آبنائے ہرمز کا کنٹرول اور ٹیکس وصولی؛ آئینی بل ایران کی اعلیٰ کونسل میں جمع
ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول ٹیکس لے رہا ہے (اے آئی، تصوراتی تصویر)
ایران نے آبنائے ہرمز میں اپنی گرفت کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ’’لیگل رجیم بل‘‘ تیار کرلیا ہے جسے منظوری کے لیے گارڈین کونسل بھیجا گیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق اگر یہ بل گارڈین کونسل سے منظور ہوجاتا ہے تو باضابطہ قانون بن جائے گا اور پاسداران انقلاب کے پاس آبنائے ہرمز سے ٹول ٹیکس لینے اور جہازوں کو اجازت دینے یا نہ دینے کا اختیار آجائے گا۔
اس حوالے سے ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے مزید بتایا کہ ایرانی پارلیمنٹ کی سرگرمیاں بحال ہوتے ہی بل منظور کرلیا جائے گا۔
خیال رہے کہ فروری کے آخر سے شروع ہونے والی جنگ کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کا پہلاک اجلاس آج ہونے جا رہا ہے جس میں اس بل کی منظوری متوقع ہے۔
قبل ازیں ویڈیو بیان میں سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حیثیت ایران کے لیے دفاعی نوعیت کی حامل ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہ جغرافیائی برتری ایران کی اصل طاقت بن چکی ہے جسے دنیا نظر انداز نہیں کرسکتی۔ آبنائے ہرمز دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہونے والا حساس ترین مقام ہے۔
محمد مخبر نے اعتراف کیا کہ ایران نے کئی دہائیوں تک اپنی اس جغرافیائی برتری سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا لیکن اسرائیل امریکا کی مسلط کی گئی حالیہ جنگ نے ایسا کرنے پر مجبور کیا۔
انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایسی طاقت ہے جس کے ذریعے ایک فیصلہ عالمی تیل منڈیوں، توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی تجارت کو متاثر کرسکتا ہے۔
محمد مخبر نے مزید کہا کہ ایران اب آبنائے ہرمز کے نظام میں تبدیلی لانے کی کوشش کرے گا چاہے یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ہو یا یکطرفہ طور پر کیا جائے۔
یاد رہے کہ دنیا بھر میں سمندر کے ذریعے منتقل ہونے والے خام تیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جسے ایران نے 28 فروری سے بند کر رکھا ہے۔
فروری کے آخری روز اسرائیل اور امریکی حملے میں آیت اللہ خامنہ ای پوری عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے تھے جس کے جواب میں آبنائے ہرمز بند کردی گئی تھی۔