کیمبرج کا ریاضی کا پرچہ ایک بار پھر آؤٹ ہوگیا

12 مئی کی دوپہر ہونے والا پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا کی زینت بن گیا

فوٹو : فائل

کراچی:

کیمبرج کا ریاضی کا پرچہ ایک بار پھر آؤٹ ہوگیا، 12 مئی کی دوپہر ہونے والا پرچہ شروع ہونے سے قبل ہی سوشل میڈیا کی زینت بن گیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق آج کیمبرج کے امتحان میں طلبا جب کمرہ امتحان میں گئے تو وہی پرچہ سامنے آیا جو کئی گھنٹے پہلے سوشل میڈیا پر موجود تھا۔

آئی بی سی سی اسلام آباد کے حکام نے بھی پرچہ آؤٹ ہونے کی تصدیق کردی۔

قبل ازیں ریاضی اے لیول کا پرچہ 29 اپریل کو آؤٹ ہوا تھا جسے دوبارہ لینے کا اعلان کیا گیا، 7 مئی کو اعلان کیا گیا کہ ریاضی کا آؤٹ شدہ پرچہ 9 جون کو دوبارہ ہوگا اور اب 12 مئی کو ریاضی اے لیول کا پورا پرچہ پھر آؤٹ ہوا ہے۔

امتحانات کے دوران کچھ پرچے جزوی طور پر آؤٹ ہوئے، آج کا پرچہ آؤٹ ہونے پر فوری طور پر کیمبرج کی جانب سے کوئی موقف سامنے نہیں آیا۔

لیک پیپر منسوخ کرکے نیا پیپر دینے کا امکان موجود ہے، کیمبرج کنٹری ڈائریکٹر

کیمبرج کے امتحان لیک ہونے والے معاملے کو پاکستان میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کو رپورٹ کردیا گیا جبکہ پیپر لیکس سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف مزید شکایت بھی درج کرائی جا رہی ہے۔

کیمبرج یونیورسٹی پریس اینڈ اسیسمنٹ کی کنٹری ڈائریکٹر عظمیٰ یوسف نے کہا ہے کہ کیمبرج امتحانی پرچوں کے لیک ہونے سے متعلق سامنے آنے والے تمام الزامات کی مکمل تحقیقات کرتا ہے تاہم انفرادی پیپر لیک رپورٹس پر تبصرہ نہیں کیا جاتا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ اگر کسی معاملے میں واقعی کوئی مسئلہ سامنے آتا ہے تو متعلقہ اسکولز کو بروقت آگاہ کیا جاتا ہے اور انہیں آئندہ کے اقدامات سے متعلق سفارشات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ انہوں نے طلبہ، والدین اور اساتذہ پر زور دیا کہ وہ صرف کیمبرج کے سرکاری بیانات پر اعتماد کریں اور غلط معلومات پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ یہ عمل طلبہ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

عظمیٰ یوسف کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں امتحانات کی شفافیت اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوششیں دیکھی جا رہی ہیں، جنہیں روکنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کے لیے مختلف قانونی راستے اختیار کیے جا رہے ہیں، پاکستان میں اس معاملے کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کے تحت رپورٹ کر دیا گیا ہے جبکہ پیپر لیکس سے متعلق جھوٹی معلومات پھیلانے والوں کے خلاف مزید شکایت بھی درج کرائی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں ریاضی کے پرچے کے لیک ہونے کے معاملے اور سوشل میڈیا پر سب سے پہلے لیک شدہ مواد شیئر کرنے والے صارفین کے خلاف نیشنل فراڈ انٹیلی جنس بیورو کو رپورٹ کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک اہم سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے خلاف بھی قانونی کارروائی جاری ہے تاکہ غیر قانونی شیئرنگ سے متعلق معلومات حاصل کی جا سکیں۔

کنٹری ڈائریکٹر کے مطابق کیمبرج کی اولین ترجیح یہ ہے کہ چند افراد کی جان بوجھ کر کی گئی بدعنوانی کے باعث طلبہ متاثر نہ ہوں اسی مقصد کے تحت بعض صورتوں میں لیک ہونے والے پرچے منسوخ کرکے متبادل امتحان لیا جاتا ہے تاکہ تمام طلبہ کے ساتھ انصاف یقینی بنایا جا سکے۔

انہوں نے واضح کیا کہ امتحانی پرچے لیک کرنا چوری کے مترادف ہے اور کیمبرج خفیہ مواد بنانے، فروخت کرنے یا شیئر کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا، جس میں مستقل نااہلی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ریفر کرنا بھی شامل ہے۔

وفاقی وزیر تعلیم کا پرچہ آؤٹ ہونے کا نوٹس

دریں اثنا وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کیمبرج پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کا نوٹس لے لیا اور اظہارِ تشویش کیا۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ محنتی طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، گزشتہ سال بھی ایسے واقعات سامنے آئے، کیمبرج اپنا نظام مزید مضبوط بنائے، پیپر لیکس سے طلبہ اور والدین شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

وفاقی وزیر نے آئی بی سی سی کو کیمبرج کے ساتھ فوری اجلاس کی ہدایت کی اور کہا کہ آئی بی سی سی طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کریں، شفاف امتحانی نظام اور میرٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، کیمبرج واقعے کی مکمل تحقیقات اور حقائق سامنے لائے جائیں، طلبہ کے اعتماد کی بحالی اولین ترجیح ہے۔

Load Next Story