برطانوی وزیراعظم استعفیٰ دیدیں گے؟ ایک ایک کرکے ساتھی ساتھ چھوڑنے لگے
حکمراں جماعت کو لوکل الیکشن میں شکست کا سامنا رہا
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر پر بلدیاتی الیکشن میں ناکامی کے بعد سے 57 ارکان پارلیمان نے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا ہے جب کہ 3 ارکان پارلیمان نشستیں چھوڑ چکے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق مستعفی ارکان پارلیمان نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے اعتماد کا ووٹ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے اور نئی قیادت کو موقع دینے کی تجویز دی ہے۔
حکمراں جماعت لیبر پارٹی کے ٹکٹ پر منتخب رکنِ پارلیمان نوشابہ خان نے کابینہ آفس کی پارلیمانی پرائیویٹ سیکریٹری کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ہمیشہ اپنے حلقے کے عوام کے مفادات کو ترجیح دی اسی لیے یہ مشکل فیصلہ کیا۔
انھوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ میں نئی قیادت کا مطالبہ کرتی ہوں تاکہ عوام کا اعتماد دوبارہ بحال کیا جاسکے اور وہ بہتر مستقبل فراہم کیا جاسکے جس کے لیے برطانوی عوام نے ووٹ دیا تھا۔
اس سے قبل وزیرِ صحت کے پارلیمانی معاون جوئے مورس بھی استعفیٰ دے چکے ہیں۔ انھوں نے بھی نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم جلد مستعفی ہونے کے لیے واضح ٹائم ٹیبل دیں تاکہ نئی قیادت عوام کا اعتماد بحال کرسکے۔
اسی دوران ماحولیاتی امور کے وزیر کے معاون ٹام رٹلینڈ نے بھی استعفیٰ دیتے ہوئے کہا کہ مجھے اب وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی قیادت پر اعتماد نہیں رہا، خاص طور پر ابھرتی ہوئی اوپزیشن جماعت ریفارم یوکے کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
ادھر وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کی پارلیمانی معاون سیلی جیمسن نے بھی وزیراعظم کیئر اسٹارمر سے استعفے کے لیے ٹائم لائن دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاحال وزیراعظم اسٹارمر یا ان کے دفتر کی جانب سے ان استعفوں پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔