پہلگام… بھارت کا فالس فلیگ آپریشن
وہ سات مئی 2025 کی اندھیری اور بھیانک رات آج بھی یاد ہے جب بھارت نے اچانک پاکستان پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔ ان حملوں کی ویسے تو کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ آخر مودی سرکار کو بیٹھے بٹھائے پھر کیوں جنگی جنون چڑھ گیا کہ اس نے کئی طیارے جن میں اس کے حال ہی میں خریدے گئے جدید جنگی رفال طیارے بھی شامل تھے، پاکستان میں تباہی پھیلانے کے لیے بھیج دیے تھے۔
جب ٹی وی کھولا تو پتا چلا کہ یہ بھارتی جارحانہ کارروائی پہلگام میں اپنے سیاحوں کے قتل کیے جانے کا بدلہ لینے کے لیے کی جا رہی ہے۔
پہلگام مقبوضہ کشمیر میں ایک خوبصورت پرفضا مقام ہے جہاں اب بھارتی حکومت کی دعوت پر بھارتی سیاح سیر و تفریح کے لیے آتے ہیں مگر وہاں فوج کافی تعداد میں موجود ہوتی ہے کیونکہ بھارت سرکار کو جموں کشمیر میں حریت پسندوں کا ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں وہ حکومت کے خلاف کارروائی نہ شروع کر دیں کیونکہ بھارت نے جموں کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے۔
حریت پسندوں کے ڈر کی وجہ سے پہلگام میں ہمیشہ فوجیوں کا پہرہ رہتا ہے اور فوج کی نگرانی میں سیاح وہاں سیر و تفریح کرتے ہیں تو پھر ان کی موجودگی میں سیاح کیسے مارے گئے، بھارتی فوج نے قاتلوں کو کیوں نہیں روکا، حملے کے وقت وہ کہاں تھے کہ یہ دلخراش سانحہ رونما ہو گیا، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا مگر ہمارے ٹی وی پر بھارتی طیاروں کی پاکستانی سرحدوں میں داخل ہونے اور کئی شہروں و قصبوں میں تباہی مچانے کا احوال بھی بتایا جا رہا تھا۔
ذہن بہت پریشان تھا کہ بھارتی الزام بھی سامنے آ گیا کہ پہلگام میں بھارتی سیاحوں کو پاکستانی دہشت گردوں نے نشانہ بنایا ہے اور اس واقعے کی پاداش میں پاکستان پر حملہ کیا گیا ہے۔ اس سانحے کے بعد بھارتی فوجی وہاں پہنچ گئے اور قاتلوں کو تلاش کرنا شروع کر دیا تھا۔
سوال یہ تھا کہ وہ سانحے کے وقت کہاں تھے؟ وہ اگر وہاں موجود ہوتے تو ضرور قاتلوں کا مقابلہ کرتے تو اتنی بڑی تعداد میں یعنی کہ 26 سیاح نہ مارے جاتے۔ بھارتی فوجی قاتلوں کو تلاش کرتے رہے مگر وہ نہ ملے تو آخر انھیں زمین کھا گئی یا آسمان نے اچک لیا تھا۔
اب جیساکہ بھارتی الزام تھا کہ پاکستانی دہشت گرد سرحد پار کرکے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوئے تھے اور اپنا کام کرکے چھپ گئے تھے تو پہلگام کا علاقہ آزاد کشمیر سے تقریباً 400 میل دور ہے۔ وہ اتنا بڑا فاصلہ طے کرکے بھارتی سرحدی فوجیوں سے بچتے بچاتے وہاں کیسے پہنچے؟
گویا کہ وہ بجلی کی رفتار سے آئے اور اپنا کام کر کے چلے گئے۔ قاتلوں کی کئی دنوں تک نام نہاد تلاش جاری رہی مگر وہ ہوتے تو پکڑے جاتے۔ پھر فوج نے اپنی عزت بچانے یا حکومتی اشارے پر کچھ معصوم کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کرکے انھیں پاکستانی دہشت گرد بتا کر ٹی وی پر دکھایا کہ یہی ہیں وہ پاکستانی قاتل جنھوں نے یہ دہشت گردی کی ہے۔
پاکستانی حکومت نے اس کی فوراً تردید کر دی کہ یہ بھارت کا جھوٹ ہے اور یہ اس کا فالس فلیگ آپریشن ہے پھر اس بھارتی کارروائی کی وجہ سمجھ میں آنے لگی کہ آخر مودی سرکار نے یہ گیم کیوں کھیلی ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ بھارتی صوبہ مغربی بنگال میں الیکشن ہونے والے تھے اور مودی سرکار ماضی میں بھی ریاستی اور مرکزی الیکشنز سے پہلے پاکستانی دہشت گردی کا واویلا کرکے بھارتی عوام کی ہمدردی حاصل کرکے الیکشنز میں کامیابیاں حاصل کرتی رہی تھی۔
اس سے پہلے اڑی اور پلوامہ وغیرہ میں بھی مودی سرکار صرف سیاسی فائدے کے لیے اپنے ہی شہریوں کا اپنے ہی دہشت گردوں سے قتل عام کرا کے پاکستان پر جھوٹا الزام لگا کر الیکشنز میں کامیابیاں بٹورتی رہی تھی۔ اس دفعہ مودی نے پہلگام میں اڑی اور پلوامہ جیسا خونی ڈرامہ رچانے کا پروگرام بنا لیا تھا اور پھر 22 اپریل کو یہ ڈرامہ کامیابی سے رچایا گیا جس میں 26 بھارتی سیاح جو بھارت کے مختلف شہروں سے وہاں سیر و تفریح کے لیے اپنے خاندانوں کے ساتھ آئے تھے، مار دیے گئے۔
دہشت گردوں نے حکومت سے طے شدہ معاملات کے تحت اندھادھند گولیاں چلا کر اپنا مشن پورا کر لیا تھا حالانکہ جموں کشمیر کا علاقہ پہلے سے ہی حریت پسندوں کی کارروائیوں کی زد میں ہے مگر مودی نے جھوٹا امن کا پرچار کرکے اور اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے بھارتی عوام کو باور کرا دیا تھا کہ اس نے اپنی حکمت عملی سے حریت پسندوں پر قابو پا لیا ہے اور اب وہ آزادی سے کشمیر میں سیر وتفریح کے لیے آ سکتے ہیں۔
سرکاری یقین دہانی پر لوگ کشمیر کے تفریحی مقامات پر سیر وتفریح کے لیے آنے لگے تھے مگر انھیں کیا پتا تھا کہ مودی انھیں اپنے سیاسی مقاصد کی بھینٹ چڑھا دے گا اور پھر اڑی اور پلوامہ کے سانحات کی طرح اس دفعہ بھی بغیر کسی تحقیق کے اس دہشت گردی کا الزام پاکستان پر لگا کر عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس مرتبہ حالات مختلف ثابت ہوئے۔
بھارت نے پہلگام کا بدلہ پاکستان سے لینے کے لیے پلاننگ کے تحت پاکستان پر فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔ اس دفعہ پاکستان پہلے سے ہی بھارتی اداروں سے ہوشیار تھا، اس نے بھارتی فضائی حملوں کا جواب دیا اور آناً فاناً اس کے سات جنگی طیارے مار گرائے۔
اس کے بعد مودی کو ہوش آ گیا اور اس نے پاکستان کے بدلے تیور دیکھ کر فوراً امریکی صدر سے جنگ رکوانے کی درخواست کی اور یوں سیز فائر ہو گیا۔ اس دفعہ اس کا ڈرامہ بہت مہنگا ثابت ہوا ۔بھارت کی فضائی طاقت کا غرور ٹوک گیا۔
گو بی جے پی آج مغربی بنگال کا الیکشن ضرور جیتی ہے لیکن الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں میں ہیرا پھیری کرا کے ممتا بینر جی کو ہرایا گیا۔ چنانچہ ممتا نے انتخابات کے نتائج کو قبول نہیں کیا اور استعفیٰ دینے سے انکار کر دیا۔
پھر بعد میں اپنے ہی رہنماؤں کے سمجھانے پر اس نے استعفیٰ تو دے دیا مگر وہاں کے عوام نے بی جے پی کی جیت کو قبول نہیں کیا۔ اب بی جے پی کی طرف سے شوبھندر ادھی کاری نے چیف منسٹر شپ کا حلف اٹھا لیا جس سے مودی اور امیت شا کی چالبازی ضرور کامیاب ہو گئی مگر یہ سوال پھر بھارت میں گردش کرنے لگا کہ جب تمام ہی سیاسی پارٹیاں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے انتخابی نتائج کے خلاف ہیں تو بی جے پی اسے اپنانے پر کیوں بضد ہے؟
حالات بتا رہے ہیں کہ اگر بیلٹ پیپرز کے ذریعے انتخابات کرائے گئے تو بی جے پی نہیں جیت سکے گی۔ دراصل بی جے پی کی نفرت کی پالیسی اور بھارت میں بڑھتی ہوئی غربت اور غنڈہ گردی سے بھارتی عوام تنگ آ چکے ہیں اور وہ تازہ ہوا کے جھونکے کا انتظار کر رہے ہیں مگر نہ جانے کب ان کی یہ خواہش پوری ہوگی۔
مودی نے ابھی تک پہلگام میں پاکستانی دہشت گردی کے ثبوت پیش نہیں کیے ہیں جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ بھارت کا ایک فالس فلیگ آپریشن تھا جس کے ذریعے بھارت پاکستان کو بدنام کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا۔