دنیا کی تبدیلی اور ظلم کا خاتمہ

دنیا بدل گئی ہے، اس میں شک نہیں مگر ظلم کے چہرے بھی بدل گئے ہیں۔

وقت دبے پاؤں بہت کچھ بدل دیتا ہے۔ نقشے بدلتے ہیں، سلطنتیں بکھرتی ہیں، نظریات کمزور پڑتے ہیں اور وہ خواب بھی گرد آلود ہو جاتے ہیں جنھیں کبھی تاریخ کا آخری سچ سمجھا جاتا تھا۔ آج اگر کوئی یہ کہے کہ کیرالہ میں کمیونسٹ حکومت پہلے جیسی مضبوط نہیں رہی یا دنیا میں سوویت یونین جیسی کوئی بڑی اشتراکی ریاست باقی نہیں رہی تو یہ ایک حقیقت ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف ریاستوں کے بدل جانے سے تاریخ کے بنیادی تضادات بھی ختم ہو جاتے ہیں؟ کیا ظلم، استحصال، طبقاتی جبر ،سامراجی جنگیں ،بھوک، بے روزگاری اور انسان کی انسان پر حکمرانی بھی قصۂ پارینہ بن چکی ہے۔

آج دنیا کے بڑے شہروں میں فلک بوس عمارتیں ضرور کھڑی ہیں، مصنوعی ذہانت نے انسان کو حیران کر دیا ہے اور سرمایہ دارانہ دنیا اپنی تکنیکی ترقی پر نازاں ہے مگر دوسری طرف کروڑوں انسان اب بھی بھوک، جنگ، مہنگائی، نسل پرستی اور محرومی کے عذاب میں مبتلا ہیں۔ غزہ کے ملبے تلے دبے بچے، افریقہ کے قحط زدہ دیہات ،ایشیا میں پسینہ بہاتے فیکٹری مزدور اور لاطینی امریکا کے قرضوں میں جکڑے عوام، یہ اعلان کرتے ہیں کہ استحصال ابھی زندہ ہے، اگر مظلوم آج بھی موجود ہیں تو پھر ان کے حق میں اٹھنے والی آوازیں بھی کبھی مکمل طور پر خاموش نہیں ہو سکتیں۔

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ دنیا نے کمیونزم کو مسترد کر دیا ہے۔ یہ بات اتنی سادہ نہیں جتنی دکھائی دیتی ہے۔ تاریخ کو صرف انتخابی نتائج کی عینک سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ مختلف ملکوں میں طاقت کے توازن کیا تھے۔ عالمی سرمایہ داری نے کس طرح دباؤ ڈالا اور کہاں کہاں جمہوری عمل کو مسخ کیا گیا۔ لاطینی امریکا سے لے کر ایشیا تک کتنی ہی حکومتیں ایسی رہیں جنھیں عوام نے منتخب کیا مگر انھیں سازشوں، فوجی بغاوتوں، معاشی پابندیوں یا بیرونی مداخلت کے ذریعے کمزور کیا گیا۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ جب عوام کسی کمیونسٹ یا سوشلسٹ جماعت سے دور ہوئے تو کیا وہ واقعی سرمایہ داری سے مطمئن تھے یا وہ صرف ان ریاستی ڈھانچوں سے مایوس ہوئے جو اپنے اندر جمود بیوروکریسی اور طاقت کے ارتکاز کا شکار ہو گئے تھے۔ ایک نظریہ اور اس کے نام پر قائم ہونے والی ہر حکومت ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ انسانی تاریخ میں مذہب کے نام پر بھی ظلم ہوا، جمہوریت کے نام پر بھی جنگیں مسلط کی گئیں مگر اس کے باوجود لوگ انصاف برابری اور آزادی کے خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے۔

کیرالہ کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ وہاں کی کمیونسٹ سیاست نے صرف اقتدار کی سیاست نہیں کی بلکہ تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کے میدان میں ایسے ماڈل پیش کیے جنھیں دنیا بھر میں سراہا گیا، اگر آج وہاں سیاسی اتار چڑھاؤ موجود ہے تو یہ جمہوری سیاست کا حصہ ہے۔ اقتدار میں آنا اور جانا کسی نظریے کی موت کا اعلان نہیں ہوتا۔ ورنہ سرمایہ دارانہ حکومتوں کی ناکامیوں کے بعد تو سرمایہ داری کو بھی دفن ہو جانا چاہیے تھا۔

 دنیا بدل گئی ہے، اس میں شک نہیں مگر ظلم کے چہرے بھی بدل گئے ہیں۔ پہلے سامراج توپوں اور فوجوں کے ساتھ آتا تھا، آج وہ عالمی مالیاتی اداروں قرضوں میڈیا اور کارپوریٹ طاقت کے ذریعے انسانوں کی زندگیوں پر قبضہ کرتا ہے۔ پہلے مزدور کی زنجیر فیکٹری کے دروازے تک محدود تھی، آج ڈیجیٹل معیشت میں بھی انسان اپنی محنت بیچنے پر مجبور ہے۔ پہلے کالونیاں براہ راست قائم کی جاتی تھیں، آج معاشی انحصار اور سیاسی دباؤ نئی نوآبادیات کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ایسے میں اگر کوئی نوجوان پھر سے برابری انصاف اور اجتماعی فلاح کے سوال اٹھاتا ہے تو اسے محض ماضی کا قیدی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دنیا بھر کی جامعات میں مزدور تحریکوں میں ماحولیاتی جدوجہد میں خواتین کے حقوق کی تحریک میں آج بھی سرمایہ دارانہ نظام پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ شاید لفظ بدل گئے ہوں شاید پرچم بدل گئے ہوں مگر سوال وہی ہیں دولت چند ہاتھوں میں کیوں مرتکز ہے؟ جنگوں سے فائدہ کون اٹھاتا ہے؟ بھوک کے باوجود اناج کیوں ضایع ہوتا ہے اور انسان کی محنت کا اصل حق دار کون ہے۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ تاریخ سیدھی لکیر میں سفر نہیں کرتی۔ کبھی انقلابات ابھرتے ہیں ،کبھی پسپائی ہوتی ہے، کبھی خواب جیت جاتے ہیں، کبھی طاقتور قوتیں انھیں روند دیتی ہیں۔ انسانی ضمیر کے اندر انصاف کی خواہش ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ فیض نے شاید اسی لیے کہا تھا۔

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

 یہ صرف ایک سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انسانی امید کی صدا ہے، آج اگر دنیا میں کوئی بڑی اشتراکی ریاست موجود نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ استحصال ختم ہو گیا۔ جب تک استحصال موجود ہے تب تک اس کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز بھی زندہ رہے گی۔ سوال کمیونزم کے نام کا نہیں، سوال انسان کی عزت روٹی آزادی اور برابری کا ہے، اگر دنیا واقعی بدل چکی ہے تو پھر ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا انسان واقعی آزاد ہوا ہے؟ کیا خوف بھوک اور جبر ختم ہوئے ہیں اگر نہیں تو ظلم ابھی ختم نہیں ہوا۔

Load Next Story