وی آئی پی موومنٹ اور نوآبادیاتی کلچر

کراچی شہر ان دنوں سخت گرمی کا شکار ہے۔ کلفٹن کی بلاول چورنگی سے کئی اہم سڑکیں گزرتی ہیں۔

کراچی شہر ان دنوں سخت گرمی کا شکار ہے۔ کلفٹن کی بلاول چورنگی سے کئی اہم سڑکیں گزرتی ہیں۔گزشتہ ہفتے کلفٹن چورنگی سے گزرنے والے ٹریفک کو اچانک روک دیا گیا۔ چند ہی منٹوں میں اطراف کی سڑکوں پر گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کی قطار لگ گئیں۔

پھر پتہ چلا کہ وی آئی پی موومنٹ ہے، انتظار طویل ہوگیا۔ جب آدھا گھنٹہ سے زیادہ وقت گزرا تو موٹر سائیکل سوار اور کار والے رکاوٹوں کو توڑتے ہوئے آگے بڑھ گئے، یوں وی آئی پی شخصیت کا قافلہ اس ٹریفک میں پھنس گیا اور سیکیورٹی کا پروٹوکول گرمی میں کھو گیا۔ پولیس نے وی آئی پی کے لیے بڑی مشکل سے راستہ بنایا۔ تاہم پولیس نے سخت رویہ اختیار نہیں کیا۔ اس منظر کی وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ دوسرے دن تمام اخبارات میں بکس میں یہ خبر شائع ہوئی ۔

کراچی کی سڑکوں پر ایسے مناظر تواتر سے نظر آتے ہیں ۔ ٹریفک جام ہوجاتا ہے جس کا خمیازہ بسوں میں سفر کرنے والے مسافر، موٹر سائیکل اور کار والے بھگتتے ہیں۔ پولیس حکام اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ اگر ایک مرکزی شاہراہ پر وی آئی پی موومنٹ کی بنیاد پر ٹریفک روک دیا گیا ہے تو اس طرف جانے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو اس بات کی اطلاع فراہم کریں اور متبادل راستوں پر جانے کے لیے گاڑی والوں کی رہنمائی کریں۔ اس صورتحال میں کسی ایک سڑک پر وی آئی پی موومنٹ کے اثرات دوسری سڑکوں پر بھی رونما ہوتے ہیں اور بہت بڑے علاقے میں سفر کرنے والے افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔

ایسے واقعات عام ہیں ، ٹریفک جام میں ایمبولینس بھی شامل ہوتی ہیں جس میں کسی مریض کا اس کی جان بچانے کے لیے اسپتال پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ خاص طور پر دل کے حملہ کے امراض میں مبتلا مریض، بچے کی ڈلیوری کے لیے اسپتال جانے والی خواتین اور ٹریفک کے حادثہ میں شدید زخمی ہونے والے افراد اس سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ وی آئی پی موومنٹ کے دوران ایمبولینس کو بھی راستہ نہیں ملتا، یہی وجہ ہے کہ اس صورتحال میں انسانی المیہ جنم لیتا ہے۔

 وی آئی پی موومنٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک نیا طریقہ کار اختیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے کی شام کو پولیس نے شاہراہِ فیصل کو واٹر ٹینکر لگا کر بند کردیا۔ چند ہی منٹوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگگئیں۔ ان گاڑیوں میں ایک ایمبولینس بھی شامل تھی ۔ دنیا میں عوام کے منتخب نمائندوں کا کوئی وی آئی پی پروٹوکول نہیں ہوتا مگر اس ملک میں بلدیاتی اداروں سے لے کر صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین کا ایک مربوط وی آئی پی کلچر سڑکوں پر نظر آتا ہے۔ یہ منتخب اراکین اپنے ساتھ نجی مسلح گارڈز رکھتے ہیں اور اگر کوئی گاڑی والا ان کی گاڑی کے قریب آجائے تو اس کوگارڈز گنز کے ذریعے اشارہ کرکے دور رہنے کا کہتے ۔ بعض منتخب نمائندوں کو توکسی سے خطرہ بھی نہیں ہوتا، محض وہ عوام کو مرعوب کرنے کے لیے اپنے ساتھ گارڈز رکھتے ہیں ۔ کراچی، لاہور ، اسلام آباد پشاور اور کوئٹہ وغیرہ ایسے مناظر عام ہیں۔ صرف وزراء یا اعلیٰ سرکاری عہدیداروں کے قافلے والے والے ہی یہ سلوک نہیں کرتے بلکہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین اپنی گاڑیوں کے ساتھ پولیس والوں کے علاوہ پرائیوٹ سیکیورٹی گارڈ لے لیتے ہیں۔ ان افراد کے پاس کوئی قانونی اختیار نہیں ہوتا ،مگر یہ مسلح افراد اپنی گاڑیوں سے قریب سے گزرنے والے موٹر سائیکل والوں اور اور کار سواروں کے ساتھ ناروا سلوک کرتے ہیں۔

یہ صورتحال اس ملک کے قیام کے بعد سے ہے۔ یورپی ممالک ، امریکا اور کینیڈا وغیرہ میں سڑکوں پر وی آئی پی موومنٹ کی بناء پر ٹریفک رکوانے کی روایت ہے ہی نہیں۔ وہاں چند انتہائی اہم ترین شخصیات کے قافلوں کو گزرنے کے لیے سڑکوں پر چند منٹ کے لیے ٹریفک روکتا ہے، ورنہ کسی بھی حالت میں سڑکوں پر رواں ٹریفک کو نہیں روکا جاتا۔

امریکا میں ایمبولینس اور میت گاڑیوں کے گزرنے کے لیے پولیس کانسٹیبل سگنل بند کردیتے ہیں اور اگر اس سڑک پر پولیس سارجنٹ موجود ہوتا ہے تو وہ ایمبولینس اور میت گاڑی کے لیے راستہ بنانے کے لیے اپنی موٹر سائیکل آگے لے کر چلتا ہے۔ اب تو بھارت میں بھی وی آئی پی موومنٹ کے لیے سڑکیں بند نہیں کی جاتیں۔ وی آئی پی موومنٹ سے عوام کو جو مشکلات ہوتی ہیں اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ، لاہور اور پشاور کے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو اس کا ادراک نہیں ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس مسئلے کا حل تلاش کرنا انتہائی آسان ہے۔

سب سے پہلے تو یہ ضروری ہے کہ حکومت وی آئی پی سیکیورٹی پروٹوکول میں بنیادی تبدیلیاں کرے۔ یہ ضروری ہے کہ صدر، وزیر اعظم اور غیر ملکی سیاست دانوں کے گزرنے کے علاوہ کسی بھی شخصیت کے گزرنے کے لیے کسی بھی سڑک پر ٹریفک نہ روکی جائے۔ صدر، وزیر اعظم اور غیر ملکی وی وی آئی پیزکا سیکیورٹی پلان اس طرح تیار کیا جائے کہ ٹریفک صرف 10 منٹ سے زیادہ نہ رکے۔ سیف سٹی پروجیکٹس کو اس طرح فعال کیا جائے کہ شہروں میں غیر قانونی اسلحے کی نقل و حمل روک جائے۔ یہی وقت ہے کہ پورے ملک کو غیر قانونی اسلحہ اور گولہ بارود سے پاک کرنے کے لیے حقیقی مہم چلائی جائے۔

اسلحے کی تجارت میں بہت بڑی مافیاز ملوث ہیں۔ ان میں وہ مافیاز بھی شامل ہیں جو ملک میں حکمرانی کے لیے منتخب اراکین کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ انتہائی مشکل کام ہے مگر غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل کو روک کر وی آئی پی شخصیتوں کے علاوہ عام آدمی کا تحفظ ہوجائے گا۔ یہ ضروری ہے کہ وی آئی پی موومنٹ کے لیے ایسی سڑکوں کا انتخاب کیا جائے جہاں ٹریفک کم ہوتا ہے۔ اس مقصد کے لیے متبادل سڑکیں تعمیر ہوسکتی ہیں، اگر وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس مسئلے کی گہرائی کا احساس کرے اور سیکیورٹی کے ماہرین، عوامی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے اراکین کی کانفرنس بلائی جائے۔ اس کانفرنس میں یقینامفید تجاویز سامنا آئیں گی جو حکومت کو مسئلہ کے حل کے لیے ایک روڈمیپ مہیا کرسکتی ہیں۔

 ایسے واقعات سے سبق سیکھا جاسکتا ہے، اگر حکومت نے محض وی آئی پی موومنٹ کے لیے مزید سیکیورٹی سخت کرنے کی حکمت عملی اختیار کی تو عوام میں مایوسی بڑھ جائے گی اور یہ عوام کا غصہ کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے۔ انگریز حکومت نے ہندوستان کے شہروں میں وی آئی پی موومنٹ کے لیے بعض شاہراہوں پر عام آدمی کے داخلہ پر پابندی لگادی تھی۔ مہاتما گاندھی نے شملہ میں ٹھنڈی سڑک پر چل کر اس نوآبادیاتی کلچر کو چیلنج کیا تھا۔ نوآبادیاتی دور کا وی آئی پی موومنٹ کا کلچر ساری دنیا میں ختم ہوگیا ہے۔ اب اس ملک کو بھی اس کلچر سے نجات ملنی چاہیے۔

Load Next Story