انسداد زنا بالجبر ترمیمی بل قومی اسمبلی سے منظور، بچوں کا استحصال ناقابل ضمانت جرم قرار
فوٹو: فائل
قومی اسمبلی میں انسداد زنا بالجبر ترمیمی بل 2026 منظور کرلیا گیا ہے، جس کے تحت جنسی زیادتی اور جسمانی زیادتی یا بچوں کا استحصال ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔
انسداد زنا بالجبر ترمیمی بل 2026 میں کہا گیا ہے کہ پولیس زیادتی کا شکار بچے کا 24گھنٹے کے اندر طبی معائنہ یقینی بنائے گی، طبی معائنے کے دوران متاثرہ بچے کے وقار، تحفظ اور رازداری کو برقرار رکھا جائے گا۔
بل کے متن میں کہا گیا ہے کہ متاثرہ بچے کا معائنہ مستند فرانزک ایکسپرٹ سے کرایا جائے گا، طبی معائنے کے دوران حاصل کردہ فرانزک شہادت کو تحقیقات کے حصے کے طور پر پیش کیا جائے گا۔
قومی اسمبلی سےمنظور ہونے والے بل میں قرار دیا گیا ہے کہ جنسی زیادتی اور جسمانی زیادتی یا بچوں کا استحصال ناقابل ضمانت جرم ہوگا۔
بل کے متن کے مطابق ایسے مقدمات میں ملوث افراد کو کوئی عدالت ضمانت نہیں دے گی، غیر معمولی حالات میں عدالت متاثرہ بچے کے بہترین مفاد پر غور کرے گی۔
مزید بتایا گیا ہے کہ عدالت ضمانت سے قبل متاثرہ بچے کو ملزم کی جانب سے نقصان پہنچانے اور دھمکی دینے کے امکانات کا بغور جائزہ لے گی اور عدالت بچے کی حفاظت اور بہبود کا محتاط جائزہ لینے کے بعد ضمانت دے سکے گی۔