معاشی سست روی، سرمایہ کاری اور بچت کے اہداف پھر حاصل نہ ہوسکے
حکومت رواں مالی سال کے دوران سرمایہ کاری اور بچت کے 2 اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی کیونکہ حکومتی کوششوں کے باوجود سرمایہ کاری کی شرح جمود کا شکار رہی جبکہ قومی بچت مزید کم ہوگئی۔
منصوبہ بندی وزارت کی جانب سے قومی اکائونٹس کے عبوری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کردہ تخمینوں کے مطابق سرمایہ کاری کا جی ڈی پی میں تناسب 14.4 فیصد رہا جو گزشتہ مالی سال کے برابر ہے تاہم سرکاری ہدف 14.7 فیصد سے کم رہا۔
پیداواری شعبوں میں سرمایہ کاری نہ بڑھنے کے باعث معیشت میں مطلوبہ بہتری نہیں آسکی، حالانکہ حکومت غیر قرضہ جاتی غیرملکی سرمایہ کاری لانے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔
دوسری جانب حکومت اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے بدستور قرضوں پر انحصار کررہی ہے جبکہ رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ میں برآمدات میں 6 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق حکومت کے اندر اس بات پر غور شروع ہوگیا ہے کہ جولائی سے تجارتی آزادکاری کے دوسرے مرحلے پر مکمل عملدرآمد کیا جائے یا نہیں، کیونکہ پہلے مرحلے کے نتیجے میں درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا لیکن برآمدات میں خاطر خواہ بہتری نہ آسکی۔
غیرملکی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے قائم کیا گیا سوورین ویلتھ فنڈ بھی 3برس گزرنے کے باوجود فعال نہ ہوسکا۔
آئی ایم ایف نے اس کے قانون پر اعتراضات اٹھائے تھے جس کے بعد حکومت نے قانون میں ترامیم کے لیے قومی اسمبلی میں بل پیش کردیا تاہم سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے جمعرات کو بل پر ووٹنگ موخر کردی۔
اسی طرح اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی کوششیں بھی خاطر خواہ غیرملکی سرمایہ کاری لانے میں کامیاب نہ ہوسکیں، اگرچہ کونسل نے مقامی سرمایہ کاروں کو درپیش کئی انتظامی مسائل حل کیے۔
دوسری جانب سرکاری شعبے کی سرمایہ کاری کا جی ڈی پی میں تناسب کم ہوکر 3.1 فیصد رہ گیا، جس کی بڑی وجہ وفاقی ترقیاتی بجٹ میں تقریباً 200 ارب روپے کی کٹوتی ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے حکومت نے 1.126 کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے تاہم اصل اخراجات کا انحصار محصولات کے حصول پر ہوگا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاری کے اہداف حاصل نہ ہونے سے حکومت کی بنیادی ڈھانچے اور سماجی شعبے کے مسائل اپنے وسائل سے حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہورہی ہے، جس کے باعث ترقیاتی منصوبوں کے لیے مزید قرضوں پر انحصار بڑھ رہا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں وہ اسلامی ترقیاتی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی ضمانتوں کے ذریعے 25 کروڑ ڈالر کے قرض کے حصول کے لیے چینی مالیاتی منڈیوں سے رابطے کررہے ہیں کیونکہ پاکستان کی اپنی کریڈٹ ریٹنگ عالمی منڈیوں سے آسان قرض لینے کے قابل نہیں سمجھی جاتی۔
حکومت رواں مالی سال کے تین بڑے معاشی اہداف، یعنی اقتصادی ترقی، سرمایہ کاری اور بچت کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
رواں مالی سال معیشت کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی جو روزگار کی منڈی میں آنے والے نوجوانوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جارہی ہے۔
حیران کن طور پر تعمیراتی شعبے میں جو مجموعی معاشی سست روی سے شدید متاثر ہے، سرمایہ کاری میں 60 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا۔
ہوٹل و ریسٹورنٹ شعبے میں سرمایہ کاری 12.8 فیصد، ٹرانسپورٹ و اسٹوریج میں 6.2 فیصد جبکہ انفارمیشن و کمیونیکیشن کے شعبے میں 110 فیصد اضافہ ہوا۔سرکاری شعبے میں مینوفیکچرنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری میں 97 فیصد اضافہ نیشنل ریڈیو ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کی وجہ سے ہوا، جبکہ کان کنی کے شعبے میں او جی ڈی سی ایل کی سرمایہ کاری کے باعث 25.9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی دوران پاکستان نے پہلی مرتبہ چین کی آن شور کیپیٹل مارکیٹ میں ‘‘پانڈا بانڈ’’ جاری کردیا، جس کے تحت 1.75 ارب آر ایم بی (تقریباً 25 کروڑ ڈالر) کے بانڈز کے اجرا پر 8.8 ارب آر ایم بی سے زائد کی سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی، جو پانچ گنا سے زائد اوور سبسکرپشن رہی۔
حکومت نے اسے پاکستان کی معاشی بحالی، اصلاحاتی ایجنڈے اور عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپسی پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار قرار دیا ہے۔