آئی ایم ایف کا پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ

ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس ہدف کو جی ڈی پی کے 11.2 فیصد کے برابر رکھنے پر اتفاق ہوگیا، ذرائع

فوٹو: فائل

اسلام آباد:

آئی ایم ایف نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور ایف بی آر کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے پاکستان سے سیلز ٹیکس میں ہر قسم کی چھوٹ اور استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس حوالے سے تفصیلی مذاکرات آج کیے جائیں گے۔

آئی ایم ایف مشن اور ایف بی آر حکام کے درمیان آج 3 اہم ملاقاتیں شیڈول ہیں، جن میں ٹیکس وصولیوں، نئے محصولات اور آئندہ مالی سال کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کے ٹیکس ہدف پر اصرار کیا جا رہا ہے جبکہ ایف بی آر اس ہدف میں کمی کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف نے انفورسمنٹ اقدامات کے ذریعے 778 ارب روپے اضافی وصولی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات زیر غور ہیں، جن پر ایف بی آر حکام آئی ایم ایف مشن کو تفصیلی بریفنگ دیں گے تاکہ ٹیکس اہداف اور محصولات سے متعلق معاملات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

علاوہ ازیں ایف بی آر اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس ہدف کو جی ڈی پی کے 11.2 فیصد کے برابر رکھنے پر اتفاق ہو گیا ہے۔

دوسری جانب آئی ایم ایف نے سیلز ٹیکس کی موجودہ 22.8 فیصد شرح کم کر کے 18 فیصد کرنے کی تجویز بھی دی ہے، تاہم اس کے ساتھ تمام استثنیٰ ختم کرنے کا مطالبہ برقرار رکھا گیا ہے۔

Load Next Story