اصل حقدار
m_saeedarain@hotmail.com
صدر مملکت آصف زرداری نے بمبار کو روک کر لوگوں کی جانیں بچانے والے نوجوان لیاقت شہید کے لیے ان کی والدہ کو ستارہ شجاعت کا قومی اعزاز دیا ہے۔ ویسے تو ہر سال سرکاری ایوارڈز کی تقسیم کو انتہائی متنازع قرار دیا جا رہا ہے اور الزام لگتا ہے کہ حکومت اصل حقداروں سے زیادہ غیر حقداروں بلکہ حکومتی من پسندوں کو ہر موقع پر سرکاری ایوارڈوں سے نوازتی رہی ہیں جس طرح ہر حکومت میں معززین شہر تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔اسی طرح زیادہ حقدار ان اعزازات سے اس لیے محروم رہتے ہیں کہ ان کا حکومت وقت سے تعلق نہیں ہوتا اور وہ نہ حکومت کے پسندیدہ ہوتے ہیں۔
ہر حکومت کی پسند کا معیار مختلف ہوتا ہے اور ہر حکومت حقداروں کو نظرانداز کرکے صرف ان اپنوں کو یہ سرکاری ایوارڈز عطا کرتی ہے۔ اس بار ایوان صدر میں پہلی بار اس کے خلاف ایک آواز سن کر سب حیران رہ گئے جب جسٹس ریٹائر سید دیدار حسین شاہ مرحوم کا نام پکارا گیا تو سندھی زبان میں اعتراض کیا گیا کہ یہ ناانصافی ہے۔ مرحوم کا تعلق لاڑکانہ سے تھا جن کے انتقال کو برسوں گزر چکے مگر نہ جانے مرحوم کا خیال کیسے کر لیا گیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان مرحوم جن کا انتقال جنرل پرویز مشرف دور میں ہوا تھا کو بھی تقریباً بیس سال بعد نشان امتیاز کا حقدار سمجھا گیا جن کے صاحبزادے نوابزادہ منصور پیپلز پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔
پاک فوج، پولیس اور سیکیورٹی اداروں کے شہیدوں کو بھی ہر سال سرکاری ایوارڈوں سے نوازا جاتا ہے جن کا یہ اولین حق ہے۔ یہی لوگ ملک کے لیے سرمایہ افتخار ہیں مگر ہر حکومت اس کے ساتھ ساتھ اپنے پسندیدہ لوگوں کو بھی ضرور نوازتی آ رہی ہے اور اس بار بھی یہی ہوا جو ماضی سے ہوتا چلا آ رہا ہے اور اس سلسلے میں حکومتی اعزازات پر ہر سال اعتراضات بھی کیے جاتے ہیں جو اعتراض کرنے والے اپنا حق سمجھتے ہیں۔ خاص بات یہ بھی ہے کہ جو اہل افراد واقعی اہل ہوتے ہیں وہ خاموش رہتے ہیں جو ان کا بڑا پن ہوتا ہے۔
ہر سال صحت، تعلیم، ادب، صحافت، فنون لطیفہ اور انسداد دہشت گردی سمیت مختلف شعبوں میں گراں قدر اور نمایاں خدمات پر ملکی و غیر ملکی شخصیات کو سول اعزازات سے نوازا جاتا ہے اور ہر سال ایوان صدر اور گورنر ہاؤسز میں یہ پروقار تقریبات منعقد ہوتی آ رہی ہیں مگر ہر بار غیر پروقار اور متنازع افراد بھی اپنے نام ان سول اعزازات کی فہرست میں شامل کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔
ہر حکومت اپنے پسندیدہ وزیروں کو بھی سول اعزازات کا حقدار سمجھتی ہے اور اس بار صرف وفاقی وزیر سردار اویس لغاری کو اس اعزاز سے نوازا گیا جو محکمہ بجلی کے وزیر ہیں اور اس بار موسم گرما کے آغاز پر ہی ملک میں بجلی کی جو لوڈ شیڈنگ ہوئی اس پر ملک میں شدید احتجاج ہوا مگر مئی میں کچھ بہتری آئی شاید اسی وجہ سے وزیر بجلی کو سول اعزاز سے نوازا گیا۔ نیپرا بھی محکمہ بجلی کا حصہ ہے جس نے ملکی تاریخ میں پہلی بار بجلی کے بلوں پر سوئی گیس محکمے کی تقلید میں فکسڈ چارجز لگائے اور اپنے فیصلوں سے سولر سسٹم لگانے والوں کو بھی حیران کر کے رکھ دیا اور سبق بھی دیا کہ وہ کبھی حکومتی فیصلوں پر اعتماد کرکے سرمایہ کاری کی غلطی نہ کریں جس کی سزا وہ اب بھگت رہے ہیں ۔
وفاقی اور صوبائی دارالحکومتوں میں منعقدہ ان وفاقی سول اعزازات کی تقسیم سے صرف ایک روز قبل کراچی میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کئی روز سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں سب سے زیادہ نمایاں اور عوامی سطح پر زیر بحث رہا کہ ملک میں ایک 31 سالہ خاتون بھی گرفتار ہوئی جس کا اعتماد عدالت میں پیشی کے موقع پر دنیا نے دیکھا جو فاضل جج کے سامنے پیش ہوئی ۔ جج نے پولیس کی استدعا مسترد کرکے خاتون جیل بھیجنے کا حکم دیا ۔ ملزمہ انمول کو پولیس کے حوالے کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا اور بعد میں وزیر داخلہ کی ہدایت پر پولیس نے قانونی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے دوبارہ عدالت سے پولیس ریمانڈ کے لیے رجوع کیا جس کے بعد جیل بھیجنے کا پہلا عدالتی فیصلہ کالعدم کرکے صرف تین روز کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا۔ اس خاتون پر کوکین بیچنے کا الزام ہے۔
اس خاتون کی گرفتاری اور قانونی کارروائی میں غفلت پولیس کو مہنگی پڑی۔ اسے پروٹوکول دینے والے پولیس افسران معطل ہوئے۔ منشیات فروشی ملک بھر میں عام ہے ، بڑے بڑے مگرمچھ آج تک پکڑے نہیں گئے اور وہ آزاد گھوم رہے ہیں۔