ایک اور غیر متوقع آئینی ترمیم کی سرگوشیاں، حکومت انکاری

مالی بوجھ شیئرنگ پر بات ہو رہی ہے، ووٹر کی 25 سال عمر کی تجویز زیرغور، رانا ثناء

اسلام آباد:

ملک میں ایک بار پھر نئی آئینی ترمیم سے متعلق وہی چہ مگوئیاں ہو رہیں جیسی26 ویں اور 27 ویں ترمیم سے قبل ہوئیں سیاسی سرگوشیوں کے باوجود ماضی کی طرح سرکاری سطح پر انکار جاری ہے۔

تاہم آئینی تبدیلیوں کا ایک اور رائونڈ  سیاسی مباحثے میں شامل ہو چکا،جس کا بنیادی نکتہ وفاق اور صوبوں کے مابین مالیاتی عدم توازن ہے۔ سود کی ادائیگی اور دفاع سمیت وفاقی اخراجات میں مسلسل اضافہ مالیاتی گنجائش اور مالی وسائل کی تقسیم سے متعلق سوالات ایک بار پھر اٹھا رہا ہے۔

مبصرین کے مطابق تواتر سے جاری اس بحث کا تعلق آئینی اقدام سے زیادہ وفاقی مالیاتی ڈھانچہ میں چھپی رکاوٹوں سے ہے جس میں صوبوں کے حصے کو آئینی تحفظ جبکہ وفاق کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔

رابطے پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 28 ترمیم پر غور اتحادیوں کی مشاورت سے ہو گا۔  بلاول بھٹو زرداری کہہ چکے ہیں کہ  پیپلزپارٹی سے کوئی مشاورت نہیں ہوئی، رانا ثناء اللہ نے تسلیم کیا کہ مالیاتی رکاوٹوں اور وفاق وصوبوں میں مالی بوجھ کی شیئرنگ کے حوالے سے بات چیت ہو رہی، ووٹر کی کم از کم عمر 25 سال کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ 

لگتا ہے کہ نئی آئینی ترمیم کا باضابطہ عمل شروع نہیں ہوا،سیکریٹری اطلاعات پی ٹی آئی شیخ وقاص اکرم نے ایکسپریس ٹربیون کو بتایا کہ ان کی جماعت وسائل کی تقسیم میں توازن پر یقین اور این ایف سی ایوارڈ پر نظرثانی ضروری سمجھتی ہے۔

18ویں آئینی ترمیم کے بعد تشکیل7 ویں این ایف سی ایوارڈ کی مدت ختم ہونے کے باوجود بغیر نظرثانی ہر سال صدارتی آرڈننس کے ذریعے  توسیع دی گئی۔

تجزیہ کار مظہر عباس نے کہا کہ حکومت کی جانب سے غیر متوقع آئینی پیکیج اور اس حوالے سے سیاسی سودے بازی خارج از امکان نہیں، تاہم 18 ترمیم کے مکمل رول بیک ہونے کا امکان بہت کم ہے، البتہ اس میں ایڈجسمنٹ پر بات چیت کی گنجائش موجود ہے۔

چیئرمین پلڈاٹ احمد بلال محبوب   نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں ایڈجسمنٹ اور نئی صوبوں سے متعلق تجاویز انتہائی حساس معاملہ اور پی پی پی سمیت دیگر جماعتوں کیساتھ جامع اتفاق رائے کا تقاضہ کرتے ہیں۔

متعلقہ

Load Next Story