تعلیم اور جدید تصورات
آج کی دنیا تعلیم کے پرانے اور فرسودہ تصورات کے مقابلے میں جدید تصورات کے ساتھ آگے بڑھنے کی کوشش کررہی ہے اور اس میں عملا جو دنیا میں نئے تعلیمی تجربات ہورہے ہیں، ان سے استفاد ہ حاصل کیا جارہا ہے ۔لیکن اس کے مقابلے میں جو ممالک آج بھی اپنے ملکوں کی سطح پر روائتی تعلیم کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔
ان کی اپنی تعلیمی اہمیت بھی کم ہورہی ہے اور ان کا تعلیمی نظام بہت سے تنقیدی سوالات کی بنیاد پر عالمی اور داخلی سطح پر زیر بحث بھی ہے۔
تعلیم بنیادی طور پر محض ایک ڈگری یا لکھنے اور پڑھنے کا نام نہیں ہے ۔یقینی طور پر اس کی بڑی اہمیت کو ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔
لیکن تعلیم کے پیچھے جہاں علم ،معلومات اور تحقیق کی اہمیت ہوتی ہے وہیں اسی تعلیم کی بنیاد پر پڑھنے والوں کے اندر سیاسی ،سماجی شعور،حالات کو جانچے کا تنقیدی جائزہ ، موازنہ اور تجزیاتی صلاحیت ،اچھے اور برے کو پرکھنے کا عمل سمیت حالات و واقعات کو منطق ،دلیل اور شواہد کی بنیاد پر سمجھنا ہے۔
لوگوں میں جذباتیت کے پہلو کا نمایاں ہونا یا ان میں فیصلہ سازی کا عمل جذباتیت کی بنیاد پر کھڑا ہو تو وہ حقیقی تعلیم کے تقاضوں کے برعکس ہوتا ہے ۔
آج کی جدید تعلیم محض نصابی کتابوں تک محدود نہیں بلکہ اسے اردگرد یا عالمی حالات سے آگاہی دینا اور اس میں ان معاملات کو سمجھنے کے لیے ایک بڑے فریم ورک کو پیدا کرنا بھی تعلیمی ضروریات کے زمرے میں آتاہے۔
ہمارا تعلیمی نظام نصابی کتابوں تک محدود ہوگیا ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر امتحان کو بڑے مارجن کے ساتھ کامیاب ہونا ہماری ترجیحات کا حصہ بن گیا ہے۔غ
یر نصابی کتابیں جن میں سماجیات،نفسیات اور تاریخ ،معیشت،گلوبلائزیشن،فلسفہ،لٹریچر اور سائنس کی دنیا سے ہم کافی دور چلے گئے ہیں ۔مسئلہ طالب علم تک محدود نہیں بلکہ نئے جو یہاں نئے اساتذہ بھی موجود ہیں ان میں مطالعہ کی کمی براہ راست بچوں پر بھی اثرانداز ہوتا ہے۔
یقینی طور پر استاد اپنے موضوع پر گرفت رکھتا ہوگا، مگر دیگر موضوعات پر اس میں مطالعہ کی کمی یا جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے اس کی کمی کا پہلو ہمیں اساتذہ میں دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ ہی صورتحال ہمیں گھر کی سطح پر بھی نظر آتی ہے جہاں پڑھے لکھے والدین نہ تو خود مطالعہ کے عادی ہوتے ہیں اور نہ ہی ان کے گھروں میں کتابیں دیکھنے کو ملتی ہیں۔
خود والدین بھی اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ بچہ محض خود کو نصابی کتابوں تک محدود رکھے اور اچھے نمبر حاصل کرے ،اگر گھر کی سطح پر کوئی بچہ یا بچی غیر نصابی کتب کا مطالعہ کرتے ہیں تو والدین کی جانب سے ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔
اسی طرح اسکول سے لے کر گھروں تک ہمیں تعلیم کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے تعلیمی مکالمہ،مختلف چھوٹے چھوٹے گروپ مباحثہ ،ان میں قائدانہ صلاحیت کو پیدا کرنے کو بنیاد بنا کر ان کو اسٹیج پر لانا ،بچوں میں سوال و جواب کی نشست،سوالات کی پزیرائی کرنا،کمزور بچوں کو خصوصی توجہ دینا ،حالات حاضرہ پر مبنی نشست کو فروغ دینا،عالمی دنوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا اور اس کی عملی سرگرمیوں کا فروغ،ڈیجیٹل دنیا کی آگاہی اور استعمال کا فقدان بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔
اصل معاملہ سوالات کا ہے ۔یہ صدی سوالات کی صدی ہے ،جو کچھ عالمی،علاقائی اور داخلی محاذ سمیت ہمارے اردگرد معلومات کا پھیلاو بڑھ رہا تو ایسے میں بچوں اور بچیوں کے درمیان سوالات کا پیدا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔
بچوں اور بچیوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات اٹھتے ہیں اور وہ ان کا جواب چاہتے ہیں۔ممکن ہے کہ بچوں اور بچیوں کے سوالات غلط ہوں اور اس میں کوئی ترتیب اور وزن بھی نہ ہو۔
لیکن سب کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ سوال کبھی غلط یا درست نہیں ہوتا بلکہ وہ سوال ہی ہوتا ہے۔اگر ہم سوال کو بنیاد بنا کر بچوں سے ان پر مکالمہ کریں اور ان کو اپنی بات یا ان کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں تو ذہنوں میں موجود بہت سے سوالات اور بدگمانیوں یا غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہوسکتا ہے۔
لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نظام ہی سوالات کو اپنے لیے ایک بڑا خطرہ سمجھتا ہے ۔اول ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نے بچوں اور بچیوں کو آزادانہ بنیادوں پر سوالات کی اجازت دی تو یہ عمل ان میںعملا سیاسی،سماجی اور تنقیدی شعور کو پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
اس لیے بچوں اور بچیوں کو جتنا سوالات کی دنیاسے باہر رکھا جائے تو یہ عمل ان کے اپنے مفادات کے حق میںہوگا۔دوئم طاقت ور طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر سوالات کی اجازت ہو تو اس سے اس نئی نسل میں ہماری جوابدہی کا تصور مضبوط ہوگااور ہم عملی طور پر کمزور ہوںگے۔
سوئم اگر سوالات کی روایت پڑگئی تو سوالات کرنے والوں کی تعدادمزید بڑھے گی جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں۔چہارم اسی بنیاد پر سوالات کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے یا ان سوالات کرنے والوں کی طاقت کی بنیاد پردبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پنجم استاد، والدین یا طاقت ور طبقہ خودکو عقل کل سمجھتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ جووہ کہہ رہا ہے وہی سچ ہے اور کوئی ہماری علمیت کوچیلنج نہ کرے ۔ہمیں بنیادی طور پر سوالات کی دنیا کو تسلیم کرنا ہوگا۔
ہمارے تعلیمی ماحول میں ہمیں انتہا پسندانہ مزاج اور رجحانات دیکھنے کو مل رہے ہیں ، اس سے بچوں اور بچیوں کو باہر نکالنا ہوگا۔ تعلیم کی بنیاد پر جو انتہا پسندی کی سوچ ابھر رہی ہے، اس کاخاتمہ بھی کرنا ہے اور تعلیمی نصاب کو نئے سرے سے جدید بنیاد پر ترتیب بھی دینا ہوگا تاکہ نفرت یا تعصب کی سوچ کا خاتمہ ہو۔
ہمیں اپنی تعلیم کو بنیاد بنا کر بچوں اور بچیوں کے درمیان ان کا سماجی اور ادارہ جاتی راوبط یا ان کے دوروں کو بنیاد بنا کر آگے بڑھنا ہوگا ۔بچوں میں یہ سوچ ہم کو اجاگر کرنا ہوگی کہ وہ رٹی رٹی باتوں پر یقین کرنے کی بجائے ان پر تحقیق یا جستجو کو پیدا کریں اور خود سے یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ یہ سب کچھ کیسے ہورہا ہے تاکہ ان میں گہرائی سے معاملات کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔
یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ تعلیم کا براہ راست تعلق سیاست اور سیاسی شعور سے ہوتا ہے ۔یہ جو ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں بچوں کو سیاست سے دور کھنا ہے درست تجزیہ نہیں ۔عملی سیاست یا سیاسی جماعتوں سے جڑی سیاست کچھ اور ہے لیکن اپنے آئینی ،سیاسی،سیاسی ،سماجی ،قانونی اور معاشی حقوق کو سمجھنا اور اس سے آگاہی حاصل کرنا یا ان سے متعلق ان کا سوالات اٹھانا یا کرنا بچوں اور بچیوں کا بنیادی سیاسی حق ہے۔
تعلیم کو بطور تبدیلی کے لیے ہمیں جو پرانے اور فرسودہ سطح کے خیالات ہیں اس کے خاتمہ میں کلیدی کردار ادا کرنا چاہیے۔کیونکہ اب جس تیزی سے دنیا تبدیل ہورہی ہے ہمیں بھی اس تبدیلی کے عملا ساتھ جوڑ کر آگے بڑھنا ہوگا ،وگرنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔
سب سے اہم بات ہمیں معاشرے میں جس تیزی سے انفرادی ترقی کی جو جنگ شروع ہوئی ہے اس میں اجتماعی ترقی سے جڑے سیاسی،سماجی اور معاشی رویوں کو بھی فروغ دینا ہوگا۔یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ جو لوگ طاقت ور ہوتے ہیں ان کو کمزور لوگوں کے مسائل کے ساتھ کھڑے ہوکر ان کا ساتھ بھی دینا چاہیے اور ان کے مسائل پرآواز بھی اٹھانی چاہیے۔