بنوں دہشت گردوں کی زد میں
خیبر پختون خوا کے شہر بنوں میں پولیس چوکی پر انتہاپسندوں نے منظم منصوبہ بندی کے تحت حملہ کیا۔ بنوں کے علاقے میں فتح خان پولیس چوکی سے بارود بھری گاڑی ٹکرائی۔ دہشت گردوں نے چوکی پر زمینی حملہ کردیا۔ بنوں پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت چوکی میں 18اہلکار تعینات تھے، ان میں سے 15 شہید ہوگئے۔ دہشت گردوں نے چوکی فتح خان پر حملہ کیا اور دہشت گردوں نے ڈرون ٹیکنالوجی استعمال کی۔ پولیس چوکی پر تعینات عملہ کے پاس وہ جدید ٹیکنالوجی موجود نہیں تھی کہ ڈرون حملہ کو ناکارہ بناسکے۔ دہشت گردوں نے پولیس چوکی پر اس وقت حملہ کیا جب ملک بھر میں معرکہ حق کی کامیابی کا جشن منایا جارہا تھا۔
ایک رپورٹ کے مطابق دہشت گردوں کی تعداد 100 کے قریب تھی۔ یہ مسلح افراد ایک طویل فاصلہ طے کرکے مختلف شاہراہوں پر سے ہوتے ہوئے پولیس چوکی تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ سوال بنوں پولیس لائن میں جمع ہونے والے پولیس اہلکاروں کے درمیان بحث کا موضوع بنا رہا کہ دہشت گرد یہاں تک پہنچنے میں کامیاب کیسے ہوئے۔ ایک رپورٹ کے مطابق بنوں پولیس فورس کے سپاہی مایوس اور خوف و ہراس کا شکار ہیں۔
بنوں اور اطراف کے علاقوں میں امن و امان کی صورتحال کے بگڑنے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اتحاد المجاہدین پاکستان نامی ایک مذہبی انتہاپسند تنظیم کے ترجمان محمود الحسن نے اس دہشت گردی کے واقعے پر ایک پمفلٹ شائع کیا ہے جو واٹس ایپ پر دستیاب ہے۔ اس واٹس ایپ پمفلٹ میں اپنے دہشت گردی کے کارنامے کو بیان کیا اور لکھا کہ پولیس چوکی کے قریب کسی قسم کی آبادی نہیں تھی اور پہلے سڑک کو دونوں طرف سے بند کیا گیا اور ایک فدائی نے بارود کی گاڑی پولیس کی چوکی سے ٹکرا دی اور یہ دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے اس واقعے کی وڈیو جلد جاری کی جائے گی۔ اس پمفلٹ میں پولیس کے نام پیغام بھی ہے۔
بنوں کے حالات کے بارے میں ملنے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کے سپاہی سے لے کر عام آدمی تک حکومت سے مایوس ہے۔ صرف بنوں ہی گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی کا شکار رہا ہے۔ بنوں کے عوام حکومت کو اس صورتحال کا ذمے دار قرار دیتے رہے ہیں۔ جولائی 2004ء میں بنوں اور دیگر شہروں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے ہوئے تھے۔
ان مظاہروں میں اس بات پر اتفاق تھا کہ اچھے اور برے طالبان دونوں مذہبی دہشت گردی کے ذمے دار ہیں۔ ان لوگوں کو خیبر پختون خوا سے نکالا جائے۔ عوام کے مطالبے پر اچھے طالبان کے دفاتر بند کردیے گئے تھے اور ان عناصر کو بنوں سے نکال دیا گیا تھا مگر لگتا ہے کہ یہ عناصر پھر سے وہاں آ گھسے ہیں۔ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں کہ ان لوگوں نے اپنی عدالتیں قائم کرلی تھیں، یوں نام نہاد مذہبی بیانیہ کی آڑ میں پھر خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں ایک متوازی حکومتیں قائم ہوئیں۔ ساتھ ساتھ دہشت گردی کی وارداتوں میں شدت آتی چلی گئی تھی۔
چارسدہ میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا ادریس کا قتل اس بات کی علامت ہے کہ دہشت گردی بڑھتی جا رہی ہے۔خیبر پختون خوا کے امور پر تحقیق کرنے والے صاحبانِ علم و دانش کا کہنا ہے کہ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کی بنیادی وجہ ریاست کی کنفیوز اور مبہم پالیسی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد پختون خوا میں دہشت گردی کی وارداتیں بہت زیادہ بڑھ گئیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریک انصاف کی سابقہ حکومت میں طالبان کے کابل پر قبضہ کے بعد تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کابل پر طالبان کے قبضے کو اسلام کی فتح قرار دیا تھا۔ طالبان نے اپنے پہلے خلیفہ ملا عمر کے انتقال کے بعد ملا ہیبت اﷲ اخوندزادہ کو اپنا خلیفہ مان لیا۔ طالبان کے تمام گروپوں نے ہیبت اﷲ کے ہاتھوں بیعت کرلی۔
بیعت کرنے والوں میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طالبان بھی شامل ہوسکتے ہیں۔ تحریک طالبان افغانستان کا بنیادی منشور پورے خطے میں خلافت قائم کرنا ہے۔ اس لیے پاکستان سے تعلق رکھنے والے طالبان بھی اس منشور کے پابند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے منشور میں پختون خوا، بلوچستان اور اطراف کے علاقوں میں طالبان کا نظام قائم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سابقہ حکومت نے پاکستانی طالبان کو پختون خوا میں آنے کی اجازت دی تو ان طالبان نے پہلے سابقہ قبائلی علاقوں میں اپنی عدالتیں قائم کیں اور ان عدالتوں میں چھوٹے مسئلہ سے لے کر بڑے بڑے مسائل کے بارے میں فیصلے ہونے لگے۔
ان طالبان نے خواتین کے سڑکوں پر آنے اور تفریحی مقامات پر جانے پر پابندیاں عائد کیں۔ اس گروہ نے موسیقی کی دکانیں بند کرائیں۔ پشتون معاشرہ میں موسیقی اور اداکاری وغیرہ کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ پھر حجاموں کو پابند کیا کہ وہ کسی شخص کی داڑھی نہیںکاٹیں گے اور شیو بھی نہیں کریں گے۔ ان عناصر نے بعض نوجوانوں کے بڑے بال تک کٹوادیئے کہ بڑے بال رکھنا ان کی شریعت میںممنوع ہے۔
جب یہ طالبان ایک متوازی حکومت قائم کررہے تھے تو صوبائی اور وفاقی حکومتیں کیوں خاموش رہیں۔ اسلحہ کی آزادانہ فراوانی اور ہیروئن کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی کی بناء پر دیگر مسلح گروہ بھی پختون خوا میں متحرک ہوگئے۔ خاص طور پر داعش کی بھی خوب پرورش ہونے لگی۔ ملکی ذرائع یہ الزام لگانے لگے کہ داعش اور بعض دیگر گروہوں کو بھارت سے امداد مل رہی ہے۔ غیر ملکی ذرائع ابلاغ داعش کو امریکا کی سیٹلائٹ تنظیم قرار دیتے ہیں۔ طالبان کے مختلف گروہوں اور داعش کے مختلف گروہوں کے درمیان مسلح جھڑپیں بھی ہوئیں، مگر تحریک انصاف کی سابقہ حکومت کی طرح موجودہ حکومت نے اچھے اور برے طالبان کے نظریے کو اپنالیا اور اس پالیسی کے منفی اثرات برآمد ہونے لگے۔
حقائق کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اچھے طالبان بھی اسی طرح جنونی نظریہ کے حامل ہیں جیسے برے طالبان ہیں۔ اچھے طالبان نے سابقہ قبائلی علاقوں اور پختون خوا کے مختلف علاقوں میں متوازی حکومتیں برقرار رکھیں اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالنے والے سرکاری اہلکاروں اور علاقہ کے امن کے لیے قائم ہونے والی کمیٹیوں کے سربراہوں اور اراکین کو نشانہ بنانا شروع کیا گیا۔ طالبان کی حکومت کو گزشتہ کئی برسوں سے غیر ملکی امداد ملتی رہی۔ پھر بھارت نے کابل اور قندھار میں اپنی سفارتی سرگرمیاں تیز کردیں۔ حکومت پاکستان نے بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی روک تھام کے لیے سخت رویہ اختیار کیا تو طالبان کی حکومت نے اپنی پالیسی تبدیل کرلی۔ ان کی دوستی کا محور دہلی ہوگیا۔ طالبان قیادت نے 80ء کی دہائی میں پاکستان کی افغان مجاہدین اور طالبان کو دی جانے والی امداد کو فراموش کردیا۔
گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان متعدد بار جھڑپیں ہوئی ہیں۔ قطر اور چین کی کوششوں سے دونوں ممالک کے درمیان فائر بندی ہوئی ہے۔ پاکستان نے افغانستان سے تجارت بند کی ہوئی ہے۔ چین نے افغانستان میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ چین افغانستان کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پرمجبور کرسکتا ہے۔ پاکستانی وزارتِ خارجہ کو چینی حکومت سے اس بابت مسلسل رابطہ میں رہنا چاہیے۔
افغانستان کے واقعات پر نظر رکھنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ طالبان کی حکومت کی پوری افغانستان پر عملداری بھی نہیں ہے۔ کابل کی حکومت تحریک طالبان پاکستان کو ان کی طے کردہ شریعت نافذ کرنے کی کوششوں سے روک نہیں سکی مگر پختون خوا اور بلوچستان میں مسلسل دہشت گردی کی وارداتوں سے پاکستان کا دفاعی ، معاشی و سماجی ڈھانچہ متاثر ہورہا ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ ان مذہبی انتہاپسند گروہوں کے خاتمے کے لیے ایک طرف عسکری اور انتظامی پالیسی ازسرنو استوار کی جائے۔ طالبان کے کسی بھی گروہ اور کسی دوسرے دہشت گردوںکی سرپرستی نہ کی جائے۔
مذہبی انتہاپسندی کے عنصریت کو کچلنے کے لیے ایک دفعہ پھر ریاست کا بیانیہ تبدیل ہونا چاہیے، مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے نصاب سے مذہبی انتہاپسندی پر مبنی مواد کے اخراج میں کسی مصلحت سے کام نا لیا جائے۔ طالب علموں، اساتذہ ، صحافیوں اور رائے عامہ ہموار کرنے والے کرداروں کی کونسلنگ کے لیے جامع منصوبہ بندی کرنی چاہیے، عوام کو غربت سے نجات دلانے اور بچوں کو جدید تعلیمی اداروں کی طرف راغب کرنے کے لیے بجٹ میں خاطرخواہ رقم مختص ہونی چاہیے۔ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی صورتحال کا ادراک کرنا چاہیے اور مذہبی انتہاپسندی کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے، اگر اس وقت بلوچستان اور خیبر پختون خوا دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں تو یہ نہ ہو کہ کراچی تک یہ دہشت گردی پہنچ جائے۔