امریکا سے جنگ بندی کیلیے واحد ثالث پاکستان ہے، قطر سفارتی رابطے میں مددگار ہے؛ ایران

باضابطہ پیغام رسانی اور ثالثی پاکستان کے ذریعے ہی جاری ہے، ایرانی ترجمان وزارت خارجہ

ایران امریکا مذاکرات کل اسلام آباد میں متوقع ہیں

ایران کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ جاری جنگ بندی معاہدے کی کوششوں میں پاکستان واحد باضابطہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے جبکہ قطر سمیت دیگر ممالک بھی سفارتی رابطوں میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تہران میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ امریکا کی مسلط کی گئی جنگ پر مختلف ممالک نے ایران سے رابطے کرکے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی ترجمان اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ایران خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے تمام ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہتا ہے تاہم صرف پاکستان اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان “باضابطہ ثالث” ہے اور اس سلسلے میں اب تک مسلسل سرگرم بھی ہے۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ قطر سمیت بعض دیگر ممالک جن کے ایران اور امریکا دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، وقتاً فوقتاً ایرانی وزیر خارجہ کو اپنی تجاویز اور آراء سے آگاہ کرتے رہتے ہیں، مگر باضابطہ پیغام رسانی اور ثالثی پاکستان کے ذریعے ہی جاری ہے۔ 

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا اور دیگر بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھی پاکستان گزشتہ کئی ہفتوں سے امریکا ایران جنگ بندی کے لیے پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایران کی جانب سے پیش کردہ نیا امن منصوبہ بھی پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا۔

ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ہماری امن تجاویز میں جنگ کے خاتمے، خطے میں امن، پابندیوں کے خاتمے اور ایرانی اثاثوں کی بحالی جیسے نکات شامل کیے ہیں۔ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کرنا چاہتے لیکن کسی بھی مذاکرات میں قومی مفادات کو ترجیح دی جائے گی۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی نئی امن تجویز کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہے۔ جنگ بندی معاہدہ آخری سانسیں لے رہا ہے۔

 

Load Next Story