وزیراعلیٰ سندھ کا بی آر ٹی ریڈ لائن اور شاہراہِ بھٹو منصوبوں کا دورہ، تعمیراتی کام تیز کرنے کی ہدایت

تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اتوار کے روز کراچی کے دو بڑے زیر تعمیر ترقیاتی منصوبوں  بی آر ٹی ریڈ لائن لا نمائش تا موسمیات مکسڈ ٹریفک کوریڈور اور شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے  کا تفصیلی دورہ کیا اور متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ تعمیراتی سرگرمیوں میں تیزی لائی جائے اور منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔

صوبائی وزیر سعید غنی، میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر کراچی حسن نقوی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، واٹر بورڈ کے ایم ڈی احمد صدیقی، کے الیکٹرک، سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس  ایس جی سی)، ایف ڈبلیو او اور ٹرانس کراچی کے اعلیٰ حکام کے ہمراہ وزیراعلیٰ سندھ نے منصوبوں کے مختلف حصوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔

انہوں نے  زور دیا کہ شہریوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ طویل عرصے سے جاری تعمیراتی کاموں کے باعث کراچی کے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے، اس لیے تمام متعلقہ ادارے آئندہ تین ماہ کے دوران ٹریفک مینجمنٹ، نکاسی آب اور سڑکوں کی بحالی میں واضح بہتری یقینی بنائیں۔

انہوں نے کہا  کہ یہ ایک ہفتے کے دوران بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا میرا چوتھا دورہ ہے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ ہر رکاوٹ ختم ہو اور تمام اہداف بروقت حاصل کیے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر ہفتے ذاتی طور پر منصوبے کی نگرانی کریں گے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کا دورہ دائود انجنیئرنگ یونیورسٹی سے شروع کیا اور نیپا، سوک سینٹر، اردو یونیورسٹی، پرانی سبزی منڈی اور دیگر زیرِ تعمیر حصوں تک جاری کاموں کا جائزہ لیا۔

سی ای او ٹرانس کراچی زبیر چنہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو مکسڈ ٹریفک لینز، یوٹیلیٹی شفٹنگ اور نکاسی آب کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے حکام کو ہدایت کی کہ مسافروں کی سہولت کے لیے مکسڈ ٹریفک لینز کی بحالی کا عمل تیز کیا جائے اور تمام ادارے باہمی رابطے کے ساتھ کام کرتے ہوئے تعمیراتی رکاوٹیں دور کریں۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ نمائش سے موسمیات تک مکسڈ ٹریفک لین پر اسفالٹ پیچ ورک مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ 1700 میٹر سے زائد سب گریڈ کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔

انہیں مزید آگاہی دیتےہوئے بتایا گیا کہ ایگریگیٹ بیس، ڈرینج پائپ لائنز اور واٹر لائن شفٹنگ کا کام تیزی سے جاری ہے۔

حکام کے مطابق 48 انچ قطر کی واٹر لائن کی منتقلی آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے جبکہ مرکزی ایم ایس واٹر لائن پر 63.64 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سروس روڈز کے اطراف باکس ڈرینز اور پائپ ڈرینز کی تعمیر کا جائزہ لیا اور نکاسی آب کے کاموں میں اضافی نائٹ شفٹس چلانے کی ہدایت دی۔

انہوں نے یوکے اپارٹمنٹس کے قریب زیر تعمیر فلائی اوور اور یو ٹرن کا بھی معائنہ کیا اور ہدایت دی کہ وہاں ڈائیورژن کا کام آئندہ ایک ہفتے میں مکمل کیا جائے۔ سید مراد علی شاہ نے ممتاز منزل کے قریب زیر تعمیر فلائی اوور پر فوری کام شروع کرنے کا حکم دیا اور نیپا کے اطراف سڑکیں کشادہ کرنے اور رکاوٹیں ہٹانے کی ہدایت دی تاکہ ٹریفک کا دباؤ کم ہوسکے۔

وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ان کی گزشتہ ہفتے کی ہدایات پر موسمیات فلائی اوور اور کراچی یونیورسٹی یو ٹرن پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے دونوں منصوبے ایک ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت دی۔

فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) حکام نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ریڈ لائن کوریڈور پر ہنگامی بنیادوں پر کام جاری ہے اور بروقت تکمیل کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

بریفنگ کے مطابق مکسڈ ٹریفک لین سب گریڈ ورک پر 6.64 فیصد، ایگریگیٹ بیس ورک پر 2.90 فیصد جبکہ 600 ملی میٹر پائپ ڈرین کے کام پر 10.70 فیصد پیش رفت ہوچکی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے ہدایت دی کہ تعمیراتی مقامات پر باقاعدگی سے پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ گرد و غبار پر قابو پایا جاسکے اور شہریوں کو کم سے کم پریشانی ہو۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ میرا مقصد کراچی کے عوام کو جلد از جلد عالمی معیار کا ٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبہ کراچی کے مستقبل کے شہری ٹرانسپورٹ نیٹ ورک کی بنیاد ہے۔ 

شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے

بعد ازاں وزیراعلیٰ سندھ نے شاہ فیصل انٹرچینج سے کاٹھوڑ انٹرچینج تک شاہراہِ بھٹو ایکسپریس وے منصوبے کا دورہ کیا اور مختلف انٹرچینجز اور فلائی اوورز پر جاری کاموں کا جائزہ لیا۔

دورے کا آغاز شاہ فیصل کالونی کے قریب عظیم پورہ فلائی اوور سے کیا گیا، جو شاہراہِ بھٹو سے ایئرپورٹ جانے والی ٹریفک کی سہولت کے لیے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے یاد دلایا کہ انہوں نے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کو عظیم پورہ فلائی اوور 100 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت دی تھی اور کہا کہ اس میں سے 61 دن گزر چکے ہیں۔

میئر کراچی نے یقین دہانی کرائی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے ڈملوٹی اور دمبا گوٹھ انٹرچینجز کا بھی معائنہ کیا اور حکام کو ہدایت دی کہ باقی ماندہ کام ایک ہفتے میں مکمل کیے جائیں۔

پراجیکٹ ڈائریکٹر نیاز سومرو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ شاہراہِ بھٹو منصوبے پر مجموعی طور پر 93 فیصد فزیکل کام مکمل ہوچکا ہے اور منصوبہ 30 جون 2026 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔ 38 کلومیٹر طویل یہ ایکسپریس وے جام صادق انٹرچینج سے کاٹھوڑ انٹرچینج تک پھیلا ہوا ہے اور اس کا آغاز 12 مئی 2022ء کو کیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ قائدآباد انٹرچینج سے آر ڈی 19 تک اضافی چار کلومیٹر پل کی تعمیر اور رہائشیوں کی بے دخلی سے بچنے و اراضی کے حصول کے مسائل حل کرنے کے لیے روٹ میں تبدیلیوں کے باعث منصوبے کے دائرہ کار میں توسیع کی گئی۔

حکام کے مطابق شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے کے تمام پل مکمل ہوچکے ہیں، صرف آر ڈی 36 پر لنک روڈ کاز وے برج کا تقریباً 50 فیصد کام باقی ہے۔

بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ایکسپینشن جوائنٹس پر 80 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے جبکہ باقی کام آئندہ 10 دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اسی طرح اسفالٹ وئیرنگ کورس کا 85 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ٹول پلازہ مکمل ہوچکا ہے جبکہ آر ڈی 37  سے آر ڈی 38 تک باقی کام آئندہ 15 دن میں مکمل کر لیا جائے گا۔ سید مراد علی شاہ نے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ شاہراہِ بھٹو کے تمام باقی ترقیاتی کام مئی کے تیسرے ہفتے تک مکمل کیے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ شاہراہِ بھٹو کو کراچی پورٹ سے ملانے والے منصوبے کا سنگِ بنیاد ایکسپریس وے کی افتتاحی تقریب کے ساتھ رکھا جائے گا۔

انہوں نے زور دیا کہ کراچی کے انفراسٹرکچر منصوبے غیر ضروری تاخیر کے بغیر مکمل کیے جائیں تاکہ شہری بہتر سفری سہولیات، کم سفر کے وقت اور جدید ٹرانسپورٹ نظام سے مستفید ہوسکیں۔

Load Next Story