مسجد حملہ؛ ملزم کی والدہ نے ڈھائی گھنٹے پہلے پولیس کو آگاہ کردیا تھا؛ ہولناک حقائق
سان ڈیاگو کی مسجد کی چھت پر نازی فورس کی وردی میں حملہ آور کھڑا ہے
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایک مسجد پر ہونے والے حملے کی تحقیقات میں بڑی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کیلی فورنیا میں مسجد پر حملے کے دونوں ملزمان کی شناخت 18 سالہ کلیب واسقیوز اور 17 سالہ کین کلارک کے ناموں سے ہوئی ہے۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ حملہ آوروں کی گاڑی سے اسلام مخالف تحریریں اور نازی علامتوں سے منسلک مواد برآمد ہوا ہے جس کے بعد واقعے کو نفرت انگیز جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔
اس واقعے کی تصاویر میں ایک گیس کین بھی دیکھی گئی جس پر نازی جرمن فورس “SS” کا نشان بنا ہوا تھا۔
یہ علامت دوسری جنگ عظیم کے دوران ایڈولف ہٹلر کی نازی فورسز سے منسلک سمجھی جاتی ہے اور سفید فام انتہا پسند گروہ آج بھی اسے استعمال کرتے ہیں۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ حملے سے تقریباً دو گھنٹے پہلے ایک حملہ آور کی والدہ نے پولیس کو اپنے بیٹے کے بارے میں تشویشناک معلومات فراہم کردی تھیں۔
سان ڈیاگو پولیس چیف نے بتایا کہ خاتون نے صبح تقریباً 9:42 بجے پولیس کو فون کرکے بتایا کہ ان کا بیٹا گھر سے لاپتا ہے اور وہ ذہنی طور پر غیر مستحکم اور ممکنہ طور پر خودکشی کے رجحان کا شکار ہے۔
حملہ آور کی والدہ نے یہ بھی بتایا کہ گھر سے کئی ہتھیار اور ان کی گاڑی بھی غائب ہیں اور ان کا بیٹا ایک اور نوجوان کے ساتھ فوجی طرز کے کیموفلاج لباس میں موجود ہے۔
والدہ کو گھر سے ایک نوٹ بھی ملا تھا جس کے بارے میں حکام نے کہا کہ اس میں نفرت انگیز مواد موجود تھا تاہم مکمل تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
پولیس نے والدہ کی جانب سے یہ معلومات ملنے پر فوری طور پر گاڑی کی تلاش شروع کردی تھی جس کے لیے لائسنس پلیٹ ریڈرز، اسکول الرٹس اور دیگر ٹیکنالوجی استعمال کی۔
اس دوران دونوں نوجوان اسلامک سینٹر آف سان ڈیاگو پہنچے لیکن سیکیورٹی گارڈ نے روکنے کی کوشش پر ملزمان نے فائرنگ کردی تھی جس میں 3 افراد شہید ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں نوجوان مسجد کے باہر فائرنگ کے بعد اپنی گاڑی میں مردہ پائے گئے تھے اور ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے خود کو گولیاں مار کر خودکشی کی تھی۔
خیال رہے کہ یہ حملہ جس اسلامک سینٹر میں کیا گیا وہ سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد ہے اور اس کمپلیکس میں برائٹ ہورائزن اکیڈمی بھی قائم ہے۔
جس میں حملے کے وقت 200 سے زائد بچے، اساتذہ اور عملہ بھی موجود تھا۔ سیکیورٹی گارڈ کی بروقت اطلاع کے باعث اسکول کے تمام بچوں کو بحفاظت نکال لیا گیا اور کوئی طالب علم زخمی نہیں ہوا۔
سان ڈیاگو شاخ اور مسجد انتظامیہ کی جانب سے امین عبداللہ کے اہل خانہ کے لیے شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں اب تک 17 لاکھ ڈالر سے زیادہ جمع ہوچکے ہیں۔
کمیونٹی کے افراد امین عبداللہ کو ہیرو قرار دے رہے ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر بھی ان کے لیے خراجِ عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔