آئی ایم ایف بجٹ مشن سے مذاکرات آج شروع، پاکستانی پوزیشن مستحکم
حکومت نے منگل کو بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ کے دوران پٹرولیم لیوی کی وصولیوں میں 371 ارب روپے یا 45 فیصد اضافہ ہوا ۔
آئی ایم ایف نے پیش گوئی کی ہے کہ پاکستان کی مالی کارکردگی جنگ سے پہلے کے دور سے بھی بہتر رہے گی۔
وفاقی حکومت نے جولائی تا مارچ کے دوران پٹرولیم لیوی کی مد میں 1.205 کھرب روپے وصول کیے جو تقریباً گزشتہ مالی سال کی مجموعی وصولیوں کے برابر ہیں۔
ایک عام پٹرول صارف حکومت کا خزانے بھرنے کے لیے فی لیٹر 117.5 روپے لیوی ادا کر رہا ہے۔
پٹرولیم لیوی کی غیر معمولی بلند شرح، شرح سود میں 50 فیصد کمی کے باعث سودی ادائیگیوں میں نمایاں کمی اور صوبوں کے ریکارڈ کیش سرپلس نے آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ مذاکرات سے قبل پاکستان کو نسبتاً مستحکم پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔
آئی ایم ایف کا بجٹ مشن آج سے مذاکرات شروع کرے گا، تاہم ذرائع کے مطابق مشن کا دائرہ کار صرف بجٹ تک محدود نہیں ہوگا۔ آئی ایم ایف مشن سرکاری شعبے میں ریاستی کردار کم کرنے اور شوگر سیکٹر کو آزاد کرنے کے لیے قانونی ترامیم پر پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
مشن آئندہ مالی سال کے محصولات اور اخراجات کے اہداف طے کرنے کے لیے مذاکرات شروع کرے گا اور قوانین میں مجوزہ ترامیم کا بھی جائزہ لے گا۔
آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد بجٹ آئندہ ماہ قومی اسمبلی میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق صوبوں کے ساتھ بھی مذاکرات ہوں گے تاکہ وہ آئندہ مالی سال میں 1.64 کھرب روپے کا کیش سرپلس پیدا کریں اور تقریباً 1.78 کھرب روپے کے ٹیکس اہداف حاصل کریں۔
حکومت نے گزشتہ بجٹ میں مجموعی بجٹ خسارے کا ہدف جی ڈی پی کے 3.9 فیصد یا 5 کھرب روپے سے زائد مقرر کیا تھا، تاہم یہ خسارہ 3.2 فیصد تک محدود رہ سکتا ہے، جو بجٹ تخمینوں سے تقریباً 900 ارب روپے بہتر ہے۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش موجود تھی، مگر اس کے باوجود زیادہ ٹیکس عائد کیے گئے۔
آئی ایم ایف رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں بنیادی بجٹ سرپلس، یعنی سودی ادائیگیوں کے بعد خالص آمدن، جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔
پہلے نو ماہ کے دوران مجموعی بجٹ خسارہ 856 ارب روپے یا جی ڈی پی کے 0.7 فیصد تک محدود رہا، جس کی بڑی وجہ زیادہ پٹرولیم لیوی، سودی اخراجات میں کمی اور صوبائی سرپلس ہے۔
چاروں صوبائی حکومتوں نے مجموعی طور پر 1.63 کھرب روپے کا کیش سرپلس پیدا کیا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 583 ارب روپے یا 55 فیصد زیادہ ہے۔
اس میں سے تقریباً آدھا یعنی 824 ارب روپے پنجاب نے فراہم کیا۔ آئی ایم ایف مشن 2028 سے سودی نظام کے خاتمے کے بعد مالیاتی شعبے کی حکمت عملی پر بھی بریفنگ لے گا۔
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے عمومی بجلی سبسڈی ختم کر کے ہدفی سبسڈی نظام متعارف کرانے سے متعلق پیش رفت بھی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔