پاکستان کے معاشی مستقبل کا امتحان

بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی نظام ابھی تک جدید عالمی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکا

پاکستان اس وقت ایک ایسے تاریخی موڑ پر کھڑا ہے جہاں داخلی سلامتی، علاقائی سیاست، معاشی امکانات اور عالمی سفارت کاری ایک دوسرے سے اس شدت کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں کہ کسی ایک محاذ پر کمزوری پورے قومی منظرنامے کو متاثر کر سکتی ہے۔ کوئٹہ میں وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے بیانات دراصل اسی پیچیدہ صورت حال کی عکاسی کرتے ہیں جس میں ریاست کو بیک وقت دہشت گردی، پراکسی جنگ، معاشی دباؤ، سرحدی کشیدگی اور ترقیاتی اہداف کا سامنا ہے۔ ان بیانات کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ریاستی قیادت نے پہلی بار نہایت واضح الفاظ میں داخلی امن اور معاشی استحکام کو ایک ہی قومی حکمت عملی کے دو لازم و ملزوم حصوں کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ احساس حقیقت پر مبنی ہے کہ اگر بلوچستان، خیبر پختونخوا اور سرحدی علاقوں میں امن قائم نہیں ہوگا تو معدنی وسائل، علاقائی تجارت، توانائی راہداریوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کے خواب کبھی عملی تعبیر اختیار نہیں کرسکیں گے۔

 پاکستان گزشتہ دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس کی نوعیت وقت کے ساتھ بدلتی رہی ہے۔ ابتدا میں یہ خطرہ براہ راست عسکریت پسند گروہوں کی کارروائیوں کی شکل میں سامنے آیا، پھر اس نے خودکش حملوں، فرقہ وارانہ تشدد اور ریاستی تنصیبات پر حملوں کی صورت اختیار کی، جب کہ اب یہ جنگ ایک پیچیدہ ہائبرڈ شکل میں تبدیل ہو چکی ہے جہاں بندوق کے ساتھ ساتھ پروپیگنڈا، ڈیجیٹل گمراہ کن مہمات، نسلی تعصبات کو ہوا دینے کی کوششیں اور ریاستی اداروں کے خلاف نفسیاتی جنگ بھی شامل ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ کہنا کہ دشمن قوتیں پراکسیز اور منفی پروپیگنڈے کے ذریعے پاکستان کی ترقی کو سبوتاژ کرنا چاہتی ہیں، عصر حاضر کی جنگی حقیقت کا اظہار ہے۔ جدید دنیا میں جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی بلکہ ذہنوں، معیشتوں، میڈیا پلیٹ فارمز اور سماجی رویّوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔ جو ریاستیں اس حقیقت کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ میدان جنگ میں کامیابی کے باوجود سیاسی اور سماجی استحکام حاصل نہیں کر پاتیں۔

 بلوچستان اس پورے منظرنامے کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے۔ یہ خطہ ایک طرف بے پناہ معدنی وسائل سے مالامال ہے تو دوسری طرف کئی دہائیوں سے محرومی، شورش، بیرونی مداخلت اور انتظامی کمزوریوں کا شکار بھی رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دشمن قوتیں بلوچستان کو پاکستان کی معاشی شہ رگ پر حملے کے لیے سب سے موزوں میدان سمجھتی ہیں۔ گوادر بندرگاہ، سی پیک، ریکوڈک، معدنی ذخائر، علاقائی راہداریوں اور وسط ایشیا تک رسائی کے امکانات نے بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ جب وزیر اعظم یہ کہتے ہیں کہ بلوچستان میں محفوظ ماحول فراہم کرنا مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے اعتماد کے لیے ناگزیر ہے تو دراصل وہ اس بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ سرمایہ ہمیشہ امن کے تعاقب میں جاتا ہے، خوف اور غیر یقینی کی فضا میں نہیں۔

 یہ امر بھی اہم ہے کہ ریاست اب بلوچستان کو صرف ایک سیکیورٹی مسئلے کے طور پر پیش نہیں کر رہی بلکہ اسے معاشی مستقبل کے مرکز کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ سیکیورٹی راہداری، اضافی ایف سی ونگز، نگرانی کے نظام، سرحدی چوکیاں اور شاہراہوں کی حفاظت بلاشبہ ضروری اقدامات ہیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جاسکتی کہ پائیدار امن صرف طاقت سے قائم نہیں ہوتا۔ ریاستی رٹ کی مضبوطی اسی وقت دیرپا بنتی ہے جب عوام کو یہ احساس ہو کہ ترقی کے ثمرات ان کی دہلیز تک پہنچ رہے ہیں، نوجوانوں کو روزگار، تعلیم اور سیاسی شرکت کے مواقع مل رہے ہیں اور وسائل کی تقسیم میں انصاف کا عنصر موجود ہے۔ بلوچستان کا نوجوان اگر خود کو قومی دھارے میں باعزت مقام پر محسوس کرے گا تو بیرونی پراکسیز کے لیے اس کے ذہن اور جذبات کو استعمال کرنا مشکل ہو جائے گا۔

 یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اس پورے بحران میں کس مقام پر کھڑے ہیں۔ پاکستان نے طویل عرصے تک افغانستان میں امن کے لیے سفارتی، سیاسی اور انسانی سطح پر بے پناہ قربانیاں دیں، لیکن افغان سرزمین کا پاکستان مخالف عناصر کے لیے استعمال ہونا بداعتمادی کا سب سے بڑا سبب بن گیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے افغان طالبان حکومت سے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے خلاف ٹھوس اقدامات کا مطالبہ دراصل اسی تشویش کا اظہار ہے۔ پاکستان یہ واضح پیغام دے رہا ہے کہ اچھے ہمسایہ تعلقات صرف بیانات سے قائم نہیں ہوتے بلکہ اس کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہوتے ہیں، اگر ایک ملک کی سرزمین دوسرے ملک میں دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہو تو اعتماد کی فضا پیدا نہیں ہوسکتی۔

 فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ابھرتی ٹیکنالوجیز، ملٹی ڈومین آپریشنز اور جدید جنگی چیلنجز کا ذکر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت مستقبل کی جنگی نوعیت کو سمجھ رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، سائبر وارفیئر، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک نگرانی اور اطلاعاتی جنگ اب روایتی عسکری طاقت جتنی اہم ہو چکی ہیں۔ جو ممالک صرف روایتی جنگی تیاریوں پر انحصار کرتے ہیں، وہ جدید تنازعات میں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ پاکستان کو اپنی عسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سائنسی اور تکنیکی ڈھانچے کو بھی مضبوط بنانا ہوگا تاکہ قومی سلامتی کا تصور محض اسلحے تک محدود نہ رہے بلکہ علمی اور تکنیکی خود انحصاری پر بھی استوار ہو۔

بدقسمتی سے پاکستان کا تعلیمی نظام ابھی تک جدید عالمی تقاضوں سے پوری طرح ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ جب دنیا مصنوعی ذہانت، روبوٹکس، بائیو ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل معیشت کی طرف بڑھ رہی ہے، پاکستان کے لاکھوں نوجوان بنیادی تعلیمی سہولتوں سے محروم ہیں۔ قومی سلامتی کا مستقبل کلاس رومز، تحقیقی مراکز اور ٹیکنالوجی لیبارٹریوں میں بھی پوشیدہ ہے، اگر نوجوان نسل کو جدید علم اور مہارت فراہم نہیں کی جائے گی تو دشمن کے پروپیگنڈے اور انتہاپسندانہ بیانیوں کا مقابلہ کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔

 اس تمام منظرنامے میں سب سے اہم عنصر قومی یکجہتی ہے۔ دہشت گردی اور پراکسی جنگوں کا اصل مقصد ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرنا ہوتا ہے۔ جب معاشرے میں مایوسی، سیاسی تقسیم، نسلی منافرت اور بے اعتمادی بڑھتی ہے تو دشمن قوتوں کے لیے مداخلت آسان ہو جاتی ہے۔ قومی سلامتی صرف عسکری اداروں کی ذمے داری نہیں بلکہ سیاسی قیادت، میڈیا، عدلیہ، تعلیمی اداروں اور عوام سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔سیاسی جماعتوں کو بھی یہ ادراک کرنا ہوگا کہ وقتی سیاسی مفادات کے لیے سیاسی تقسیم پیدا کرنا او طویل المدتی طور پر پورے نظام کو کمزور کرتا ہے۔ جمہوریت کی اصل روح اختلافِ رائے میں ہے، مگر اختلاف اگر نفرت میں تبدیل ہو جائے تو اس سے انتشار پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان کو اس وقت ایسی سیاسی بالغ نظری کی ضرورت ہے جس میں قومی سلامتی، معیشت اور علاقائی استحکام جیسے معاملات کو جماعتی سیاست سے بالاتر رکھا جائے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کی مخالف ضرور ہوتی ہیں، مگر ریاستی مفادات پر کم از کم اتفاق ضرور قائم رکھتی ہیں۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کے کردار کو بھی اس تناظر میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ آج اطلاعات کا بہاؤ اتنا تیز ہو چکا ہے کہ جھوٹ اور سچ کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ دشمن عناصر اسی خلا سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ریاستی بیانیے کی کامیابی صرف سرکاری اعلانات سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے شفافیت، سچائی اور عوامی اعتماد ضروری ہے، اگر عوام کو یہ محسوس ہو کہ ان سے حقائق چھپائے جا رہے ہیں تو افواہیں زیادہ طاقتور ہو جاتی ہیں، لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ میں معلوماتی شفافیت اور ذمے دارانہ ابلاغ بھی ایک اہم ہتھیار ہیں۔بلوچستان کے تناظر میں سب سے بڑی ضرورت اعتماد سازی کی ہے۔ نوجوانوں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ ان کا مستقبل بندوق یا نفرت کی سیاست میں نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، روزگار اور قومی ترقی میں ہے۔ اسی طرح یہ ثابت کرنا ہوگا کہ بلوچستان محض وسائل کا ذخیرہ نہیں بلکہ پاکستان کی روح کا ایک اہم حصہ ہے۔ جب تک احساسِ شراکت مضبوط نہیں ہوگا، محرومیوں کا بیانیہ ختم نہیں ہوسکے گا۔ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کے حالیہ بیانات میں ایک واضح پیغام موجود ہے کہ ریاست اب سلامتی اور معیشت کو الگ الگ خانوں میں نہیں دیکھ رہی۔ یہ ایک مثبت تبدیلی ہے۔ دنیا کی مضبوط ریاستیں وہی ہیں جو معاشی استحکام، سیاسی بصیرت اور سماجی ہم آہنگی کو یکجا کرتی ہیں۔ پاکستان کو بھی اسی سمت بڑھنا ہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی ایک عام شہری خود کو محفوظ، بااختیار اور مستقبل کے حوالے سے پُر امید محسوس کرے۔ یہی وہ منزل ہے جس کی طرف پاکستان کو بڑھنا ہے، اور یہی وہ امتحان ہے جو آنے والے برسوں میں ریاستی قیادت کی بصیرت، استقامت اور قومی عزم کو جانچے گا۔

Load Next Story