جامعہ کراچی: علم کی بستی یا مسائل کا قبرستان؟
جامعہ کراچی محض ایک عمارت یا چند شعبوں کا نام نہیں، بلکہ یہ پاکستان کا وہ منی ایچر ہے جہاں ملک کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والے ہر رنگ و نسل سے تعلق رکھنے والے طلبا موجود ہیں اور ہر سال مادر علمی ان کو ہمیشہ خوش آمدید کہتی ہے یہ وہ مادرِ علمی ہے جس کے فارغ التحصیل افراد نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ لیکن افسوس کہ آج اس عظیم درسگاہ کا حال دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔
آج کا طالب علم جس ذہنی دباؤ اور اذیت سے گزر رہا ہے، اس کی مثال شاید ہی کہیں اور ملے۔ ایک طرف اساتذہ اور انتظامیہ کے مابین جاری رسہ کشی اور مالیاتی بحران ہے، تو دوسری طرف ان سب کے درمیان پسنے والا صرف اور صرف ’طالب علم‘ ہیں اور ہمارے مستقبل کو داؤ پر لگا دیا گیا ہے۔ امتحانات کا بروقت نہ ہونا اور تعلیمی نظام میں تعطل ہمیں نہ صرف تعلیمی طور پر پیچھے دھکیل رہا ہے بلکہ ہمیں ذہنی مریض بھی بنا رہا ہے۔
یونیورسٹی روڈ اور بسوں کی حالت نے ہمیں خودغرض بنا دیا، جہاں ہم اپنی سیٹ اور بس میں محض بس کے گیٹ پر کھڑے ہونے کے لیے دوڑ لگا لیتے ہیں اور دوسروں سے زبردستی سیٹ بھی لیتے ہیں لڑائی جھگڑا روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس شدید گرمی میں لڑکیوں کا بے ہوش ہونا بھی روز کا معمول ہے۔ اس کمر توڑ مہنگائی کے دور میں، جہاں ایک عام گھرانہ بمشکل اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کر رہا ہے وہاں ہم طلبا اپنی جیبوں سے بھاری کرایہ ادا کرکے یونیورسٹی پہنچتے ہیں۔ اس صورتحال سے یہ بات واضح ہے کہ یونیورسٹی کی اپنی بسوں (پوائنٹس) کی حالت اب ایسی نہیں رہی کہ ان میں انسان سفر کرسکے۔
’یونیورسٹی روڈ‘ کی خستہ حالی ایک الگ عذاب ہے اور ہمارے حکمران، گورنر سندھ، وزیر اعلیٰ، شاید کبھی کبھار یہاں سے اپنی پروٹوکول کی گاڑیوں میں گزرتے ہوں گے اور سڑک پر کچھ دیر کے لیے چکر لگا کر اور گڑھوں پر سے ’جمپ‘ لگا کر اپنی اچھی صحت کا ثبوت دیتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، لیکن اگر انہیں روزانہ ہماری طرح ان ٹوٹتی سڑکوں پر دھول اور جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑے، تو یقیناً وہ بھی ذہنی مریض بن جائیں گے۔
طلبا سے فیسیں تو بروقت لی جاتی ہیں، اور اگر کوئی مجبوری میں ادا نہ کر پائے تو ڈگری کے وقت جرمانے سمیت وصولی کی جاتی ہیں، مگر سہولیات کے نام پر صرف ’ذہنی اذیت‘ دی جا رہی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس عظیم ادارے کو مفلوج کون کر رہا ہے؟ وہ کون سی ’کالی بھیڑیں‘ ہیں جو اب تک قابو میں نہیں آئیں؟ کیوں اساتذہ کو ان کے حقوق سے محروم رکھ کر امتحانات کے بائیکاٹ پر مجبور کیا جاتا ہے؟ اور کیوں ان انتظامی مسائل کا حل نکالنے کے بجائے طلبا کے مستقبل سے کھیلا جا رہا ہے؟
ہماری پکار کون سنے گا؟ ہم مستقبل کے معمار ہیں، ہمیں ذہنی اذیت سے نجات دلائی جائے۔ ہمیں ایک ایسا پرسکون تعلیمی ماحول فراہم کیا جائے جہاں ہم اپنے ملک کی ترقی کے لیے کام کرسکیں۔ جامعہ کراچی کو سیاسی اور انتظامی تجربہ گاہ بنانے کے بجائے اسے دوبارہ علم و تحقیق کا گہوارہ بنایا جائے۔
اعلیٰ حکام سے پرزور اپیل ہے کہ یونیورسٹی روڈ کی تعمیرِ نو، ٹرانسپورٹ کی بہتری اور انتظامی مسائل کو فی الفور حل کیا جائے تاکہ ہم اپنی ڈگریاں بروقت مکمل کر کے ایک اچھے ٹریک پر جا سکیں۔ کیا کوئی ہے جو ہماری پکار سنے گا؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔