ڈاکٹرسارنگ قتل کیس، اہلیہ کو حراست میں نہیں لیا گیا، پولیس
فوٹو: فائل
کراچی کی مصروف ترین شاہراہ شارع فیصل پر نامعلوم افراد کی فائرنگ میں جاں بحق ہونے والے ڈاکٹر سارنگ قتل کیس کے حوالے سے پولیس کے تفتیشی ذرائع نے اہم وضاحت جاری کی ہے۔
پولیس کے تفتیشی ذرائع نے ڈاکٹر سارنگ قتل کیس میں مقتول کی اہلیہ کو حراست میں لینے کی تردید کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں دوسری بار بیان قلمبند کرنے کیلیے طلب کیا گیا تھا۔
تفتیشی ذرائع نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے نے مقتول کی اہلیہ کا ویڈیو کال پردوسری بار بیان ریکارڈ کیا جبکہ پہلا بیان واقعے کے بعد آرٹلری تھانے میں قلمبند کیا گیا تھا۔
تفتیشی پولیس نے مقتول ڈاکٹرسارنگ کی اہلیہ کو حراست میں لینے کی تردید کرتے ہوئے ایسی خبروں کو بے بنیاد قرار دیا جبکہ مقتول کےلواحقین نے گزشتہ روزبدین میں پریس کانفرنس کرتےہوئے ڈاکٹرسارنگ کی اہلیہ کوحراست میں لیےجانےکی بھی تردید کی تھی۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر سارنگ کو 21 اپریل کی رات شارع فیصل میٹرول پول کے قریب اہلیہ کے ساتھ گھر جاتے وقت رکشے سے اتار کر قتل کیا تھا جس کے بعد ملزمان گاڑی میں فرار ہوگئے تھے۔
پولیس نے واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی کو کراچی کے علاقے ملیر سے برآمد بھی کرلیا تھا۔
ڈاکٹر سارنگ گلستان جوہر اور کورنگی کے دو مختلف اسپتالوں میں نوکری کرتے تھے۔