کیا ہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے اور لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ فضل الرحمان
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ دو صوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں کیا ہم صرف معرکہ حق کا جشن مناتے رہیں گے اور لوگوں کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟
قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بارہا اس فلور پر اس ملک کے حالات پر بات کی ہے، ہماری گفتگو قوم کو براہ راست نہیں سنائی جارہی، یہاں اس ایوان میں حکومت اور اپوزیشن برابر ہیں، ہر حلقے کے عوام اپنے منتخب نمائندے کو ایوان میں سننا چاہتے ہیں، اپوزیشن ارکان کی آواز اس ایوان سے باہر نہیں جانے نہیں دی جارہی، آج میں اس ایوان میں خون کے ماحول میں بات کررہا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ میری جماعت کے ارکان قومی اسمبلی مولانا معراج الدین، مولانا نور محمد اور مولانا ادریس سمیت کتنے ہی شہید ہوچکے ہیں، ہم آئین کے ساتھ کھڑے ہیں جس کی ہمیں سزا دی جارہی ہے، باجوڑ میں ہم نے 80 جنازے ایک جلسے میں اٹھائے ہیں، پندرہ بیس سال سے آپریشن ہورہا ہے جو ’’مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی‘‘ کے مترادف ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ بھارت کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے بہادری دکھائی، امریکی وائٹ ہاؤس نے پہلے پاک بھارت جنگ کو ان کا معاملہ قرار دیا، جب بھارت کو مار پڑی تو مودی نے ٹرمپ کو بیچ میں ڈال کر جنگ بندی مانگی، ٹرمپ کو ہمارے وزیر اعظم نے نوبل انعام کے لیے نامزد کردیا۔
فضل الرحمان نے سوال اٹھایا کہ آبنائے ہرمز سب کے لیے بند ہے مگر تیل سب سے مہنگا پاکستان میں ہی کیوں ہے؟ بھارت کے بھی جہاز رکے ہوئے ہیں مگر وہاں تو تیل مہنگا نہیں ہوا، باقی ملکوں میں تیل مہنگا نہیں ہوا، اس ایوان کا ان کیمرہ اجلاس کیوں نہیں بلایا جارہا ہے اس ایوان کے فیصلے بڑے محلات میں ہوتے ہیں اس ایوان میں نہیں، حکمران نواز شریف کو نہیں سمجھا جارہا، شہباز شریف کہنے کو وزیر اعظم ہیں مگر صرف ترامیم لانے کے لیے ہیں، پہلے ناجائز ترامیم کی گئیں اب ایک اور آئینی ترمیم کی تیاری کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سے کہتا ہوں کہ اٹھارہویں ترمیم آپ کے دور میں ہوئی تھی، پی پی پی بتائے رفتہ رفتہ اٹھارہویں ترمیم رول بیک ہونے میں کیوں حصہ بن رہی ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو نے سب کو ساتھ لے کر آئین بنایا، آج آئین غیر محفوظ ہوچکا ہے، پی پی کا ڈھیلا ڈھالا کردار بھٹو کی روح کو تکلیف دے رہا ہے، آج پارلیمان ربڑ سٹیمپ بنتی چلی جارہی ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک ہفتہ پہلے بنوں اور وانا میں درجنوں پولیس اہلکار شہید کردئیے گئے، کیا ہم صرف معرکہ حق کے جشن مناتے رہیں گے اور لوگوں کو مرتے رہنے کے لیے چھوڑ دیں گے؟ آج دوصوبے بدامنی کا گڑھ بن چکے ہیں، آج میرے علاقوں میں کوئی حکومتی رٹ نہیں ہے، آج مساجد اور بیٹھک، سب جگہ مسلح لوگ بیٹھ چکے ہیں، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں، جب مہنگائی آپ نہیں روک سکتے جب آپ جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتے تو پھر حکومت کس بات کی؟ اب تو ہمارے اہم لوگوں کی غمی و خوشی اسلام آباد تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ٹرمپ خود ہی کسی کو اپنے لیے خطرہ قرار دیتا ہے اور اس پر چڑھائی کر دیتا ہے، ایران اچھے پتے کھیل رہا ہے، اس بار اچھی بات ہے کہ یورپ امریکا کے ساتھ نہیں، پورے خلیج میں آگ لگانے والے ہماری حکومت نوبل انعام دلوانے پر لگی ہے، ولی خان نے کہا تھا ملک کہاں جارہا ہے وہ ڈرائیور کو بھی نہیں پتا کہاں جارہا ہے اور اب بھی ڈرائیور کو پتا نہیں ملک کو کہاں لے کر جارہا ہے۔
ایک پی ٹی آئی رکن نے طعنہ دیا کہ یہ ڈرائیورز تو آپ نے بنوائے ہیں اس پر فضل الرحمان نے کہا کہ ہمارے بھروسے توڑے گئے، ہمارے ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کرنے کا وعدہ کیا گیا مگر کچھ عمل نہیں کیا جارہا، سود کے خاتمے کی ترمیم کی گئی مگر اس طرف ذرا برابر کام نہیں ہورہا، مدارس کے سوا ہر چیز کو حکومت نجکاری کرنا چاہتی ہے، حکومت مدارس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور مرکز قانون سازی برائے مدارس کرچکا ہے بس صوبے وہی قانون سازی نہیں کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک سرکاری این جی او ڈی جی آر سی کی شکل میں بنادی گئی ہے، مدارس کے طلبا آپ کے تعلیمی بورڈز کو ٹاپ کرتے ہیں، علما کو جمہوریت کی بات کرنے پر قتل کیا جارہا ہے، سنا تھا ٹرمپ یا وفود آرہے ہیں ہمیں کہا گیا ہم نے مہنگائی کے خلاف مظاہرے منسوخ کیے، جمہوریت اب مردہ لاش ہوچکی ہے، حکومتی رویوں کی وجہ سے جمہوریت اپنا مقدمہ ہار رہی ہے، اپوزیشن کھڑی ہے ڈٹ کر کھڑی رہے گی، میں اپوزیشن لیڈر سے درخواست کروں گا کہ ایوان سے واک آؤٹ کا اعلان کریں۔