نئے بلدیاتی آرڈیننس کے بعد حکومت کے ساتھ چلنا ممکن نہیں

پیپلز پارٹی کے زیاد ہ تر ارکان اس کیخلاف ہیں،امتیاز شیخ اور شہریار مہر کی مشترکہ پریس کانفرنس

نئے بلدیاتی آرڈیننس پر سندھ حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے اعلان کیا ہے۔ فوٹو:فائل

KARACHI:
نئے بلدیاتی آرڈیننس پر سندھ حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے والی حکومتی اتحادی جماعتوں کے رہنمائوں نے اعلان کیا ہے۔

وہ آئندہ دو تین روز میں سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں کیلیے درخواست دے دیں گے، نئے بلدیاتی آرڈیننس کے بعد حکومت کے ساتھ چلنا ناممکن ہوگیا ہے۔

انھوں نے بلدیاتی آرڈیننس پر وزیراعلیٰ سندھ کو مناظرے کا چیلنج دیا ہے اور آرڈیننس کیخلاف سندھ بچائو کمیٹی کی طرف سے شاہراہیں بند کرنے کی اپیل کی حمایت کی ہے۔


مسلم لیگ (فنکشنل) سندھ کے سیکریٹری جنرل اور استعفیٰ دینے والے صوبائی مشیر امتیاز احمد شیخ اور استعفیٰ دینے والے مسلم لیگ (ق) کے صوبائی وزیر شہریار خان مہر پیر کو مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

رہنمائوں نے یہ دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے زیاد تر ارکان سندھ اسمبلی سندھ پیپلز لوکل گورنمنٹ آرڈیننس (ایس پی ایل جی او) 2012 کیخلاف ہیں اور حکومت اس آرڈیننس کو سندھ اسمبلی سے منظور نہیں کراسکے گی، امتیاز شیخ نے کہا کہ ہم نے چیف منسٹر ہائوس میں استعفے جمع کرائے اور اس کی رسید ہمارے پاس موجود ہے۔

اگر ہمارے وزرا اور مشیروں کے استعفیٰ منظور نہ کرکے ہمیں اپوزیشن کی نشستیں نہ دی گئیں تو ہم قانونی راستہ اختیار کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ اگر یہ نظام سندھ کیلیے اچھا ہے تو پانچ اضلاع کیلیے الگ نظام کیوں،باقی اضلاع کے لوگوں کو وہ حقوق کیوں نہیں دیے گئے، شہریار خان مہر نے کہا کہ نیا بلدیاتی آرڈیننس میٹرو پولیٹن کارپوریشنز کو ضلعی حکومتوں سے زیادہ اختیارات دیتا ہے، یہ سندھ کو تقسیم کرنے کی سازش ہے ۔
Load Next Story