بلوچستان؛ دہشتگردی کے سنگین خدشات، صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ

سیکیورٹی ادارے فتنہ الخوارج اورفتنہ الہندوستان سمیت دشمن عناصر کی کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں

فوٹو: فائل

حکومت بلوچستان نے دہشت گردی کے سنگین خدشات کے پیش نظر صوبے بھر میں فوری طور پر دفعہ 144 نافذ کر دیا، جس کا اطلاق اگلے 30 دن تک برقرار رہے گا۔

حکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق دفعہ 144 کے تحت عوامی مقامات پر چہرے کو ماسک، مفلر، سٹول یا کسی بھی ذریعے سے ڈھانپنے پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے تاکہ سیکورٹی اداروں کو شناخت کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ ہو۔

صوبائی حکومت نے تمام ڈویژنل کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، پولیس حکام اور متعلقہ سکیورٹی اداروں کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان احکامات پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے، خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی کی جائے گی ۔

محکمہ داخلہ کے ترجمان بابر یوسف زئی نے کہا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد موٹر سائیکل پر ڈبل سواری اور 4 سے زائد افراد کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سیکیورٹی ادارے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان سمیت دشمن عناصر کی جانب سے کسی بھی ممکنہ کارروائی سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ ہیں۔

بابر یوسف زئی نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کی جانب سے کسی قسم کی مہم جوئی یا ایڈونچر کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا، سیکیورٹی فورسز مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہیں اور کسی بھی ناخوش گوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اقدامات صوبے میں ممکنہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام اور عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے کیے گئے ہیں، خاص طور پر مذہبی اجتماعات، سیاسی ریلیوں اور دیگر بڑے اجتماعات پر پابندی کا اطلاق ہو گا اور شادی بیاہ اور دیگر خاندانی تقریبات کے حوالے سے بھی پابندیوں کا خیال رکھا جائے گا۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سمیت مختلف اضلاع میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی جانب سے گشت بڑھا دی گئی ہے اور حکومت کی جانب سے شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حکومتی احکامات کی مکمل پابندی کریں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ حکام کو دیں۔

حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ پابندیاں عارضی نوعیت کی ہیں اور صورت حال بہتر ہونے پر فوری طور پر ختم کر دیا جائے گا تاہم اس دوران شہریوں کو معمول کی زندگی گزارتے ہوئے سیکیورٹی ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

صوبائی حکومت کی اس پیش قدمی کو مختلف سیاسی و سماجی حلقوں نے دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدام قرار دیا ہے جبکہ بعض حلقوں نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کے ممکنہ اثرات پر تشویش بھی ظاہر کی ہے۔

Load Next Story