کراچی سمیت سندھ بھر میں نجی اسکولوں کو غیر قانونی فیس فوری واپس کرنے کی ہدایت کر دی گئی
محکمۂ اسکول ایجوکیشن سندھ نے کراچی سمیت سندھ بھر میں نجی اسکولوں کو اپریل تا جولائی 2026 کی غیر قانونی فیس فوری واپس کرنے کی ہدایت کر دی۔
ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز سندھ نے نجی اسکولوں کی جانب سے میٹرک کے طلبہ سے اپریل تا جولائی 2026 کی فیس غیر قانونی طور پر وصول کرنے کا سخت نوٹس لے لیا ہے۔
جاری کردہ گشتی مراسلے کے مطابق متعدد شکایات موصول ہوئی ہیں کہ نجی اسکولوں نے دسویں جماعت کے طلبہ سے ان مہینوں کی فیس وصول کی ہے جن میں طلبہ امتحانات میں شریک تھے۔
بعض اسکولوں نے مؤقف اختیار کیا کہ عملی امتحانات کی وجہ سے اضافی فیس لی گئی، تاہم ڈائریکٹوریٹ نے اس مؤقف کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ عملی امتحانات کی فیس پہلے سے ماہانہ فیس کا حصہ ہوتی ہے۔
مزید کہا گیا ہے کہ کچھ اسکول یہ مؤقف بھی اختیار کر رہے ہیں کہ تعلیمی سال اگست 2025 سے شروع ہونے کے باعث جولائی 2026 تک فیس وصول کرنا درست ہے، تاہم حکام کے مطابق اس طرز عمل نے اسٹیئرنگ کمیٹی کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے اور یہ مکمل طور پر غیر قانونی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے واضح ہدایت دی ہے کہ تمام متعلقہ نجی اسکول فوری طور پر اپریل تا جولائی 2026 کی وصول کی گئی فیس طلبہ کو واپس کریں۔ حکم نامے پر عمل نہ کرنے کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کی جائے گی، جس میں جرمانے، رجسٹریشن کی معطلی یا منسوخی اور تعلیمی بورڈ کو مزید کارروائی کے لیے کیس بھیجنا شامل ہے۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ انسپیکشن کمیٹیاں بھی اسکولوں کے دورے کریں گی اور خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف رپورٹ جمع کرائی جائے گی تاکہ فوری قانونی کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔