امریکی مسجد حملہ؛ شہید سیکیورٹی گارڈ بچوں کے محافظ قرار؛ فنڈ ریزنگ میں لاکھوں ڈالرز جمع
امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر پر ہونے والے مہلک حملے میں جان کا نذرانہ دیکر نمازیوں کی جان بچانے والے سیکیورٹی گارڈ امین عبد اللہ کو ہیرو قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 52 سالہ امین عبداللہ مسجد کے داخلی حصے پر سیکیورٹی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے جب دو نوجوان حملہ آوروں نے فائرنگ شروع کردی۔
پولیس اور عینی شاہدین نے بتایا کہ امین عبد اللہ نے نہ صرف حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی بلکہ اپنی جان خطرے میں ڈال کر نمازیوں اور اسکول کے بچوں کو بروقت خبردار کیا جس سے درجنوں جانیں بچ گئیں۔
مسجد انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے شہید امین عبداللہ کے اہلِ خانہ کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں چند گھنٹوں میں ہی تقریباً 14 لاکھ ڈالر جمع ہوگئے۔
فنڈ ریزنگ صفحے پر لکھا تھا کہ امین عبد اللہ صرف ایک گارڈ نہیں تھے بلکہ مسجد میں آنے والے ہر شخص کے لیے وہ پہلی مسکراتی ہوئی شخصیت تھے اور خطرے کے وقت آخری دفاعی دیوار بھی ثابت ہوئے۔
فنڈ ریزنگ کی یہ مہم اسلامی کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم پر اب بھی جاری ہے جسے دنیا کا بڑا مسلم فنڈ ریزنگ پلیٹ فارم قرار دیا جاتا ہے۔
امین عبد اللہ 8 بچوں کے والد تھے۔
ان کے قریبی دوست نے سی این این کو بتایا کہ امین عبد اللہ جب بھی ملتے، چہرے پر مسکراہٹ ہوتی۔ ہر کسی کو مثبت توانائی دیتے تھے۔ ان کا ایمان بہت مضبوط تھا اور وہ ہمیشہ لوگوں کے ساتھ نرمی اور محبت سے پیش آتے تھے۔
امین عبد اللہ کے دیگر دوستوں کا کہنا تھا کہ وہ کمیونٹی میں انتہائی مقبول تھے اور مسجد آنے والے بچوں، بزرگوں اور نئے مسلمانوں کے ساتھ خاص شفقت رکھتے تھے۔
مقامی مسلم رہنماؤں نے بتایا کہ امین عبداللہ تقریباً ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے مسجد سے وابستہ تھے اور سیکیورٹی کی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔
اسلامی اسکالر عثمان ابن فاروق نے بتایا کہ امین عبد اللہ معصوم لوگوں کا دفاع کرنا چاہتے تھے اسی لیے انھوں نے سیکیورٹی کا شعبہ اختیار کیا تھا۔”
پولیس چیف نے بتایا کہ امین عبداللہ نے حملے کے دوران بہادرانہ کردار ادا کیا۔ جب دو نوجوان حملہ آور مسجد کے باہر فائرنگ کررہے تھے تو امین عبداللہ نے فوراً وائرلیس ریڈیو کے ذریعے مسجد اور اسکول کے عملے کو خبردار کیا کہ دروازے بند کردیے جائیں۔
واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق ان کی بروقت وارننگ کے بعد اساتذہ نے کلاس رومز لاک کردیے جس سے تقریباً 200 بچے محفوظ رہے۔
عینی شاہدین کا یہ بھی بتایا کہ امین عبداللہ نے اپنی بندوق نکالنے کے بجائے پہلے ریڈیو کے ذریعے خطرے کا پیغام دینے کو ترجیح دی تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو بچایا جاسکے۔
پولیس چیف نے بھی اعتراف کیا کہ یہ کہنا بالکل درست ہوگا کہ امین عبد اللہ کے اس اقدام نے درجنوں قیمتی جانیں بچائیں۔
سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے امین عبداللہ کو ’’شہید‘‘، ’’ہیرو‘‘ اور ’’بچوں کا محافظ‘‘ قرار دیا۔ ریڈٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر لوگوں نے لکھا کہ امین عبداللہ نے اپنی جان بچانے کے بجائے دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دی اور یہی ان کی عظمت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔
واضح رہے کہ سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر پر دو مسلح نوجوانوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے 3 افراد کو شہید کردیا اور پھر خود بھی خودکشی کرلی۔