ورکرز ویلفیئر فنڈ کی وصولی کا تنازع؛ سندھ ریونیو بورڈ کے ریفرنسز جرمانے کے ساتھ خارج

ریفرنسز نہ صرف قانونی دائرہ اختیار سے باہر بلکہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں، جسٹس آغا فیصل

کراچی:

سندھ ہائیکورٹ نے ورکرز ویلفیئر فنڈ کی وصولی کے تنازع پر سندھ ریونیو بورڈ کے دو ریفرنسز جرمانے کے ساتھ خارج کر دیے۔

عدالت نے سندھ ریونیو بورڈ پر مجموعی طور پر دو لاکھ روپے جرمانہ عائد کر دیا۔

جسٹس آغا فیصل نے ریمارکس دیے کہ ریفرنسز نہ صرف قانونی دائرہ اختیار سے باہر بلکہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ ڈالنے کا باعث بن رہے ہیں۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سندھ ورکرز ویلفیئر فنڈ ایکٹ 2014 کے تحت صوبہ فنڈ کے وصولی کا مجاز ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ مشترکہ مفادات کونسل نے 2019 میں متفقہ طریقہ کار طے ہونے تک ورکرز ویلفیئر فنڈ اور ای او بی آئی وفاقی حکومت کے پاس رکھنے کا فیصلہ کیا تھا، سندھ سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ 2011 کی سیکشن 63 کے تحت ریفرنس میں کسی قانون کی آئینی حیثیت کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون کو چیلنج کرنے کے لیے صرف آئینی درخواستوں کے ذریعے اختیار چیلنج کیا جا سکتا ہے، مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلوں کو چیلنج کرنے کا فورم پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہے، یہ اختیار بھی وفاقی اور صوبائی حکومت کے پاس ہے۔

کیس میں عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ تین ریفرنسز پہلے مسترد ہونے کے باوجود دوبارہ ریفرنس دائر کرنا عدالتی وقت کے ضیاع کے مترادف ہے، سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے غیر ضروری مقدمات دائر کرنا عوامی وسائل کے ضیاع کا سبب بنتا ہے، چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ کا ریفرنس کو میرٹ پر قرار دینا قانون سے لاعلمی ہے۔

درخواست گزار 7 یوم کے دوران جرمانے کی رقم سندھ ہائی کورٹ کے کلینک میں جمع کروائیں۔

Load Next Story