خود سے ملاقات

ضمیر وہ نرم مگر گہری آواز ہے جو برائی کے وقت ہمیں روکتی ہے

زندگی کی سب سے مشکل مگر سب سے ضروری ملاقات وہ ہے جو انسان اپنی ذات سے کرتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب شور تھم جاتا ہے، چہروں کے نقاب اُتر جاتے ہیں اور انسان اپنے اندر کی آواز کو سنتا ہے۔ اسی لمحے میں اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ دراصل کون ہے ، ایک جسم یا ایک روح، ایک خواہش یا ایک احساس؟

یہی لمحہ اس کے اندر کے معرکے کا آغاز بھی ہے اور نجات کا دروازہ بھی۔ جو خود سے مل لیتا ہے، وہ پوری کائنات کو سمجھ لیتا ہے۔

انسان کائنات کی سب سے حیرت انگیز اور پراسرار تخلیق ہے۔ اس کے وجود میں اتنی گہرائی اور وسعت ہے کہ ہزاروں سال گزرنے کے باوجود انسان خود کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکا۔

اس کے اندر ایک روشنی بھی ہے اور ایک تاریکی بھی، ایک خیر کی قوت بھی ہے اور ایک شر کی بھی۔ یہی دو مخالف سمتیں اس کی پوری زندگی کی کہانی ہیں۔ انسان کبھی بلند اخلاقی اقدار کی معراج پر پہنچ کر فرشتوں سے آگے نکل جاتا ہے اور کبھی اپنی خواہشات کے جال میں پھنس کر پستی کی ایسی گہرائی میں چلا جاتا ہے جہاں سے واپسی مشکل ہو جاتی ہے۔

یہی تضاد انسان کی اصل پہچان ہے، اور اسی تضاد میں اس کی آزمائش بھی چھپی ہے۔ انسان کے اندر دو متضاد دنیائیں آباد ہیں۔ ایک وہ دنیا ہے جو روشنی، محبت، ایثار اور سچائی سے بھری ہوئی ہے اور دوسری وہ جہاں لالچ، نفرت، حسد اور خودغرضی کا راج ہے۔

یہ دونوں قوتیں مسلسل ٹکرا رہی ہیں۔ کبھی نیکی غالب آتی ہے اور انسان امن، ایمان اور سکون کے قریب جاتا ہے، اور کبھی برائی حاوی ہو کر اسے بے سکون، بے قرار اور بے مقصد بنا دیتی ہے۔ یہی اندرونی جنگ دراصل زندگی کی اصل کہانی ہے۔

انسان کا نفس اسے فوری خواہشات کی طرف مائل کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ابھی سب کچھ حاصل کر لو، چاہے قیمت کچھ بھی ہو۔ یہ نفس ہی ہے جو غصے کو ہوا دیتا ہے، طاقت کا نشہ پیدا کرتا ہے اور دوسروں پر غالب آنے کی خواہش کو بڑھاتا ہے۔

نفس انسان کو وقتی لذت کا وعدہ تو دیتا ہے لیکن اس کے بدلے میں طویل دکھ دے جاتا ہے، اگر نفس بے قابو ہو جائے تو انسان اپنی عقل، ضمیر اور ایمان کی آواز سننا چھوڑ دیتا ہے۔ وہ اپنے مفاد کے سوا کچھ نہیں دیکھتا۔

انسان کے اندر ایک اور طاقت بھی ہے جسے’’ ضمیر ‘‘کہتے ہیں۔ ضمیر وہ نرم مگر گہری آواز ہے جو برائی کے وقت ہمیں روکتی ہے، ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ جب ہم کسی کو نقصان پہنچانے لگتے ہیں یا کسی بے انصافی میں شریک ہوتے ہیں تو دل میں جو ہلکی سی جھجک محسوس ہوتی ہے، وہ دراصل ضمیر کی صدا ہوتی ہے۔

یہ ہمیں اس راہ پر رکھتی ہے جو انسانیت کا راستہ ہے، مگر اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم دنیا کے شور میں اس آواز کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، کیونکہ ضمیر کا کہنا ماننا مشکل لگتا ہے۔ عقل نفس اور ضمیر دونوں کے درمیان ایک پل کا کام کرتی ہے۔

یہ سوچنے اور نتائج کا اندازہ کرنے کی طاقت ہے۔ عقل نفس کے شور میں بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ انجام کیا ہوگا، اگر انسان کی عقل بیدار اور ضمیر زندہ ہو تو وہ نفس کے دھوکے میں نہیں آتا، لیکن اگر عقل خواہش کے تابع ہو جائے تو انسان اندھے کنویں میں جا گرتا ہے۔

دین اور روحانیت کے مطابق نفس کی تین حالتیں ہیں جو انسان کے اندرونی سفر کو ظاہر کرتی ہیں۔ پہلی حالت نفس امّارہ ہے، جو برائی کا حکم دیتا ہے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان مکمل طور پر خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، اسے اپنے فائدے، طاقت اور مزے کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

جھوٹ، دھوکہ اور ظلم اس کے معمول بن جاتے ہیں، یہی روحانی زوال کی ابتدا ہے۔دوسری حالت نفسِ لوّامہ ہے، جو بیداری اور شعور کی علامت ہے۔ اس مرحلے میں انسان غلطی تو کرتا ہے لیکن فوراً اپنے ضمیر کی آواز سن کر پشیمان ہوتا ہے۔ وہ خود کو ملامت کرتا ہے، اپنی کمزوریوں پر غور کرتا ہے اور بہتر بننے کی کوشش کرتا ہے۔

یہی احساس ندامت انسان کے اندر تبدیلی کا پہلا دروازہ کھولتا ہے۔تیسری اور سب سے بلند حالت نفسِ مطمئنّہ ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان کی اندرونی جنگ کمزور پڑ جاتی ہے۔ اس کی خواہشات اس کے قابو میں آ جاتی ہیں اور اس کی زندگی میں ایک گہرا سکون اور اطمینان پیدا ہو جاتا ہے، وہ دنیا کو مقصد نہیں بلکہ امتحان سمجھتا ہے۔

اس کا دل حرص، خوف اور بے چینی سے آزاد ہو جاتا ہے اور وہ روحانی سکون میں حقیقی خوشی محسوس کرتا ہے، یہی وہ مقام ہے جہاں انسان اپنی اصل کامیابی حاصل کرتا ہے۔انسان کی زندگی کی سب سے بڑی لڑائی اسی کے اندر لڑی جاتی ہے۔

یہ جنگ تلوار یا بندوق سے نہیں بلکہ ارادے، صبر اور ضبط ِ نفس سے لڑی جاتی ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات کے تابع ہو جاتا ہے تو وہ لمحاتی خوشی کے بدلے دائمی سکون گنوا دیتا ہے۔ وہ دولت، طاقت اور شہرت کی دوڑ میں اپنے رشتوں، اصولوں اور خودی کو روند ڈالتا ہے، وہ بظاہر کامیاب لگتا ہے لیکن اندر سے خالی ہوتا ہے۔

نفسیات کہتی ہے کہ بہت سے لوگ جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں یا ہر وقت غصے میں رہتے ہیں، ان کے اندر بچپن کے زخم، محرومیاں یا خوف چھپے ہوتے ہیں، وہ اپنی کمزوریوں کو طاقت کے پردے میں چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب ایک فرد کا نفس غالب آ جاتا ہے تو نقصان صرف فرد تک محدود نہیں رہتا بلکہ پورے معاشرے تک پھیل جاتا ہے ۔مایوسی گناہ ہے اور ہر وہ شخص جو اپنی غلطی کو مان کر سنبھلنے کی کوشش کرتا ہے، وہ نئی صبح کے قریب ہوتا ہے۔

جب انسان اپنے ضمیر کی آواز سنتا ہے اور اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے تو یہی ندامت اسے دوبارہ بہتر بناتی ہے۔ اصل بہادری یہ نہیں کہ انسان کبھی نہ گرے بلکہ یہ ہے کہ وہ گر کر دوبارہ اٹھے، خود کو سنوارے اور اپنی غلطیوں سے سیکھے۔

آخر میں انسانیت کی اصل تعریف یہی ہے کہ انسان گرتا بھی ہے اور اٹھتا بھی ہے، بھٹکتا بھی ہے اور سنبھلتا بھی ہے۔ اس کی عظمت اس کے گرنے میں نہیں بلکہ اس کے دوبارہ اٹھنے کی طاقت میں ہے۔ جو شخص اپنے اندھیروں کو پہچان کر روشنی کی طرف قدم بڑھاتا ہے، جو اپنی غلطیوں کو مان کر اصلاح کرتا ہے، وہی حقیقی انسان ہے۔ یہی انسان کی اصل پہچان ہے ، ایک مسلسل تلاش، ایک جاری معرکہ اور ایک ایسی جدوجہد جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Load Next Story