مستقبل کے سیاسی تجزیے

حکمرانوں کو ہر دور میں مختلف بہانوں سے بہت بڑی تعداد میں اپنی پارٹیوں کے لیے بھاری فنڈ ملتے ہیں۔

m_saeedarain@hotmail.com

کئی سالوں سے گمراہی پھیلانے والا سوشل میڈیا اور ملک سے باہر بیٹھے ایک سیاسی رہنما کے حامی ہی کم نہیں تھے کہ اب مستقبل کے سیاسی تجزیے اور تبصرے بھی شروع کر دیے گئے ہیں تاکہ آنے والے دنوں میں ہونے والے واقعات جن کا اصل حال تو خدا ہی جانتا ہے یا ملک کی خیرخواہی کے دعویدار مگر وہ صحافی، اینکر اور وی لاگر جن کے تجزیوں کو عوامی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں انھوں نے اپنے خودساختہ تجزیوں سے صرف اپنی ریٹنگ بڑھا کر ڈالر کمانے کے لیے عوام کو مزید گمراہ کرنا شروع کر دیا ہے جب کہ عوام کو اب اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کون اقتدار سے جا رہا ہے، کون آ رہا ہے۔ اس وقت عوام کو صرف اپنے اوپر گزرنے والے حالات کا پتا ہے کہ موجودہ حکومت میں انھیں دنیا کا مہنگا ترین پٹرول خریدنا پڑ رہا ہے کیونکہ کمائی کے اس موقع کو حکومت ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہ رہی کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ سزا بھگتنے کے لیے کیا پاکستان کے عوام ہی رہ گئے ہیں کیونکہ مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے۔

 جنرل ضیا الحق نے 41 سال قبل ملک میں غیر جماعتی الیکشن کرائے تھے جس کے بعد 1999 تک سیاسی حکومتیں آتیں اور قبل از وقت جاتی رہیں اور پی پی اور مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں نے عوام کو وعدوں پر ہی ٹرخایا اور عوام کو کچھ نہیں دیا اور عوام غریب سے غریب اور ابن الوقت مفاد پرست سیاستدان امیر سے امیر ہوتے گئے۔ (ن) لیگی حکومت نے موٹروے، میٹروز اور سڑکوں کا جال پھیلانے کے جو بھی تعمیری و ترقیاتی منصوبے بنائے ان سے متعلق (ن) لیگ مخالف حلقوں نے ہمیشہ یہ الزام لگایا کہ ان منصوبوں کے ذریعے کروڑوں روپے کمیشن بھی وصول کرکے جائیدادیں بنائی گئیں جو بیرون ممالک ان کے زیر استعمال ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنی حکومتوں میں اپنوں کو دل بھر کر نوازنے اور کرپشن میں مشہور رہی ،الزام لگایا گیا کہ اس کی قیادت نے بھی بیرون ملک جائیدادیں اور اثاثے بنائے۔ دونوں ہی پارٹیاں اپنی مبینہ کرپشن سے بری الذمہ نہیں ہیں اور دونوں ہی کو 2018 تک پانچ پانچ سال پہلی بار کرپشن ختم کرنے اور عوام کو نوازنے کے مواقع ملے مگر دونوں ہی نے صرف اپنوں کو نوازا عوام ان کی نوازشات سے محروم رہے اور مہنگائی و بے روزگاری اور حکمرانوں کی جائیدادیں ضرور بڑھتی رہیں اور دونوں پارٹیوں کی حکومتوں میں عوام کی حالت بد سے بدتر ہی ہوئی اور کوئی بہتری نہیں آئی۔

دونوں پارٹیوں کی باری باری سے بے زار طاقتوں نے ایک نیا تجربہ کیا اور شہرت کے حامل نئے چہرے کو سامنے لایا گیا مگر چہرے بدلے مگر عوام دشمنی کا نظام نہ بدلا۔ پی ٹی آئی وزیر اعظم نے ریاست مدینہ کا نام لے کر عوام کی بہتری کے لیے کچھ نہ کیا اور اپنی ساری توجہ اپنے مخالفین کی سیاست ختم کرانے کے لیے عدالتوں سے سزا دلا کر نااہل کرانے اور بیرون ملک سے اپنے تمام دوستوں کو بلا کر انھیں اہم عہدوں کے ذریعے کمانے کا بھرپور موقع دیا اور وہ یہ بھول گئے کہ انھوں نے مبینہ کرپٹ سابق حکمرانوں کی لوٹی ہوئی دو سو ارب ڈالر کی رقم واپس لا کر ملک و قوم کی حالت بدلنا تھی مگر ریاست مدینہ کا دعویدار بھی ماضی کے حکمرانوں کی طرح اپنے نئے ادارے بڑھاتا اور پہلوں کو مالی طور مستحکم کرتا رہا۔

 حکمرانوں کو ہر دور میں مختلف بہانوں سے بہت بڑی تعداد میں اپنی پارٹیوں کے لیے بھاری فنڈ ملتے ہیں۔ شریف فیملی نے اپنے اسپتالوں کے لیے عوام سے کبھی چندہ نہیں مانگا ۔ پی پی حکومتوں نے اسپتالوں پر توجہ دی نہ کمائی کا ذریعہ بنایا بلکہ اہم عہدوں پر رہ کر پی پی کے لیے صرف بھاری عطیات لیے اور اپنے اثاثے بڑھائے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے غریبوں سے ووٹ ضرور حاصل کیے۔ لاہور میں رائیونڈ کا نجی کینسر اسپتال مفت علاج کرتا ہے مگر کرکٹ شہرت سے فائدہ اٹھانے والے نے لاہور میں سب سے مہنگا کینسر اسپتال چندوں سے ضرور بنایا مگر پی پی و (ن) لیگی قیادت کی طرح غریبوں کے لیے کوئی ایک ایسا جنرل اسپتال نہیں بنوایا جہاں غریبوں کا مفت علاج ممکن ہوتا۔ انھوں نے سرکاری عہدے پر رہ کر اپنے اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو مالی طور بے انتہا مستحکم کیا مگر مانگنے کی عادت نہ چھوڑی اور اب بھی زکوٰۃ و خیرات کے مذہبی موقع پر مخیر حضرات سے عطیات لیے جاتے ہیں جن کے آڈٹ کا صرف انھیں ہی پتا ہے اور مخیر حضرات ان حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے زیادہ سے زیادہ مالی معاونت کرتے ہیں کہ مستقبل میں ڈبل فوائد بھی ان ہی کی بدولت واپس ملتے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی عطیات سے اپنے فلاحی ادارے الخدمت کے تحت چلا رہی ہے اور مرکزی مسلم لیگ بھی جماعت کی طرح اقتدار کے بغیر کچھ نہ کچھ کر رہی ہے مگر پیپلز پارٹی اور جے یو آئی فلاحی عطیات کے جھنجھٹ سے دور ہی ہیں۔

1985 کے بعد بے نظیر بھٹو دو بار، نواز شریف تین بار، شہباز شریف اور آصف زرداری دو دو بار اقتدار کے ایوانوں میں ہیں مگر کسی نے عوام کی حالت بدلنے پر توجہ ہی نہ دی۔ سیاسی جلسوں کا ریکارڈ بنانے والے بانی پی ٹی آئی کو بھی پونے چار سال عوام کی حالت بدلنے کا موقع ملا مگر انھوں نے سابق حکمرانوں کی طرح عوام کے لیے عملی طور کچھ بھی نہیں کیا۔

 مستقبل کے سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کوئی بھی آئینی حکمران آ جائے اس سے تو بہتری کی کوئی امید ہے ہی نہیں ۔ آزمائی ہوئی پارٹیوں کے نئے چہرے بھی اقتدار میں آ جائیں تب بھی عوام کو ان سے کوئی ریلیف ملنا ہے نہ ہی ان سے امید کہ وہ عوام کی حالت بدل سکیں گے۔ پنجاب کی لیگی حکومت تو کچھ کرتی نظر آ رہی ہے مگر پیپلز پارٹی کی سندھ و بلوچستان کی اور پی ٹی آئی کی کے پی حکومتوں نے اپنے حالیہ دو سالوں میں عوام کی بہتری کے لیے کچھ نہیں کیا اور طے کر رکھا ہے عوام کو کوئی ریلیف نہیں دینا، صرف مہنگائی و بے روزگاری بڑھانی ہے۔ حکومت کے بہتری کے دعوے عوامی غصہ ختم نہیں کر سکتے۔

Load Next Story