حکومت کی چینی آئی پی پیز کو نئے رعایتی معاہدوں پر آمادہ کرنے کی کوششیں تیز
حکومت نے چینی آئی پی پیز کو نئے رعایتی معاہدوں پر آمادہ کرنے کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 1.225 ٹریلین روپے کے سرکلر ڈیٹ فنڈ کے اجرا کو ان نئے معاہدوں سے مشروط قرار دیا گیا ہے، جبکہ نیشنل انرجی ٹاسک فورس نے چینی آئی پی پیز کے لیے مجوزہ طریقہ کار بھی مکمل کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت پر چینی آئی پی پیز کے واجبات 560 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں۔ جون 2025 میں یہ واجبات 430 ارب روپے تھے۔ مالی مشکلات کے باعث چینی پاور منصوبوں کو ادائیگیوں میں مسلسل تاخیر ہو رہی ہے، جس کے بعد چینی کمپنیاں واجبات کی وصولی کے لیے سی پیک سیکریٹریٹ سمیت مختلف فورمز سے رجوع کرنے لگی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے چینی آئی پی پیز کو دیگر آئی پی پیز کی طرز پر رعایتی معاہدوں کی تجویز دی ہے، تاہم چینی پاور کمپنیاں ان شرائط کو قبول کرنے سے ہچکچا رہی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین سے قبل حکومت نے 16 چینی پاور منصوبوں کو 100 ارب روپے کی ادائیگیاں بھی کی تھیں تاکہ اعتماد بحال رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے 18 کمرشل بینکوں سے 1.225 ٹریلین روپے قرض حاصل کیا تھا۔ توانائی شعبے کا گردشی قرض اب 1.8 ٹریلین روپے کے قریب پہنچ چکا ہے۔ چینی آئی پی پیز کی عدم رضامندی کے باعث اس فنڈ کا بڑا حصہ جاری نہیں ہو سکا۔ وفاقی کابینہ نے بھی فنڈز کے اجرا کو چینی منصوبوں کی رضامندی سے مشروط قرار دیا ہے۔
حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ یا تو معاہدوں پر نظرثانی کی جائے گی یا موجودہ شرائط کے تحت ادائیگیاں جاری رکھی جائیں گی۔
دوسری جانب پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی نے ادائیگیوں میں تاخیر پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر واجبات ادا نہ کیے گئے تو کمپنی بجلی پیداوار روکنے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے توانائی شعبے کے گردشی قرض کو بڑا معاشی خطرہ قرار دیا ہے اور ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سبسڈی میں کمی اور اضافی سرچارجز عائد کرنے پر زور دیا ہے تاکہ توانائی شعبے کے مالی بحران پر قابو پایا جا سکے۔