دولت سے آگے کا سفر

علامہ عبدالستار عاصم سے شناسائی ‘ چند سالوں پرمحیط ہے۔ملاقاتیں بھی کافی ہیں۔ کمال انسان ہیں۔

علامہ عبدالستار عاصم سے شناسائی ‘ چند سالوں پرمحیط ہے۔ملاقاتیں بھی کافی ہیں۔ کمال انسان ہیں۔ مرنجان مرنج‘ اپنی دھن میں مست اور خلوص کا پیکر ۔ مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ ایک باکمال لکھاری بھی ہیں۔ ان کی محبت ہے کہ اپنی کتاب ’’ٹریلین ڈالرکی کتاب‘ دولت سے آگے کا سفر‘‘ مجھے بھجوائی۔ عنوان اتنا منفرد تھا کہ نظر اس پر ٹھہر گئی۔ پڑھنی شروع کی تو جہان حیرت کھل گیا۔ ایک سو ایک ‘ ایسی شخصیات کا ذکر تھا ۔

جنہوں نے دنیا بدل کر رکھ دی۔ ہاں ایک اور قیمتی بات‘ اس تحقیق میں کسی قسم کی نسلی‘ فکری یا مذہبی عصبیت نہیں ہے۔ وہ عظیم افراد‘ جنہوں نے بنی نوع انسان کے لیے متعدد نئی‘ علمی ‘ فنی‘ فکری اور عملی جہتیں وا کر ڈالیں ، ان کا ایک نسخہ میں ذکر‘ حد درجہ خوشگوار حیرت ہے۔ علامہ صاحب‘ قلم اور علم کے دھنی بھی ہیں۔ کم از کم‘ اس تحریر سے تو یہی ثابت ہوتا ہے۔

 برادرم فرید احمد پراچہ نے کیا خوب درج کیا ہے۔یہ تصنیف دنیا کی 101ممتاز شخصیات کے احوال‘ کارہائے نمایاں اور اثرات کا ایک خوبصورت انتخاب پیش کرتی ہے۔ مصنف نے ان شخصیات کو محض زمانی ترتیب میں نہیں بلکہ مختلف شعبہ ہائے زندگی کے تحت منظم کیا ہے۔ طبیعیات ‘ کیمسٹری‘ فلکیات‘ فلسفہ‘ سرجری‘ عسکری قیادت‘ ادب‘ اردو شاعری‘ خدمت انسانیت‘ کھیل اور اسلامی تحریک و دیگر میدانوں سے تعلق رکھنے والی یہ ہستیاں اس حقیقت کی نمایندہ ہیں کہ انسانی عظمت کسی ایک دائرے تک محدود نہیں‘ بلکہ ہر وہ شعبہ جہاں انسان نے خیر اور بہتری کا اضافہ کیا‘ وہی اس کی اصل پہچان بنا۔

ڈاکٹر انوار بگوی رقم طراز ہیں:بلاشبہ اس دلچسپ کتاب کو عام پھیلانے کی ضرورت ہے۔ مسلسل بارش کی مانند علامہ عبدالستار کتابوں کو شائع کرتے چلے جاتے ہیں، کتابیں ہی کتابیں ۔نجانے وہ اپنے دفتر میں کہاں بیٹھتے ہیں کیونکہ وہاں تو ہر طرف کتابوں کا ڈیرہ ہے۔ مختلف موضوعات پر لا تعداد کتابیں جن کا شمار اب نہ ان کو یاد ہے اور نہ شاید ان کے رفقاء کو۔ تازہ ان کی تالیف کا موضوع ایک بار تو چونکا دینے والا ہے۔ اس میں ہر قوم‘ دیس دیس کے اہل علم اور اہل فن کے کارناموں کا ذکر ہے۔ جنہوں نے اپنے مقصد کیلیے اپنی توانائیاں صرف کیں اور اپنی تحاریر اور تحقیقات سے دنیا کو بہت کچھ دیا۔

مختصر سے کالم میں‘ تمام لکھی گئی شخصیات کا ذکر تو نہیں کر سکتا۔ مگر‘ چند لوگوں کی بابت ضرور ذکر کروں گا۔ اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں ‘ کہ جو عظیم لوگ‘ زیر قلم نہیں‘ ان کی بڑائی میں کوئی فرق ہے۔ یقین فرمائیے۔ ایک سے بڑھ کر ایک عظمت کے مینار ایستادہ ہیں۔

ایڈم اسمتھ:اقتصادیات میں انقلاب: 1776ء میں Smithکی سب سے مشہور اور انقلابی کتاب ’’An Inquiry into the Nature and Causes of the Wealth of Nations‘‘ شائع ہوئی۔ اس کتاب میں انھوں نے معیشت کی بنیادیں درج ذیل انداز میں بیان کیں۔

پیداوار اور مزدوری کا اصول: مزدور کی محنت معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

تقسیم کام: ایک کام کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے سے پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔

بازار کی خود کار قوت: مارکیٹ کی خود کار قوتیں وسائل کی مناسب تقسیم اور معاشرتی بھلائی کو یقینی بناتی ہیں۔

سرکاری مداخلت کا محدود کردار: حکومت صرف دفاع‘ عدلیہ اور بنیادی انفراسٹرکچر فراہم کرے۔

یہ کتاب عالمی اقتصادیات کے لیے سنگ میل ثابت ہوئی اور اسے جدید معاشیات کا ستون کہا جاتا ہے۔

فلورنس ٹائٹن گیل:کریمیا کی جنگ اور خدمات: فلورنس گیل کی خدمات کا سب سے اہم باب Crimean War کے دوران سامنے آیا۔ انھوںنے زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال کے لیے ترکی کے اسپتالوں میں کام کیا‘ جہاں حالات نہایت خراب تھے۔ اسپتالوں میں صفائی کا فقدان‘ ادویات کی کمی‘ اور ناقص انتظامات تھے‘ جس کی وجہ سے زیادہ تر فوجی بیماریوں سے ہلاک ہو رہے تھے۔ فلورنس نے ان حالات کو بدلنے کے لیے سخت محنت کی۔ انھوں نے صفائی کے اصول متعارف کروائے‘ اسپتالوں کے نظام کو بہتر بنایا‘ اور مریضوں کی دیکھ بھال کے معیار کو بلند کیا۔

 ژاں پال سارتر:وجودیت (Existentialism) کا تصور: سارتر کے مطابق انسان پہلے سے طے شدہ نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی زندگی خود بناتا ہے۔ ان کا مشہور قول ہے: وجود پہلے ہے‘ ماہیت بعد میں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان پہلے دنیا میں آتا ہے اور پھر اپنے اعمال اور فیصلوں کے ذریعے اپنی شناخت بناتا ہے۔ یہ نظریہ جدید فلسفے میں ایک انقلاب کی حیثیت رکھتا ہے۔

آزادی اور ذمے داری کا فلسفہ:سارتر کاماننا تھا کہ انسان مکمل طور پر آزاد ہے‘ لیکن اس آزادی کے ساتھ ذمے داری بھی آتی ہے۔ انسان اپنے اعمال کا ذمے دار خود ہوتا ہے۔ اس کے فیصلے ہی اس کی شخصیت کا تعین کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کوئی بھی انسان اپنی حالت کے لیے دوسروں یا حالات کو مکمل طور پر مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتا۔

مائیکل اینجلو: مائیکل اینجلو کی مجسمہ سازی میں سب سے اہم خصوصیات حقیقت پسندی ‘ انسانی جسم کی گہرائی ‘ جذبات کی عکاسی‘ اور تناسب کی باریک بینی ہیں۔انھوں نے انسانی جسم کی ساخت‘ عضلات‘ اور حرکات کو نہایت نفاست سے مجسموں میں منتقل کیا۔ ان کے مشہور شاہکاروں میں درجہ ذیل مجسمے شامل ہیں:

David:یہ مجسمہ انسانی قوت‘ حوصلہ اور جمالیاتی تناسب کی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں جسم کے ہر عضوی تناسب اور چہرے کے تاثرات حیرت انگیز حقیقت پسندی کی علامت ہیں۔

Moses: یہ مجسمہ مذہبی اور فکری کشمکش کی علامت ہے‘ جس میں چہرے کے تاثرات اور جسمانی توانائی غیر معمولی انداز میں ظاہر کی گئی ہے۔ ان کی مجسمہ سازی کا سب سے بڑا کمال یہ تھا کہ وہ پتھر میں جان ڈال دیتے تھے۔

الرازی:الرازی نے کیمسٹری کو ایک منظم سائنسی علم کی شکل دی۔مادوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا‘ جیسے کہ ٹھوس (Solids) ‘ مائع (Liquids) ‘ اور گیس (Gases)۔ کیمیائی تجربات کے لیے مختلف آلات بھی تیار کیے‘ جیسے کہ Distillation apparatus جس سے مادوں کو علیحدہ کرنے میں مدد ملتی تھی۔ الرازی نے سلفیورک ایسڈ (Sulfuric Acid) جیسے اہم کیمیائی مرکبات کی تیاری میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تحقیق نے بعد کے سائنسدانوں کے لیے بنیاد فراہم کی اور کیمسٹری کو ایک جدید سائنس بنانے میں مدد دی۔

سگمنڈ فرائیڈ: فرائیڈ نے انسانی شخصیت کو تین حصوں یعنی Id‘Ego اور Superego میں تقسیم کیا اور بتایا کہ انسان کی زندگی ان تینوں کے درمیان توازن کا نام ہے۔ Idبنیادی خواہشات اور جبلتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ Ego حقیقت کے اصولوں کے مطابق ان خواہشات کو قابو میں رکھتا ہے‘ جب کہ Superegoاخلاقی اقدار اور سماجی اصولوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ تینوں عناصر مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ کشمکش میں رہتے ہیں اور یہی کمشکش انسانی شخصیت کو تشکیل دیتی ہے‘ جسے فرائیڈ نے انتہائی گہرائی کے ساتھ بیان کیا۔

پکاسو:پابلوپکاسو نے Cubismکے ذریعے آرٹ میں ایک انقلابی تبدیلی پیدا کی ۔ انھوں نے Georges Braque کے ساتھ مل کر اس نئے اسلوب کو فروغ دیا۔Cubismمیں اشیاء اور انسانوں کو جیو میٹریائی اشکال میں تقسیم کر کے مختلف زاویوں سے ایک ساتھ دکھایا جاتا ہے‘ جو روایتی حقیقت نگاری سے بالکل مختلف تھا۔ان کے مشہور فن پاروں میں Les Demoiselles Davignon شامل ہے۔ جس نے آرٹ کی دنیا میں ہلچل مچا دی۔ اسی طرح Guernica ایک عظیم شاہکار ہے جو جنگ کی تباہی اور انسانی المیے کو طاقتور انداز میں پیش کرتا ہے۔ پکاسو کے Cubismنے نہ صرف پینٹنگ بلکہ مجسمہ سازی‘ ڈیزائن اور جدید آرٹ کے دیگر شعبوں کو بھی متاثر کیا۔

نوم چومسکی: نوم چومسکی کی علمی خدمات میں ان کی تصانیف کو خاص مقام حاصل ہے۔ ان کی کتاب ’’Syntactic Strutctures‘‘ لسانیات میں ایک انقلاب کا باعث بنی ‘ جس میں انھوں نے جملوں کی ساخت اور تبدیلیاتی قواعد کی وضاحت کی۔ اسی طرح ’’ Aspects of the Theory of Syntax‘‘ میں انھوںنے زبان کی فطری صلاحیت اور ذہنی قواعد پر تفصیلی بحث کی۔

علامہ عاصم‘ کی یہ کتاب ایک انسائیکلوپیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔ خدا کرے‘ ان کا یہ علمی سفر‘ اسی جذبہ سے سرشار رہے۔ اوروہ ادبی تشنگی کو کم کرتے رہیں!

Load Next Story