ایران کا امریکا کو جواب؛ آبنائے ہرمز کی حدود میں اضافہ کرکے نیا نقشہ جاری کردیا
ایران نے آبنائے ہرمز کی حدود میں اضافہ کردیا
ایران نے آبنائے ہرمز کی اپنی عسکری تعریف اور دائرہ کار کو نمایاں طور پر وسیع کرتے ہوئے اسے ایک “وسیع آپریشنل زون” قرار دیتے یوئے آبی گزرگاہ کی وسعت میں بھی اضافہ کردیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے فارس سے گفتگو میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی ڈائریکٹر محمد اکبر زادہ نے بتایا کہ ایران اب آبنائے ہرمز کو صرف چند جزیروں کے گرد محدود سمندری راستہ نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک بڑی اسٹریٹجک اور فوجی پٹی تصور کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں آبنائے ہرمز کو ہرمز اور ہنگام جیسے جزیروں کے اطراف محدود علاقے کے طور پر دیکھا جاتا تھا لیکن اب یہ تصور تبدیل ہوچکا ہے جس کی وسعت ایرانی شہر جاسک سے لے کر مغرب میں سیری آئی لینڈ تک پھیلی ہوئی ہے۔
محمد اکبرزادہ نے مزید بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے بعد اس علاقے کو وسعت دے دی گئی ہے۔ ماضی میں یہ علاقہ 20 سے 30 میل کا تھا جسے بڑھا کر اب 200 سے 300 میل یعنی تقریباً 500 کلومیٹر کر دیا گیا ہے۔
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق آبنائے ہرمز کی نئی حدود کا علاقہ ایک مکمل ہلالی شکل اختیار کرچکا ہے۔
اس سے قبل 4 مئی کو بھی ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ایک نیا بحری نقشہ جاری کیا تھا جس میں خلیج عمان کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے ساحلی علاقوں تک اپنے اثر و رسوخ کا دائرہ ظاہر کیا گیا تھا۔
یاد رہے کہ آبنائے ہرمز کو ایران نے بند کر رکھا ہے جہاں سے دنیا بھر میں تیل کی 25 فیصد تک ترسیل ہوتی ہے چنانچہ پیٹرول کی قلت ہوگئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔