عالمی شراکتیں، پاکستانی ترجیحات: نئی ترقیاتی پیش قدمی

دنیا میں تبدیلیوں کی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی تعاون میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔

دنیا میں تبدیلیوں کی رفتار تیز تر ہوتی جارہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ترقیاتی تعاون میں بھی اصلاحات ضروری ہیں۔ آج کا بین الاقوامی نظام زیادہ غیر یقینی، منقسم اور وسائل کی کمی کا شکار ہے۔ مسابقت بڑھ رہی ہے، انسانی ضروریات میں اضافے کے ساتھ ساتھ تنازعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ماحولیاتی اثرات شدید تر ہو رہے ہیں اور امدادی بجٹ کم ہو رہی ہیں۔ یہ تمام حقیقتیں ایک نئے طریقہ کار کا تقاضا کرتی ہیں: عوامی مقاصد کو نجی سرمایہ، جِدّت اور عمل درآمد کے ساتھ جوڑ کر غربت کے خاتمے میں مددگار ثابت ہونے والی شراکتیں۔

اسی لیے برطانیہ جنوبی افریقہ، چلڈرنز انویسٹمنٹ فنڈ فاؤنڈیشن اور برٹش انٹرنیشنل انویسٹمنٹ کے ساتھ مل کر 19 اور 20 مئی کو لندن میں منعقد ہونے والی گلوبل پارٹنرشپس کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس کانفرنس میں حکومت، کاروبار و تجارت، فلاح، ٹیکنالوجی اور مالیاتی شعبے کو اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ چیلنج واضح ہے: عالمی سطح پر 2030 سسٹین ایبل ڈیویلپمنٹ گول (ایس ڈی جی) کے صرف 35 فیصد اہداف درست سمت میں ہیں، تقریباً نصف سست روی کا شکار ہیں جب کہ 18 فیصد زوال پذیر ہیں۔

پاکستان کی غیر مساوی پیش رفت بھی اسی دباؤ کو ظاہر کر رہی ہے۔ پاکستان 167 ممالک میں سے SDG انڈیکس پر 140ویں نمبر پر ہے، جہاں اسکول سے محروم بچوں، غذائی قلت اور صنفی عدم مساوات جیسے بڑے خلا موجود ہیں۔ لیکن پاکستان کے پاس بہت کچھ ہے اور درست شراکتوں کے ذریعے یہ عزم دیرپا ترقی میں بدل سکتا ہے۔

برطانیہ اور پاکستان تعاون، جسے گزشتہ دسمبر میں وزارتی سطح پر ترقیاتی مذاکرات سے مزید تقویت ملی، نتائج، اصلاحات اور مضبوط اداروں پر مرکوز ہے تاکہ پاکستان اپنے عوامی و نجی مالی وسائل کو متحرک کر سکے اور نتائج کسی بھی ڈونر پروگرام کے خاتمے کے بعد بھی قائم رہیں۔گزشتہ دہائی کے دوران یو کے سْپورٹ نے 45 لاکھ بچوں کے لیے تعلیمی دروازے کھولے، 1 کروڑ 10 لاکھ خاندانوں کو خاندانی منصوبہ بندی تک رسائی دی، اور 1 کروڑ 50 لاکھ سے زائد افراد کو انسانی بحرانوں میں زندگی بچانے والی امداد فراہم کی، جن میں 2025 کے سیلاب سے متاثرہ 15 لاکھ افراد بھی شامل ہیں۔

تاہم امدادی منصوبے اکثر پائیدار اور انقلابی تبدیلی نہیں لا پاتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دیرپا ترقی باہر سے نہیں لائی جا سکتی؛ یہ کسی ملک کے اپنے اداروں، کاروبار اور شہریوں کی قیادت میں ہی ممکن ہے۔ محدود ا?فیشیل ڈیویلپمنٹ اسسٹینس (او ڈی اے) کے ماحول میں برطانوی ہائی کمیشن، پاکستان کے وفاقی اور صوبائی سطح پر ان شعبوں پر توجہ دے رہا ہے جہاں سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے: برآمدات پر مبنی ترقی، انسانی وسائل اور ماحولیاتی تغیّرات، اور تحفظ و انسانی نقل مکانی پر تعاون۔

ترقی کو مختلف انداز میں آگے بڑھانے کا مطلب ہے جِدّت کی حمایت، نجی شعبے کا فروغ اور ماحولیاتی موافقت کے لیے مزید مالی وسائل کھولنا تاکہ محدود سرمائے کا زیادہ سے زیادہ استعمال ممکن ہو سکے۔

یہ طویل مدتی نقطہ نظر پاکستان کے ترقیاتی مالیاتی اداروں کے لیے برطانوی تعاون میں جھلکتا ہے۔ گزشتہ دہائی میں برطانیہ نے ابتدائی سرمایہ فراہم کر کے کارنداز، پاکستان مائیکروفنانس انویسٹمنٹ کمپنی، پَرواز فنانشل سروسز، انفرا زمین اور حال ہی میں نیشنل کریڈٹ گارنٹی کمپنی جیسے ادارے قائم اور مضبوط کیے۔ یہ ادارے مالیاتی رسائی میں موجود ساختی خلا کو دور کرنے کے لیے بنائے گئے تھے اور اب خود کفیل اداروں میں ڈھل چکے ہیں، جنھوں نے کاروباروں کو 240 ارب روپے سے زائد اضافی آمدنی پیدا کرنے اور 10 لاکھ سے زیادہ نوکریوں کی تشکیل میں مدد دی ہے۔

ہمارا ’آواز پروگرام‘ بھی اسی اصول پر عمل پیرا ہے: مقامی سطح پر قیادت یافتہ تبدیلی کی دیرپا حمایت۔ ایک دہائی میں اس نے صنفی تشدّد کی روک تھام، بچوں کے تحفظ اور شمولیت کو فروغ دیا ہے3 کروڑ 60 لاکھ افراد کو فائدہ پنہچاتے ہوئے کمیونٹی کی قیادت میں پالیسی تبدیلیوں کے لیے تعاون کو مضبوط کیا ہے۔ مثال کے طور پر، ’آواز‘ نے کم عمری کی شادی کے خاتمے کی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ سال پاکستان میں تقریباً 50 لاکھ لڑکیاں 15 سال سے پہلے اور 2 کروڑ لڑکیاں 18 سال سے کم عمر شادی کے بندھن میں بندھ گئیں، جس سے ان کے حقوق، صحت، تعلیم اور معاشی امکانات متاثر ہوئے۔ ’آواز‘ کے کمیونٹی ارکان نے صبر آزما کام کے ذریعے قانون سازی اور عملی منصوبہ بندی کو آگے بڑھایا تاکہ قومی عزم دیرپا عمل میں ڈھل سکے۔

ہم پاکستان کے اپنے نظام کو موسمی تغیّرات کے مطابق ڈھالنے پر بھی توجہ دے رہے ہیں۔ اسلام آباد میں برطانیہ نے تین ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ ویٹ لینڈ پائلٹس کی فنڈنگ کی، جس کے بعد پاکستانی حکومت نے اپنے وسائل سے مقامی کمیونٹیز کے لیے سیلاب کے خطرے کو کم کرنے میں مددگار، مزید گیارہ منصوبے شروع کیے۔

برطانیہ سب سے غریب اور ضرورت مند افراد کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستانی کمیونٹیز، اداروں اور حکومت کے ساتھ مل کر، اور جدید شراکتیں قائم کر کے جو صرف امداد سے کہیں زیادہ نتائج کو متحرک کریں۔ مجھے یقین ہے کہ ہم سب مل کر مثبت اور دیرپا تبدیلی لا سکتے ہیں۔

Load Next Story