انجمن ترقی پسند مصنفین کا سماجی تبدیلی میں کردار

سچانند سنہا اور جوش ملیح آبادی نے بھی انجمن کی حمایت کی

انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد 1935میں لندن میں زیر تعلیم ہندوستانی طلبہ اور ادیبوں نے رکھی، جن میں سید سجاد ظہیر پیش پیش تھے۔ نانکنگ ریسٹورنٹ میں ہونے والے اس اجلاس میں ڈاکٹر ملک راج آنند، ڈاکٹر جیوتی گھوش، ڈاکٹر کے ایس بھٹ، ڈاکٹر ایس تنہا، ڈاکٹر دین محمد تاثیر اور دیگر شریک ہوئے اور ابتدائی منشور پر دستخط کیے۔

انجمن کے پہلے صدر ملک راج آنند منتخب ہوئے۔انجمن کا پہلا منشور کنور محمد اشرف، عبدالعلیم، اختر حسین رائے پوری، رشید جہاں، محمود الظفر، پرمود سنگھ گپتا اور جیوتی گھوش نے تیار کیا تھا۔ انجمن کا پہلا باقاعدہ اجلاس 9 اور 10 اپریل 1936کو لکھنؤ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔

اپنی تاریخی تقریر میں انھوں نے کہا تھا کہ ’’اچھے ادب کی بنیاد انسان دوستی، سچائی اور آزادی کے حسن پر ہے۔ اس کے بغیر وہ ادب جس میں روحانی اور ذہنی تسکین نہ ملے، جو قوت اور حرکت پیدا نہ کرے اور جو سچے ارادے اور مشکلات پر قابو پانے کے لیے استقلال پیدا نہ کرے، وہ ہمارے لیے بے کار ہے اور اسے ادب نہیں کہا جا سکتا۔‘‘

علامہ اقبال نے بھی اس تحریک کی حمایت کی۔ انجمن کے منشور پر دستخط کرنے والوں میں ڈاکٹر عابد حسین، نیاز فتح پوری، قاضی عبدالغفار، فراق گورکھپوری، مجنوں گورکھپوری، علی عباس حسینی، جان نثار مجاز، حیات اللہ انصاری اور خواجہ احمد عباس شامل تھے۔ انجمن نے‘‘ادب برائے ادب’’کے بجائے ’’ادب برائے زندگی‘‘ کو اپنا مقصد قرار دیا۔

ادب کو فرضی قصوں کے بجائے حقیقی زندگی، سماجی اور سیاسی تبدیلی کے لیے تخلیق کرنے اور رجعت پسند روایات کو ترک کرنے پر زور دیا گیا۔ سید سجاد ظہیر کے علاوہ منشی پریم چند، فیض احمد فیض، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور ساحر لدھیانوی نے بھی اہم کردار ادا کیا۔

پہلی مرتبہ انجمن نے انسانیت کو ترجیح دی۔جولائی 1935 میں پیرس میں’’ دی ورلڈ کانگریس آف رائٹرز فار دی ڈیفنس آف کلچر‘‘منعقد ہوئی، جس میں برصغیر سے سجاد ظہیر اور ملک راج آنند نے شرکت کی۔ وہاں انھیں رولان، رومان، ٹامس مان اور آندرے مالرو جیسے عالمی دانشوروں سے ملنے کا موقع ملا۔ترقی پسند تحریک پر پہلا حملہ کلکتہ کے نیم سرکاری اخبار’’ اسٹیٹس مین ‘‘میں قسط وار مضامین شائع کرکے کیا گیا۔

سید سجاد ظہیر کے مطابق یہ مضامین برطانوی حکومت کے سینٹرل انٹیلی جنس بیورو میں لکھے گئے تھے۔ علی سردار جعفری نے کہا تھا۔’’ہم پر اعتراض کرنے والوں کی شکایت ہماری شاعری سے زیادہ ہمارے فلسفے سے ہے۔‘‘

سچانند سنہا اور جوش ملیح آبادی نے بھی انجمن کی حمایت کی۔ انجمن کے مقاصد میں جدید سائنسی سوچ اور حقیقت پسندی کو ادب میں جگہ دینا اور فنون لطیفہ کو سماجی شعور اور انقلاب کے لیے استعمال کرنا شامل تھا۔

انجمن ترقی پسند مصنفین کی دوسری کل ہند کانفرنس 1939 میں کلکتہ میں ہوئی، جس کی صدارت ملک راج آنند نے کی۔ تیسری کانفرنس 1942 میں دہلی میں ڈاکٹر عبدالعلیم کی صدارت میں ہوئی۔ چوتھی کانفرنس 1945میں حیدرآباد میں مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں منعقد ہوئی، جب کہ پانچویں کانفرنس 1947 میں لکھنؤ میں رشید احمد صدیقی کی صدارت میں ہوئی۔

انجمن کے مخالفین زیادہ تر خود انجمن کے اندر سے پیدا ہوئے، جن میں ڈاکٹر حسن عسکری، سعادت حسن منٹو، ممتاز شیرین، ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، انتظار حسین، میرا جی اور ن م راشد شامل تھے۔ یہ اختلافات خاص طور پر 1949 میں سامنے آئے جب لاہور میں انجمن کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اجلاس ہوا۔

مخالفت کی بنیادی وجہ انجمن کا سوشلزم کی طرف جھکاؤ تھا۔ اس اجلاس میں فیض احمد فیض کو صدر اور احمد ندیم قاسمی کو جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا۔ انجمن میں شامل ادیب پہلے سے ہی سرگرم تھے۔ جب 1933 میں انگریز حکومت نے ان کے جریدے’’ انگارے‘‘ پر پابندی لگا دی تھی۔

حکومت کا مؤقف تھا کہ اس میں سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہاں اور محمود الظفر کی قابل اعتراض تحریریں شامل ہیں اور جس کے پاس یہ رسالہ پایا گیا اسے سزا دی جائے گی۔ 15 مارچ 1933 کو اس پر باضابطہ پابندی عائد کردی گئی۔

10 اپریل 1936کو آل انڈیا پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن قائم ہوئی۔قیامِ پاکستان کے بعد 1954میں آل پاکستان پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن پر پابندی لگا دی گئی۔ 1958میں ایوب حکومت نے پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے اخبارات’’پاکستان ٹائمز‘‘اور’’امروز‘‘کو سرکاری تحویل میں لے لیا۔

اس کے بعد آل پاکستان پروگریسو رائٹرز ایسوسی ایشن اپنا باقی ماندہ وجود بھی کھو بیٹھی۔ اس حوالے سے کامران صدر علی کی کتاب ’’سرخ سلام: پاکستان میں کمیونسٹ سیاست اور طبقاتی جدوجہد‘‘ اور’’انگارے‘‘پر شبانہ محمود کا کام قابل تعریف ہے۔

انجمن کو عوام اور اہل قلم تک پہنچانے میں سید سجاد ظہیر کے ساتھ فیض احمد فیض، احمد فراز، حبیب جالب، علی سردار جعفری، سعادت حسن منٹو، احمد ندیم قاسمی، حمید اختر، سلیم احمد اور ساحر لدھیانوی نے اہم کردار ادا کیا۔’’نظام‘‘کے نام سے ایک رسالہ بھی شائع ہوتا تھا، جس کے ابتدائی ایڈیٹر انتظار حسین تھے۔

1949میں مظہر علی خان کے گھر ہونے والے ایک اجلاس میں انتظار حسین اور حسن عسکری کو کمیونزم دشمن قرار دے کر انجمن کے رسالے میں ان کی تحریریں شائع کرنے پر پابندی لگا دی گئی، جس سے انجمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔

منٹو کو بھی انجمن سے خارج کردیا گیا۔ بعد میں سید سبط حسن نے خط لکھ کر انتظار حسین سے اس فیصلے پر معذرت کی، لیکن تب تک بہت نقصان ہوچکا تھا۔ ان تمام حالات، سرگرمیوں اور حکومتی حملوں کا اثر انجمن پر لازمی پڑا۔

نتیجتاً اس کے مقاصد میں کچھ تبدیلیاں آئیں اور انجمن نے سیاست کے بجائے ترقی پسند ادب کے ذریعے عوام کو بیدار کرنے اور نئی دنیا سے روشناس کرانے کا بیڑا اٹھایا۔ 1950میں لاہور میں ہونے والے ادبی اجلاس میں سبط حسن، مولوی عبدالحق، عبداللہ ملک، مظہر علی خان اور احمد ندیم قاسمی شریک ہوئے، جب کہ ان دنوں سجاد ظہیر اور فیض احمد فیض جیل میں قید تھے۔

پاکستان بننے کے بعد انجمن کی سرگرمیاں کچھ عرصے کے لیے معطل رہیں، لیکن جب سجاد ظہیر 1948میں پاکستان آئے تو 1949 میں انجمن کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششیں شروع ہوئیں، مگر 26 جولائی 1954ء کو انجمن پر پابندی لگا دی گئی اور سید سجاد ظہیر کو ملک بدر کرکے بھارت بھیج دیا گیا، جس سے مشکلات مزید بڑھ گئیں۔

اس کے باوجود سخت ترین حالات میں بھی ترقی پسند ادب تخلیق ہوتا رہا اور مختلف ادبی فورمز پر سرگرمیاں جاری رہیں۔ خاص طور پر سندھ میں سندھی ادبی سنگت نے ترقی پسند ادب کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ جس میں جون ایلیا، حبیب جالب، فیض احمد فیض، شیخ ایاز، ابراہیم جویو، سوبھو گیانچندانی، ابراہیم جویو، رشید بھٹی، کامریڈ برکت آزاد اور دیگر کا نمایاں کردار رہا ہے۔موجودہ دور میں اگرچہ انجمن دھڑوں میں تقسیم ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اپنی موجودگی اور ذمے داری کا احساس دلاتی رہتی ہے۔

ان کی سرگرمیاں کسی نہ کسی سطح پر جاری ہیں اور ان میں ترقی پسندی کا رجحان موجود ہے۔ بزرگوں کی ضد کے باعث یہ دھڑے ایک ہونے سے دور ہیں، لیکن ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ ان کی سوچ میں تبدیلی آئے، کیونکہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے اور ایک دن انھیں اپنی انا کو دفن کرنا پڑے گا۔

Load Next Story