گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر مستونگ میں لاپتا
گوادر یونیورسٹی کے اعلیٰ ترین عہدیداروں کے لاپتہ ہونے کا افسوسناک واقعہ سامنے آیا ہے، یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرو وائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد گزشتہ روز گوادر سے کوئٹہ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق دونوں سرکاری گاڑی میں سفر کر رہے تھے اور مستونگ کے قریب ان کا رابطہ منقطع ہو گیا، خاندانی ذرائع اور یونیورسٹی انتظامیہ نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ دونوں اعلیٰ افسران اہم سرکاری کام سے کوئٹہ جا رہے تھے۔ تاہم جب وہ مستونگ کے علاقے میں داخل ہوئے تو ان کا فون بند ہو گیا اور کوئی رابطہ قائم نہ ہو سکا۔
علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر دونوں سرکاری گاڑی سمیت اغوا کا شکار ہوئے ہیں، ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ٹیم دونوں افسران کی فیملیز سے مسلسل رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا ہماری پوری انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے اس معاملے پر متحرک ہیں، ہماری مکمل کوشش ہے کہ دونوں افسران کا جلد از جلد پتہ لگایا جائے اور انہیں محفوظ واپس لایا جائے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے مستونگ اور آس پاس کے علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ سڑکوں پر ناکے لگائے گئے ہیں اور گاڑی کی تلاش جاری ہے۔ اب تک کوئی ransom کال یا اغوا کاروں کی طرف سے کوئی مطالبہ سامنے نہیں آیا ہے۔
گوادر یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ دونوں ڈاکٹرز یونیورسٹی کے ترقیاتی پروگراموں اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کے اچانک لاپتہ ہونے سے یونیورسٹی کے طلباء اور اساتذہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
طلباء نے فوری طور پر ان کی بازیابی کے لیے امن مارچ اور دعا کی تقریب منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، دونوں پروفیسرز کے اہل خانہ شدید صدمے میں ہیں۔
ایک خاندانی رکن نے بتایا کہ ڈاکٹر صابر اور ڈاکٹر منظور احمد دونوں نہ صرف اچھے تعلیم دان ہیں بلکہ ایک مثالی انسان بھی۔ ان کی گھر واپسی کے لیے ہم اللہ سے دعا کر رہے ہیں۔
صوبائی حکومت اور ہائر ایجوکیشن کمیشن نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے۔
بلوچستان کے وزیر تعلیم نے کہا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ معاملے کی شفاف تفتیش کی جائے اور ذمہ داران کو جلد گرفتار کیا جائے۔
اب تک کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سرچ آپریشن جاری ہے اور متعلقہ حکام پوری صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ واقعہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کے اعلیٰ افسران کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک بار پھر سوالات اٹھا رہا ہے۔