یوم نکبہ اور فلسطینیوں کا حقِ واپسی
ہر سال مئی کا مہینہ آتے ہی دنیا بھر کے انصاف پسند انسانوں کے دلوں میں ایک پرانا زخم تازہ ہو جاتا ہے، یہ زخم یومِ نکبہ کا ہے، وہ دن جب 1948 میں فلسطین کی سرزمین پر ایک غاصب صیہونی ریاست قائم کی گئی، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں، کھیتوں، بستیوں اور شہروں سے بیدخل کیا گیا، سیکڑوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹا دیے گئے اور ایک پوری قوم کو مہاجرت، جلاوطنی اور بے وطنی کی زندگی پر مجبور کر دیا گیا۔
فلسطینی عوام اس سانحے کو محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ مسلسل جاری ظلم سمجھتے ہیں، کیونکہ نکبہ آج بھی ختم نہیں ہوا۔تاریخی اعتبار سے غاصب صیہونیوںنے ایک دن میں صرف 25 ہزار فلسطینیوں کو قتل کیا، کہا جاتا ہے کہ پینے کے پانی کی پائپ لائنوں میں زہریلے مواد ملا دیے گئے، انسانوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں پر بھی کسی قسم کا رحم نہیں کیا گیا،پندرہ لاکھ فلسطینیوں کو ان کے اپنے وطن سے ایک ہی دن میں جلا وطن کر دیا گیا۔
سرزمین فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست کا قیام صرف ایک علاقائی قبضہ نہیں تھا بلکہ یہ مغربی سامراجی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ برطانوی سرپرستی میں اعلان بالفور سے شروع ہونے والا سفر اقوامِ متحدہ کی تقسیم ِ فلسطین قرارداد تک پہنچا اور پھر عسکری قوت کے ذریعے فلسطینیوں کی زمین پر قبضہ کر کے ایک ایسی ریاست قائم کی گئی جسے ابتدا ہی سے مغربی دنیا نے غیر معمولی حمایت فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل مغربی سیاسی نظام میں ایک استثنائی حیثیت رکھتا ہے۔
یہی حیثیت مغربی ممالک کو اسرائیل کے تمام جرائم کی پردہ پوشی پر مجبور کرتی ہے، اگر اسرائیل کی ریاست اس قدر فائدہ مند تھی تو آخر ان مغربی حکومتوں نے اس ریاست کو یورپ یا مغربی حصوں میں کیوں قائم نہیں کیا؟ محققین کاکہنا ہے کہ مغربی اور یورپی حکومتیں یہ بات اچھی طرح سے جانتی تھیں کہ اگر یہودیوں کے لیے مغربی دنیا میں اسرائیل نامی ریاست قائم کی گئی تو پھر مغربی دنیا کا امن تباہ وبرباد ہو جائے گا،تاہم انھوں نے دنیا کے دیگر خطوں کا امن تباہ کرنے کے لیے فلسطین پر اس غاصب صیہونی ریاست کے قیام میں بھرپور مدد کی اور پھر اسرائیل کو استثنائی حیثیت بھی فراہم کی۔
دنیا میں بہت سی ریاستیں ہیں، مگر اسرائیل وہ واحد ریاست ہے جو نہ صرف غاصب اور ناجائز ہے بلکہ جس کے لیے بین الاقوامی قوانین کو بارہا نظر انداز کیا گیا، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کو معطل کیا گیا اور انسانی حقوق کے اصولوں کو پس پشت ڈالا گیا۔یہاں تک کہ بین الاقوامی قانون کی رو سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد لازمی قابل عمل نہیں ہوتی لیکن بہت عجلت میں مغربی حکومتوں نے بالفور اعلامیہ کا سہارا لیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے فلسطین پر غاصب صیہونی ریاست کو قائم کیا، اگر اس غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی جگہ کوئی اور ملک نصف صدی سے زائد عرصے تک قبضہ، آبادکاری، نسلی امتیاز اور اجتماعی سزا کی پالیسی اپناتا، تو شاید اس پر سخت پابندیاں لگ چکی ہوتیں، مگر اسرائیل کے لیے مغربی حکومتوں کا معیار مختلف ہے۔
غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے لیے استثنائی حیثیت کی سب سے بڑی مثال امریکا کے ساتھ اس کے تعلقات ہیں۔ اسرائیل صرف واشنگٹن کا اتحادی نہیں بلکہ امریکی پالیسی سازی کے مراکز میں ایک خاص مقام رکھتا ہے۔ امریکی کانگریس میں اسرائیل کے حق میں قراردادیں برق رفتاری سے منظور ہوتی ہیں، اربوں ڈالر کی فوجی امداد مسلسل جاری رہتی ہے اور امریکی صدور خواہ کسی بھی جماعت سے ہوں، اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی مفاد قرار دیتے ہیں۔
اس کی معیاری عسکری برتری (QME) کا تحفظ امریکی کانگریس کے قانون کے تحت لازم ہے اور امریکی صدر اس برتری کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک کے لیے امریکا میں اس درجے کے لازمی حمایتی قوانین موجود نہیں۔ اسرائیل کو امریکا کی جانب سے مستقل، طویل المدت، ضمانت یافتہ اور غیر مشروط فوجی امداد حاصل ہوتی ہے۔ دنیا میں یہ ماڈل صرف اسرائیل کے لیے مخصوص ہے۔ یہ نیٹو سے باہر پہلا ملک ہے جسے حساس مشترکہ دفاعی منصوبوں تک رسائی دی گئی۔ کسی دوسرے ملک کو ایسی حیثیت حاصل نہیں، حتیٰ کہ برطانیہ کو بھی بعض نہایت حساس ٹیکنالوجیز تک وہ آزادی حاصل نہیں جو اسرائیل کو حاصل ہے، جیسے F-35جنگی جہازوں کی ٹیکنالوجی وغیرہ۔اسرائیل انتہائی خفیہ سائبر اور انٹیلی جنس آپریشنز میں امریکا کا شریک ہے۔
بعض شعبوں، خصوصاً سائبر اور مصنوعی ذہانت میں، امریکا نے اسرائیل کو اپنے برابر درجہ دیا ہے۔اسرائیل کو ایک طریقہ سے امریکی فوج کے عملیاتی کمانڈ ڈھانچے (CENTCOM) میں ضم کیا جا چکا ہے۔ دنیا کے کسی اور ملک کو امریکا کے عسکری ڈھانچے میں اس نوعیت کا انضمام حاصل نہیں۔ امریکی فوجی ذخائر اسرائیلی سرزمین پر ایک خصوصی پروٹوکول (WRSA-I) کے تحت محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی حکمتِ عملی (NSS)، قومی دفاعی حکمتِ عملی (NDS) اور پینٹاگون کی دیگر اعلیٰ سطح دستاویزات میں اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی سلامتی کا حصہ قرار دیا گیا ہے اور یہ حیثیت کسی اور ملک کو حاصل نہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ امریکی کانگریس میں شاید ہی کوئی دوسرا ملک ہو جسے اسرائیل جیسی غیر معمولی سیاسی حمایت حاصل ہو۔ اسرائیل کے لیے خصوصی فوجی امداد، جدید ہتھیاروں کی فراہمی، سفارتی تحفظ، اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو کا استعمال، یہ سب اس تعلق کی نوعیت کو واضح کرتے ہیں، گویا اسرائیل ایک ریاست سے بڑھ کر مغربی طاقت کے مشرقِ وسطیٰ میں ایک عسکری و سیاسی اڈہ بن چکا ہے ،لیکن سوال یہ ہے کہ اس خصوصی حیثیت کی قیمت کون ادا کر رہا ہے؟ جواب واضح ہے کہ فلسطینی عوام۔غزہ کے محصور بچے، مغربی کنارے کے محصور شہر، القدس کی پامال حرمت، مہاجر کیمپوں میں نسل در نسل زندگی گزارنے والے خاندان اور دنیا بھر میں بکھرے لاکھوں فلسطینی مہاجرین اس قیمت کو آج تک ادا کر رہے ہیں، ان کے گھروں پر قبضہ ہوا، ان کی زمینیں چھینی گئیں، ان کی شناخت مٹانے کی کوشش کی گئی، مگر ان کے عزم کو ختم نہ کیا جا سکا۔
اسی لیے فلسطینی جدوجہد کا سب سے بنیادی اصول حق واپسی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد 194 کے مطابق فلسطینی مہاجرین کو اپنے گھروں میں واپس جانے کا حق حاصل ہے۔ یہ حق کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قانون سے تسلیم شدہ انسانی حق ہے، مگر اسرائیل اس حق کو ماننے سے انکار کرتا ہے، کیونکہ اگر فلسطینی واپس آ گئے تو قبضے کی پوری داستان بے نقاب ہو جائے گی۔آج فلسطینی عوام دنیا بھر میں 15 مئی یوم نکبہ کو یوم واپسی فلسطین کے عنوان سے اور فلسطینی عوام کے حق واپسی کے عنوان سے مناتے ہیں۔یومِ نکبہ فلسطین کا مسئلہ صرف سرحدوں کا تنازع نہیں بلکہ ایک پوری قوم کے ان کے وطن سے جبری بے دخلی کے خلاف آواز ہے۔ اس آواز کو حق واپسی کا نام دیا گیا ہے۔یہ ایک ایسے مظلوم عوام کی داستان ہے جو نسل کشی، محاصرہ، جبر اور جلاوطنی کے باوجود اپنے وطن، اپنے حق اور اپنی تاریخ سے دستبردار نہیں ہوئے،یعنی آج بھی دنیا بھر کے فلسطینی چاہتے ہیں کہ انھیں فلسطین واپسی کا حق دیا جائے تا کہ وہ اپنے وطن جا کر آباد ہوں۔
آج دنیا بدل رہی ہے۔ نوجوان نسلیں مغربی بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں۔ جامعات، سڑکوں اور عالمی فورمز پر فلسطین کے حق میں آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
غزہ پر بمباری اور نسل کشی نے دنیا کو یہ دکھا دیا ہے کہ اسرائیل کی چمکتی ہوئی جمہوری تصویر کے پیچھے قبضہ، طاقت اور خون کی ایک تلخ حقیقت چھپی ہوئی ہے۔مغربی دنیا کا دہرا معیار اور انسانی حقوق کے لیے لگائے جانے والے کھوکھلے نعرے ہیں۔یومِ نکبہ صرف غم اور اندوہ کا دن نہیں، یہ عہد کا دن بھی ہے۔ یعنی عہد اس بات کا کہ فلسطینی عوام کا حق واپسی فراموش نہیں ہوگا، القدس کی حیثیت فراموش نہیں ہوگی اور ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، تاریخ کے سامنے ہمیشہ عارضی ثابت ہوتا ہے،لہٰذا آج پوری دنیا میں فلسطین کا ساتھ دینے والوں کا یہی نعرہ ہے کہ واپسی قریب ہے اور فلسطین آزاد ہو گا۔