کیوبا میں پیٹرول ختم، بجلی کا بحران شدت اختیار کرگیا؛ امریکا کو ذمہ دار قرار دیدیا

امریکا نے توانائی کا محاصرہ کر رکھا ہے جس سے دنیا میں پیٹرول کی قلت پیدا ہورہی ہے، صدر کیوبا

کیوبا نے ایندھن بحران کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیدیا

امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد سے دنیا میں پیٹرول کی قلت کا سامنا ہے جس کے باعث قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور ہوشربا مہنگائی نے جینا دوبھر کردیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کیوبا کو اس وقت بدترین توانائی بحران کا سامنا ہے۔ ایندھن کی شدید قلت کے باعث ملک کے بڑے حصے تاریکی میں ڈوب گئے۔

حکومت نے پیٹرول کی شدید قلت کا اعتراف کرتے ہوئے عوام سے تحمل سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔ تیل بحران کے باعث بجلی پیداوار میں بے حد کمی واقع ہوئی ہے۔

کیوبا کے وزیرِ توانائی نے ایک پریس کانفرنس میں اعتراف کیا کہ ملک کے پاس بالکل بھی ایندھن، تیل یا ڈیزل موجود نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ حکومت اس وقت صرف مقامی گیس اور اندرونِ ملک پیدا ہونے والے خام تیل پر انحصار کر رہی ہے تاہم یہ مقدار قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے ناکافی ہے۔

وزیرِ توانائی نےمزید کہا کہ امریکی پابندیوں اور بیرونی دباؤ کے باعث کیوبا کو بیرونِ ملک سے ایندھن حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کا نظام شدید دباؤ میں آ چکا ہے۔

ملک کے مشرقی علاقوں میں بڑے پیمانے پر بجلی معطل ہونے سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے جبکہ بعض علاقوں میں روزانہ 19 گھنٹے تک بجلی بند رہنے کی اطلاعات ہیں۔ کئی صوبوں میں مکمل دن بلیک آؤٹ جاری رہا۔

کیوبا کے صدر نے بحران کی ذمہ داری امریکا پر عائد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی پابندیوں اور ایندھن فراہم کرنے والے ممالک کو دھمکیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انھوں نے امریکی اقدامات کو توانائی کا محاصرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شام کے اوقات میں بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان 2 ہزار میگاواٹ سے زائد کا فرق پیدا ہو رہا ہے۔ مجموعی طور پر 1100 میگاواٹ بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔

دوسری جانب ہوانا اور اس کے نواحی علاقوں میں عوام نے مسلسل لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا۔ مظاہرین نے برتن بجا کر اور سڑکوں پر نکل کر حکومت سے بجلی بحال کرنے کا مطالبہ کیا اور شدید نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ کیوبا کا بجلی کا نظام پرانے تھرمل پاور پلانٹس پر انحصار کرتا ہے جن میں سے کئی 40 برس سے زائد پرانے ہیں اور بار بار خراب ہو جاتے ہیں۔

ملک پہلے ہی خوراک، ادویات اور بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت کا شکار ہے جبکہ مہنگائی اور معاشی بحران نے عوامی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

رواں برس جنوری میں امریکا نے کیوبا کے لیے ایندھن کی ترسیل پر مزید سخت پابندیاں عائد کیں جس کے بعد صرف ایک روسی آئل ٹینکر ہی جزیرے تک پہنچ سکا۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کیوبا کے لیے 100 ملین ڈالر امداد کی پیشکش بھی کی تھی تاہم شرط رکھی تھی کہ امداد کی تقسیم کیوبن حکومت کے بجائے کیتھولک چرچ کے ذریعے کی جائے۔

کیوبا کے وزیرِ خارجہ نے اس پیشکش پر محتاط ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومت امدادی تجویز کی تفصیلات سننے کے لیے تیار ہے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ ایران میں رجیم چینج کے بعد اب باری کیوبا کی ہے جہاں ایک بے لگام امریکا مخالف آمر حکومت قائم ہے۔

 

Load Next Story