دنوں میں مختلف شعبوں کے ماہرین اساتذہ اور دانشوروں نے مختلف سیشن میں مکمل آزادی کے ساتھ اپنے مقالے پیش کیے اور مختلف قومی و بین الاقوامی موضوعات پر منعقد ہونے والے سیشن میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔ اس سال کانفرنس کی تھیم Humanity 5.0: Integrating Technology for Substantial Society تھی۔

ڈاکٹر ریاض شیخ نے اس کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا بنیادی مقصد جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے معاشرے پر ہونے والے منفی اثرات کا جائزہ لینا تھا اور اس بات پر بھی غور کرنا تھا کہ اس ٹیکنالوجی کو انسانیت کی بہبود کے لیے کس طرح استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرنے والوں میں معروف دانشور ڈاکٹر پرویز ہودبھائی، این ای ڈی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر نعمان احمد، علامہ اقبال یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی اور بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر گلاب خان خلجی قابلِ ذکر تھے۔ اس سیشن میں ماہرین تعلیم نے جو مقالے پیش کیے، ان میں اس بات پر خاص طور پر زور دیا گیا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی کو انسانی اقدار کے ساتھ مربوط کرکے تعلیم کے شعبہ کو درپیش گلوبل چیلنجز کا مقابلہ کیا جانا چاہیے اورشعبہ تعلیم میں تحقیق کے لیے اور اس جدید ٹیکنالوجی کو سماجی نا ہمواری کے خاتمے کے لیے استعمال ہونا چاہیے۔

این ای ڈی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر نعمان احمد جو شہری امور کے ماہرہیں نے اپنے مقالے میں کہا کہ اربن ڈیولپمنٹ ایجوکیشن اور گورننس کے درمیان مربوط روابط قائم ہونے چاہئیں۔ انھوں نے خاص طور پر اس نکتے پر زور دیا کہ ترقیاتی منصوبہ بندی کی بنیاد عوام کے مفاد میں ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر نعمان نے اس بات پر زور دیا کہ ماہرین تعلیم اور تعلیمی ادارے تحقیق کے ذریعے شہری مسائل کو درپیش چیلنجز کا حل تلاش کرسکتے ہیں۔ معروف دانشور ڈاکٹر پرویز ہود بھائی نے اپنی کلیدی خطاب میں تعلیمی نظام کے نقائص بیان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی نظام میں ایک ادارہ جاتی خلاء Structural Gap پایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ A.I کے اس دور میں بچوں کو پڑھنا اور لکھنا آنا ضروری ہے۔ ڈاکٹر ہود بھائی نے اپنے مقالے میں مزید کہا کہ نوجوانوں کو سائنسی سوچ کا حامل ہونا چاہیے، یوں ان میں تخلیقی صلاحیتیں ابھرتی ہیں اور آزادانہ سوچ و فکر پیدا ہوتی ہے اور علمی آزادی کا ادارہ تقویت پاتا ہے۔ اس صورتحال میں جدید تقاضوں کے مطابق تعلیمی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے۔ علامہ اقبال یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر شاہد صدیقی کابنیادی استدلال یہ تھاکہ نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق تبدیل ہونا چاہیے تاکہ طالب علموں میں سوال اٹھانے اور تنقیدی نقطہ نظر کا رویہ پروان چڑھ سکے۔ بلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ کے چیئرمین گلاب خان خلجی جو ایک ماہر ِ تعلیم ہیں کا بنیادی زور اس بات پر تھا کہ تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو جدید خطوط پر استوار ہونا چاہیے اور ایسا نصاب رائج ہونا چاہیے کہ طالب علم کی سوچ کا دائرہ وسیع ہوجائے۔ آغا خان یونیورسٹی کے تعلیم کی فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر فرید پنجوانی نے ایک اور سیشن میں اپنے مقالہ میں کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کے ایک Sustainable Society میں مربوط استعمال کے لیے چار بنیادی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ ان شرائط میں Cognitive یعنی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جانا ضروری ہے، یہ ٹیکنالوجی معاشی تحفظ کے لیے ضروری ہونی چاہیے۔

اسی طرح جدید ٹیکنالوجی سے تدریسی کا عمل آسان اور واضح ہونا چاہیے۔ ڈاکٹر پنجوانی نے موجودہ معاشی نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی نظام سے عام آدمی کی زندگی کا معیار گرتا جارہا ہے اور ایک مخصوص طبقہ ہر طرح کا نفع کما رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کے سوشل سائنس کے ڈین ڈاکٹر یعقوب بنگش نے اپنے مقالہ میں کہا کہ موجودہ دور میں طالب علموں کو یادداشت کی بنیاد پر نصاب کو یاد کرنے کے طریقہ کار سے چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا اور تخلیقی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے تنقیدی رویہ کو اپنانا چاہیے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جدید ٹیکنالوجی A.I کا غلط مفہوم نکالا گیا ہے اور اس جدید ٹیکنالوجی کو منفی انداز میں استعمال کیا جارہا ہے اور اب طالب علموں کو مزید اطلاعات حاصل کرتے پر تکیہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے زندگی کے ہر شعبہ میں نئے زاویے تلاش کرنے چاہئیں۔ ڈاکٹر بنگش کا کہنا تھا کہ تعلیم محض روزگار کے حصول کا ذریعہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ تعلیم کے ذریعے معاشرے کی ترقی کو اہمیت دی جانی چاہیے۔

 معروف ماہر ِ معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے ایک سیشن میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے بارے میں رائے دیتے ہوئے کہا کہ یہ پروگرام غربت کے خاتمے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا بلکہ اس کا مقصد عورتوں کی آمدنی میں اضافہ کرنا تھا۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی اس پروگرام کے موجد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس پروگرام کے تحت رقم کی تقسیم میں بعض مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں بینک کا عملہ خواتین کو پور ی رقم نہیں دیتا اور خواتین کو بہت دور سے یہ رقم لینے کے لیے بینکوں کے دفاتر آنا پڑتا ہے۔ ڈاکٹر قیصر کہتے ہیں کہ اس پروگرام میں بدعنوانی کی شرح کم ہے ، یہ بدعنوانیاں بینکوں کے عملہ کی نااہلی یا کرپشن کی بناء پر پیدا ہوئی ہیں۔

اس بناء پر اب بے نظیر انکم سپورٹ کی رقم کی تقسیم کا کا م محکمہ ڈاکخانہ کے سپرد کیا جائے اور اب پوسٹ مین خواتین کے گھر جا کر یہ رقم ادا کرے گا اور پوسٹ مین کے ذریعے اس کا ریکارڈ متعلقہ سیکشن تک منتقل ہوجائے گا۔ امریکا میں مقیم پاکستانی صحافی اور امن تحریک کی متحرک رکن بینہ سرور نے ایک سیشن میں اظہاررائے کرتے ہوئے کہا کہ Para Journalism کے اس دور میں سوشل میڈیا استعمال کرنے والے عناصر سوشل میڈیا کے دلدادہ ہوگئے ہیں۔ ان صحافیوں نے کوئی تربیت حاصل نہیں کی ہے جس کی بناء پر سوشل میڈیا پر پایا جانے والا بیشتر مواد معروضیت کے اصولوں کی دھجیاں اڑاتا ہے۔

بینہ سرور نے رائے دی کہ سوشل میڈیا پر مواد وائرل کرنے والے عناصر کے احتساب کا کوئی مہذب طریقہ ہونا ضروری ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا استعمال کرنے والے عام لوگوں پر زور دیا کہ وہ کسی ایسے مواد کو فارورڈ نہ کریں جس کے حقائق کی تصدیق نہ ہوئی ہو۔ وہ کہتی ہیں کہ خاص طور پر صحافیوں اورسوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر فرد پر اخلاقی پابندیوں کا اطلاق ہونا چاہیے۔ ماہرین نے ایک سیشن میں عوام کے تحفظ کے لیے رائج ہونے والے مختلف سوشل پروٹیکشن سسٹم کا جائزہ لیا گیا۔ مختلف شعبوں کے ماہرین کا کہنا تھا کہ ملک میں چار کے قریب سوشل پروجیکٹس کے اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔

اس سیشن میں شریک تمام شرکاء نے یہ رائے دی تھی کہ غربت کی سطح کسی صورت کم نہیں ہواپرہی ہے، دوسری طرف سوشل تحفظ کی مختلف اسکیموں پر عمل ہورہا ہے۔ ان میں خامیوں کے باوجود لاکھوں لوگ ان پروگراموں سے مستفید ہورہے ہیں مگر معاشرے سے غربت کا خاتمہ نہیں ہورہا۔ زیبسٹ کے استاد ڈاکٹر ریاض شیخ اور زیبسٹ کی صدر شہناز وزیر علی مبارکباد کے مستحق ہیں کہ ان کی یونیورسٹی نے اس اہم مسئلہ پر کانفرنس منعقد کی۔ اس طرح کی کانفرنس ملک کی دیگر جامعات میں بھی منعقد ہونی چاہئیں تاکہ جدید ٹیکنالوجی سے سماج کی بہتری کے لیے کاموں کے معیار کو بہتر بنانے پر غور کیا جائے۔

……

نوٹ:’’برصغیر میں عدالتی نظام کا ارتقاء‘‘ اس عنوان کے تحت شائع ہونے والے آرٹیکل کی آخری لائن کو یوں پڑھنا چاہیے:

’’ گزشتہ مہینوں میں ہونے والی آئینی ترامیم سے انتظامیہ کی عدلیہ پر بالادستی بڑھ گئی ہے۔‘‘

Load Next Story