عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی؛ امریکی وزیر خزانہ نے خوش خبری سنا دی
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے امریکی میڈیا کو دیئے گئے انٹرویو میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر کھل کر گفتگو کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلیٰ وفد کے ہمراہ چین کے دورے پر ہیں جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب شی جنپنگ سے ملاقات کی اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرا کا حریف نہیں بلکہ شراکت دار ہونا چاہیے۔
اسی دوران امریکی وزیر خزانہ نے سی این بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ تیل کی ترسیل میں تعطل ہوتا رہتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش بھی عارضی معاملہ ہے جس سے قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ چین آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے کردار ادا کرے گا کیونکہ چینی معیشت بڑی حد تک خلیجی تیل پر انحصار کرتی ہے۔
تاہم انھوں نے اس امکان کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ آنے والے مہینوں میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی کے ساتھ نیچے آ جائیں گی کیوں کہ ترسیل میں یہ بگاڑ بھی عارضی ہے۔
اسکاٹ بیسنٹ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ریکارڈ سطح پر تیل پیدا کر رہا ہے اور ہم مسلسل پمپنگ جاری رکھیں گے جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں اور مہنگائی دونوں میں کمی آئے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی منڈی میں موجود بے یقینی عارضی ہے اور جیسے ہی سپلائی کے راستے معمول پر آئیں گے۔ قیمتوں میں دباؤ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ فروری کے آخر میں اسرائیلی اور امریکی حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد سے آبنائے ہرمز کو بند کر رکھا ہے جہاں سے دنیا کو تیل ترسیل کی جاتی ہے۔
اس وجہ سے پیٹرول کی قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ اس وقت بھی عالمی معیار برینٹ کروڈ کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے زائد پر برقرار ہے۔