صورتحال دور اندیشی کی متقاضی
کراچی میں امسال 10، سندھ میں11اور ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 117ہو گئی ۔۔۔
کراچی میں امسال 10، سندھ میں11اور ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 117ہو گئی۔ فوٹو: فائل
آپریشن ضرب عضب کے دوران خیبر ایجنسی اور شمالی وزیرستان میں منگل کو گن شپ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ میں48 دہشت گرد ہلاک اور ان کے 7 ٹھکانے تباہ کردیے گئے جب کہ شدت پسندوں کی 9 گاڑیاں اور کئی موٹرسائیکل بھی تباہ کیے گئے ۔ آپریشن میں تسلسل اور مربوط کارروائی ان اطلاعات کی روشنی میں ہو رہی ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ بچے کھچے طالبان کمانڈرز اور دیگر دہشت گرد عناصر مزاحمتی کوششوں میں مصروف ہیں اور غیر ملکی انتہا پسند کریک ڈاؤن سے بچنے کی خاطر وارداتیں کررہے ہیں۔
جیسا کہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سالار زئی کے علاقے تنگی میں ہوا جہاں سڑک کنارے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں 3 لیڈی ٹیچرز،2 بچے اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان کے مطابق 3 خواتین اساتذہ، 2 بچوں اور ایک ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں تحصیل سالار زئی میں نئے قائم ہونے والے اسکول کے معائنہ کے لیے جا رہی تھیں کہ تنگی کے قریب گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا۔ صدر، وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزراء نے اس بربریت کی مذمت کی ہے ۔ سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شوال کے علاقہ چرگ پنگہ میں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کی موجودگی کی اطلاع پر فضائی کارروائی کی گئی۔
مقامی ذرایع کے مطابق پیر اور منگل کے آخری پہر کی جانیوالی اس کارروائی میں ملا فضل اللہ تو ہلاک نہیں ہوا تاہم باجوڑ سے تعلق رکھنے والا طالبان کمانڈر فضل خان اور ایک ازبک کمانڈر عمرخطاب سمیت 13 شدت پسند ہلاک ہوئے ۔علاقہ میں موجود دہشت گردوں کی ان ہلاکتوں کے بعد دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈزکا نفسیاتی پسپائی سے دوچار ہونا فطری ہے۔
شمالی وزیرستان کو دہشت گرد اپنا ناقابل تسخیر قلعہ کہتے تھے اور میڈیا کے بعض حلقے بھی اسے ''عقابوں کا نام نہاد نشیمن'' قراردیکر عسکری کارروائی سے ممکنہ گریز کی وکالت کرتے رہے مگر سیاسی و عسکری اتفاق رائے اور قوم کی بھرپور اور ناقابل تقسیم حمایت کے پیش نظر جو آپریشن روبہ عمل لایا جا رہا ہے اس کے مثبت نتائج اب آہستہ آہستہ قوم کے سامنے آرہے ہیں ، اور علاقے کے عوام اور عمائدین و علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد نے دہشت گردی کے اس بڑے نیٹ ورک کے خاتمہ کی سمت پاک فوج اور ریاستی مشینری کی کارروائیوں کا خیر مقدم کیا ہے اور آئی ڈی پیز کی عارضی رہائش اور امداد کے کاموں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک اپنی سلامتی اور داخلی امن و امان کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور مسلح افواج پر فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی کے امکانات و آثار کا مکمل خاتمہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔اور امید واثق ہے کہ اس ٹاسک کو ہماری دلیر افواج جلد سے جلد مکمل کرکے بے گھر افراد کی باوقار اور پرامن واپسی کو یقینی بنائیں گی ۔ تاہم یہ دہشت گردی کے پیدا کردہ حالات سے تعمیر نو ، بحالی اور ترقی و خوشحالی کے اقدامات کے بیچ ایک صبر آزما عبوری دورانیہ ہے۔
یہ بات ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ طالبان فنا نہیں ہوئے ، وہ ریاستی وجود کے لیے اب بھی ایک خطرہ ہیں، اس عفریت کے متاثرین قابل رحم ہیں، ان سے ہمدردی میں کچھ بھی کرنا پڑے اہل وطن کو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ، کیونکہ دہشت گرد چند سو ہیں جب کہ آئی ڈی پیز کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے، ان کی دیکھ بھال ایک نیشنل اسپرٹ مانگتی ہے، جس کی قوم میں کمی نہیں لیکن اس میں حکومت ، انتظامی اداروں اور پاک فوج کو بطور خاص اشتراک عمل کو یقینی بنانا چاہیے ، آئی ڈی پیز کو روزمرہ کی ضروری اشیا مہیا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے، شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، ان کی داد رسی بھی نظر آنی چاہیے ۔ وہ بیگانے نہیں اپنے ہی ہیں۔
ابھی بے شمار مسائل ہیں ، ڈی آئی خان میں سیکڑوں آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کے بلاک ہونے کی شکایات ہیں ، پشاور میں آئی ڈی پیز کے لیے مہیا کیے جانے والے آٹے کی اسمگلنگ کے خلاف متاثرین میں اضطراب ہے ، اسی طرح دیگر صوبوں اور شہروں میں متاثرین کی عارضی سکونت کے بارے میں بعض سیاسی رہنما پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے موڈ میں ہیں جب کہ یہ متاثرین داخلی دہشت گردی اور وسیع پیمانہ کی بدامنی کے باعث بے گھر ہوئے ہیں، یہ انسانی مسئلہ اور قومی جذبہ اخوت کے اظہار کا متقاضی ہے ۔ فاٹا کے امن پسند شہری دہشت گردوں کے یرغمال رہے ہیں، انھیں ایک طرف طالبان کی انتہا پسندی نے عذاب سے دوچار کیا اور دوسری طرف ان پر امریکی ڈرون حملوں نے عرصہ حیات تنگ کیا ، وہ وقت کی چکی کے دو پاٹوں میں پستے رہے۔
دہشت گردوں کے کمانڈر ابھی تک موجود ہیں، اے ایف پی کے مطابق ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ میں طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کا گھر بھی تباہ کیا گیا ۔ گل بہادر پہلے ہی علاقہ سے فرار ہوچکے ہیں ۔ ادھر خیبرایجنسی میں شیلنگ سے 18 دہشت گرد ہلاک اور ان کے 5 ٹھکانے تباہ کردیے گئے ۔ آن لائن کے مطابق خیبر ایجنسی میں کی جانیوالی فوجی کارروائی میں پشاور میں طیارہ پر فائرنگ میں ملوث طالبان کمانڈر شاہد بھی 2 قریبی رشتہ داروں سمیت مارا گیا۔
شمالی وزیرستان میں 15 جون سے جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک 600 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم داخلی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ریاستی اداروں کو صدر کرزئی اور افغان حکام کی ہرزہ سرائی کا سامنا ہے، جب کہ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نوازشریف نے افغانستان کے 95 ویں یوم آزادی کے موقع پر افغان صدرحامدکرزئی کو مبارکباد دی ہے اور اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ بلاشبہ اکٹھے کام کرتے ہوئے دونوں ممالک قریبی اور تعاون پر مبنی تعلقات جاری رکھیں گے اورخطہ میں دیرپا امن، ترقی کے ماحول کو فروغ دینگے تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے حسب روایت پاکستان پر مشرقی صوبے کنڑ میں مسلسل گولہ باری کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ پاکستان افغانستان میں اپنا تباہ کن کردار بند کرے۔
افغان صدر کا یہ افسوس ناک اور اشتعال انگیز بیان افغان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ان بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ پڑوسی ملک، افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پیشہ ور افراد کومسلح کر رہا ہے ۔ دوسری جانب کنڑ کے قبائلی عمائدین نے خبردار کیا ہے کہ سرحد پار سے گولہ باری کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ بلاشبہ بیانات اور الزام تراشی کی یہ گولہ باری افغان حکام کا وتیرہ بلکہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید بدتر ہوسکتی ہے ، کیونکہ اس وقت افغانستان کو دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے ساتھ پاکستان سمیت دیگر دوست ملکوں سے فعال مراسم اور رابطے استوار رکھنے چاہئیں،اسے بھارتی مداخلت اور پاک بھارت تعلقات کو زہر آب پلانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔
امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کو سب سے زیادہ پاکستان کی مدد پر انحصار کرنا ہوگا،اس بدیہی حقیقت کو عالمی برادری اور امریکا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ کوئی محفوظ راستہ پاکستان کی مشاورت یا امداد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔ پاکستان کے خلاف افغان حکام کو الزام تراشی اور بلیم گیم سے ہٹ کر زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے،خطے میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کو مخدوش علاقوں میں پولیو سمیت دیگر انسانی مصائب درپیش ہیں، کراچی اور خیبرایجنسی میں پولیو کے مزید 2 کیس سامنے آگئے جس کے بعد رواں برس ملک میں ریکارڈ کیے گئے پولیو کیسز کی تعداد117 ہوگئی۔
کراچی کے علاقے مانسہرہ کالونی کا ایک سالہ احمد اور تحصیل باڑہ کی 16ماہ کی لائبہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق کراچی میں امسال 10، سندھ میں11اور ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 117ہو گئی ۔ارباب اختیار ملک کو درپیش پر آشوب صورتحال میں دور اندیشی کا ثبوت دیں ، اسی طرح افغانستان کو بھی دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مشترکہ کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے داخلی امن و امان پر توجہ دینا چاہیے۔
جیسا کہ باجوڑ ایجنسی کی تحصیل سالار زئی کے علاقے تنگی میں ہوا جہاں سڑک کنارے ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں 3 لیڈی ٹیچرز،2 بچے اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔ ایڈیشنل پولیٹیکل ایجنٹ سہیل خان کے مطابق 3 خواتین اساتذہ، 2 بچوں اور ایک ڈرائیور کے ساتھ گاڑی میں تحصیل سالار زئی میں نئے قائم ہونے والے اسکول کے معائنہ کے لیے جا رہی تھیں کہ تنگی کے قریب گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم سے اڑا دیا گیا۔ صدر، وزیراعظم اور دیگر وفاقی وزراء نے اس بربریت کی مذمت کی ہے ۔ سرکاری ذرایع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ شوال کے علاقہ چرگ پنگہ میں ٹی ٹی پی کے سربراہ ملا فضل اللہ کی موجودگی کی اطلاع پر فضائی کارروائی کی گئی۔
مقامی ذرایع کے مطابق پیر اور منگل کے آخری پہر کی جانیوالی اس کارروائی میں ملا فضل اللہ تو ہلاک نہیں ہوا تاہم باجوڑ سے تعلق رکھنے والا طالبان کمانڈر فضل خان اور ایک ازبک کمانڈر عمرخطاب سمیت 13 شدت پسند ہلاک ہوئے ۔علاقہ میں موجود دہشت گردوں کی ان ہلاکتوں کے بعد دہشت گردوں کے ماسٹر مائنڈزکا نفسیاتی پسپائی سے دوچار ہونا فطری ہے۔
شمالی وزیرستان کو دہشت گرد اپنا ناقابل تسخیر قلعہ کہتے تھے اور میڈیا کے بعض حلقے بھی اسے ''عقابوں کا نام نہاد نشیمن'' قراردیکر عسکری کارروائی سے ممکنہ گریز کی وکالت کرتے رہے مگر سیاسی و عسکری اتفاق رائے اور قوم کی بھرپور اور ناقابل تقسیم حمایت کے پیش نظر جو آپریشن روبہ عمل لایا جا رہا ہے اس کے مثبت نتائج اب آہستہ آہستہ قوم کے سامنے آرہے ہیں ، اور علاقے کے عوام اور عمائدین و علمائے کرام کی ایک بڑی تعداد نے دہشت گردی کے اس بڑے نیٹ ورک کے خاتمہ کی سمت پاک فوج اور ریاستی مشینری کی کارروائیوں کا خیر مقدم کیا ہے اور آئی ڈی پیز کی عارضی رہائش اور امداد کے کاموں کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک اپنی سلامتی اور داخلی امن و امان کے ایک نازک دور سے گزر رہا ہے اور مسلح افواج پر فاٹا کے علاقے میں دہشت گردی کے امکانات و آثار کا مکمل خاتمہ ایک چیلنج سے کم نہیں ۔اور امید واثق ہے کہ اس ٹاسک کو ہماری دلیر افواج جلد سے جلد مکمل کرکے بے گھر افراد کی باوقار اور پرامن واپسی کو یقینی بنائیں گی ۔ تاہم یہ دہشت گردی کے پیدا کردہ حالات سے تعمیر نو ، بحالی اور ترقی و خوشحالی کے اقدامات کے بیچ ایک صبر آزما عبوری دورانیہ ہے۔
یہ بات ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی کے ذہن میں ہونی چاہیے کہ طالبان فنا نہیں ہوئے ، وہ ریاستی وجود کے لیے اب بھی ایک خطرہ ہیں، اس عفریت کے متاثرین قابل رحم ہیں، ان سے ہمدردی میں کچھ بھی کرنا پڑے اہل وطن کو اس سے پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے ، کیونکہ دہشت گرد چند سو ہیں جب کہ آئی ڈی پیز کی تعداد 15 لاکھ سے بڑھ سکتی ہے، ان کی دیکھ بھال ایک نیشنل اسپرٹ مانگتی ہے، جس کی قوم میں کمی نہیں لیکن اس میں حکومت ، انتظامی اداروں اور پاک فوج کو بطور خاص اشتراک عمل کو یقینی بنانا چاہیے ، آئی ڈی پیز کو روزمرہ کی ضروری اشیا مہیا کرنے کی طرف توجہ دینی چاہیے، شکایات کا فوری ازالہ کیا جائے، ان کی داد رسی بھی نظر آنی چاہیے ۔ وہ بیگانے نہیں اپنے ہی ہیں۔
ابھی بے شمار مسائل ہیں ، ڈی آئی خان میں سیکڑوں آئی ڈی پیز کی رجسٹریشن اور شناختی کارڈ کے بلاک ہونے کی شکایات ہیں ، پشاور میں آئی ڈی پیز کے لیے مہیا کیے جانے والے آٹے کی اسمگلنگ کے خلاف متاثرین میں اضطراب ہے ، اسی طرح دیگر صوبوں اور شہروں میں متاثرین کی عارضی سکونت کے بارے میں بعض سیاسی رہنما پوائنٹ اسکورنگ کرنے کے موڈ میں ہیں جب کہ یہ متاثرین داخلی دہشت گردی اور وسیع پیمانہ کی بدامنی کے باعث بے گھر ہوئے ہیں، یہ انسانی مسئلہ اور قومی جذبہ اخوت کے اظہار کا متقاضی ہے ۔ فاٹا کے امن پسند شہری دہشت گردوں کے یرغمال رہے ہیں، انھیں ایک طرف طالبان کی انتہا پسندی نے عذاب سے دوچار کیا اور دوسری طرف ان پر امریکی ڈرون حملوں نے عرصہ حیات تنگ کیا ، وہ وقت کی چکی کے دو پاٹوں میں پستے رہے۔
دہشت گردوں کے کمانڈر ابھی تک موجود ہیں، اے ایف پی کے مطابق ایک سیکیورٹی اہلکار نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی شیلنگ میں طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کا گھر بھی تباہ کیا گیا ۔ گل بہادر پہلے ہی علاقہ سے فرار ہوچکے ہیں ۔ ادھر خیبرایجنسی میں شیلنگ سے 18 دہشت گرد ہلاک اور ان کے 5 ٹھکانے تباہ کردیے گئے ۔ آن لائن کے مطابق خیبر ایجنسی میں کی جانیوالی فوجی کارروائی میں پشاور میں طیارہ پر فائرنگ میں ملوث طالبان کمانڈر شاہد بھی 2 قریبی رشتہ داروں سمیت مارا گیا۔
شمالی وزیرستان میں 15 جون سے جاری آپریشن ضرب عضب کے دوران اب تک 600 سے زائد شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔ تاہم داخلی صورتحال سے نمٹنے میں مصروف ریاستی اداروں کو صدر کرزئی اور افغان حکام کی ہرزہ سرائی کا سامنا ہے، جب کہ صدر ممنون حسین اور وزیر اعظم نوازشریف نے افغانستان کے 95 ویں یوم آزادی کے موقع پر افغان صدرحامدکرزئی کو مبارکباد دی ہے اور اپنے تہنیتی پیغام میں کہا ہے کہ بلاشبہ اکٹھے کام کرتے ہوئے دونوں ممالک قریبی اور تعاون پر مبنی تعلقات جاری رکھیں گے اورخطہ میں دیرپا امن، ترقی کے ماحول کو فروغ دینگے تاہم افغان صدر حامد کرزئی نے حسب روایت پاکستان پر مشرقی صوبے کنڑ میں مسلسل گولہ باری کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے دھمکی دی کہ پاکستان افغانستان میں اپنا تباہ کن کردار بند کرے۔
افغان صدر کا یہ افسوس ناک اور اشتعال انگیز بیان افغان نیشنل سیکیورٹی کونسل کے ان بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے بعد سامنے آیا ہے کہ پڑوسی ملک، افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے پیشہ ور افراد کومسلح کر رہا ہے ۔ دوسری جانب کنڑ کے قبائلی عمائدین نے خبردار کیا ہے کہ سرحد پار سے گولہ باری کا سلسلہ بند نہ کیا گیا تو وہ پاکستان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ بلاشبہ بیانات اور الزام تراشی کی یہ گولہ باری افغان حکام کا وتیرہ بلکہ فطرت ثانیہ بن چکی ہے جس سے خطے کی صورتحال مزید بدتر ہوسکتی ہے ، کیونکہ اس وقت افغانستان کو دور اندیشی اور معاملہ فہمی کے ساتھ پاکستان سمیت دیگر دوست ملکوں سے فعال مراسم اور رابطے استوار رکھنے چاہئیں،اسے بھارتی مداخلت اور پاک بھارت تعلقات کو زہر آب پلانے سے اجتناب برتنا چاہیے۔
امریکی فوجیوں کے انخلا کے بعد افغانستان کو سب سے زیادہ پاکستان کی مدد پر انحصار کرنا ہوگا،اس بدیہی حقیقت کو عالمی برادری اور امریکا اچھی طرح سمجھتا ہے کہ کوئی محفوظ راستہ پاکستان کی مشاورت یا امداد اور تعاون کے بغیر ممکن نہیں ۔ پاکستان کے خلاف افغان حکام کو الزام تراشی اور بلیم گیم سے ہٹ کر زمینی حقائق کا ادراک کرنا چاہیے،خطے میں عدم استحکام کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کو مخدوش علاقوں میں پولیو سمیت دیگر انسانی مصائب درپیش ہیں، کراچی اور خیبرایجنسی میں پولیو کے مزید 2 کیس سامنے آگئے جس کے بعد رواں برس ملک میں ریکارڈ کیے گئے پولیو کیسز کی تعداد117 ہوگئی۔
کراچی کے علاقے مانسہرہ کالونی کا ایک سالہ احمد اور تحصیل باڑہ کی 16ماہ کی لائبہ میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ۔ قومی ادارہ صحت کے مطابق کراچی میں امسال 10، سندھ میں11اور ملک بھر میں پولیو وائرس سے متاثرہ بچوں کی تعداد 117ہو گئی ۔ارباب اختیار ملک کو درپیش پر آشوب صورتحال میں دور اندیشی کا ثبوت دیں ، اسی طرح افغانستان کو بھی دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے مشترکہ کوششوں کے ساتھ ساتھ اپنے داخلی امن و امان پر توجہ دینا چاہیے۔