یہاں بھی اور وہاں بھی
barq@email.com
کہیں کسی مضمون میں بھی پڑھا ہے اور کچھ اچھے خاصے باخبر لوگوں سے بھی سنا ہے کہ دنیا میں چائے کی ایک قسم ایسی بھی ہے یا ایک قسم کی چائے ہے،جس کی پتی لاکھوں ڈالر فی کلو کے حساب سے ملتی ہے اور ایک کپ کی قیمت ہزاروں ڈالر ہوتی ہے اس چائے کے بارے میں تو معلوم نہیں کہ کیسی ہوتی ہے اور اس میں کیا کیا خوبیاں اور لذتیں ہوتی ہیں۔لیکن ہم خود ایک پیالی چائے ایسی پی چکے ہیں جس کی قیمت ہم نے چھ ہزار روپے چکائی تھی۔
بھوپال میں صوفی کانفرنس تھی واپسی میں باقی شرکا کو تو اجیت کور نے سیدھا اور بہروبار رخصت کردیا تھا لیکن ہم نے ضد پکڑی کہ ہم تو دلی میں چار دن ٹھہر کرجائیں گے، ایونٹ کی سربراہ اجیت کور نے ہماری ضد کا مان رکھ لیا اور میں قرول باغ کے ایک ہوٹل میں چار دن کے لیے ٹھہرا ۔ہم نے اخباروں اور چینلوں پر آئیورو پارک طب کے بارے میں بہت پڑھا اور سنا تھا خاص طور پر ایک اشتہاری دوا ’’آروگی وئی‘‘ کے بارے میں۔’’آروگی وئی‘‘ کا مطلب ہے، امراض روک یا بیماریوں سے بچانے والی دوا۔دم لیا تو کسی وید کی دکان کی تلاش ہوئی اور پوچھتے پوچھتے کسی قریب کی ایک سڑک پر مشہور ویدی کی دکان کا پتہ ملا۔ پہنچ گئے تو ویدی نے بڑی آو بھگت کی۔
ہم نے آروگی وئی کے بارے میں پوچھا تو بولا چھوڑیے وہ تو یونہی اشتہاری دوا ہے میں آپ کو ایسی دوا دوں گا جو آپ کو ہمیشہ کے لیے ہر بیماری سے مکت کردے گی لیکن ٹھہریے پہلے چائے۔پھر اس نے وہ حکیموں والی کھرل اپنے سامنے رکھی اس میں دو الائچی ڈالے، دو کالی مرچیں، کچھ سونف اور دارچینی ان سب کو پیس کر نوکر سے کہا کہ چائے والے کے پاس لے جائے اور چائے میں ڈلوائے اور ادرک تو وہ ویسے بھی ملاتا ہے۔مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب میں چائے کے بارے بہت کچھ لکھا ہے اور اس میں بتایا کہ ہند و پاکستان میں جو دودھ والی چائے مروج ہے یہ تو چائے نہیں حلوہ ہے اصل چائے تو وہ ہوتی ہے جس میں چائے کی پتی کے سوا اور کسی چیز کی ملاوٹ نہ ہو لیکن بھارت نے اس سے بڑھ کر مصالحہ ادرک چائے ایجاد کرلی ہے جس میں الائچی سونف ادرک اور کچھ اور چیزوں کی ملاوٹ ہوتی ہے بلکہ اب تو پیک شدہ مصالحے دار چائے بھی ملتی ہے جس میں پتی کے ساتھ کئی مصالحے بھی ملے ہوتے ہیں۔ ویدجی نے بھی ہمیں مصالحے دار جمع ویدی چائے پلائی۔
چائے کے دوران ویدجی الماریوں سے طرح طرح کے شیشے کے مرتبان اتارتے رہے اور پلاسٹک کے ڈبوں میں ہمارے لیے دوا تیار کرتے رہے آخر چھوٹی بڑی چھ سات ڈبیوں میں طرح طرح کے معجونات جوارشات اور ساتھ ہی سنہری اور چاندی سے ملفوف ہاتھ کی بنی ہوئی گولیاں بھی۔اور پھر ہمارے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔لیجیے آپ کی دوا تیار ہوگئی ہے۔قیمت پوچھی تو کوئی ساڑھے تین ہزار روپے کے ساتھ کبول لگا کر بتائی۔ اب کیا کرتے، چائے جو پی تھی بقول سفادین۔ ایک اور کہانی نے دُم ہلانا شروع کردیا ہے۔
ایک مرتبہ ہم ایک دوست کے کھیت میں موجود تھے، چار چھ لوگ تھے، کھیت سے متصل آڑو کا باغ تھا، جس کے اندر ایک رکھوالا چارپائی پر بیٹھا تھا، چائے آئی تو وہ رکھوالا بلانے پر نہیں آیا تو ہامرے ساتھیوں میں سے ایک نے چائے کی چینک اور پیالی اٹھائی، ایک پراٹھا بھی ساتھ لیا اور جاکر رکھوالے کو کھلا پلا کر آگیا۔پھر اس کا ایک بیٹا آیا تو وہ شخص کام کرتے کرتے بتانے لگا کہ کس کس درخت سے آڑو اتارے جائیں اور ایک جگہ چادر بچھا کر انھیں جمع کرتے رہے۔ میں نے اس شخص سے کہا کہ یہ کیا کررہے ہو وہ رکھوالا دیکھ رہا ہے۔ ہنس کر بولا، وہ تو اندھا ہے ۔ میں نے کہا اندھا کیسے ہے ،کوئی اندھے کو رکھوالی کے لیے رکھتا ہے کیا؟ بولا، نہیں پہلے ٹھیک تھا لیکن میں نے اس کی آنکھوں میں چائے انڈیل کر اوپر پراٹھا باندھا ہوا ہے، اب اسے کچھ بھی دکھائی نہیں دے رہا ہے۔ ہماری آنکھوں میں بھی ویدجی نے مصالحے دار چائے انڈیلی تھی اور کچھ پاکستان کا بھرم بھی رکھنا تھا اس لیے قیمت دے کر دوائی لے آئے۔
اس وقت تو چوٹ گرم تھی لیکن ہوٹل آکر سوچا تو وہاں کے ساڑھے تین ہزار ہمارے چھ ہزار بنتے تھے، زخم سے بے پناہ ٹھیس اٹھ رہی تھیں لیکن اب کیا کرسکتے تھے بعد میں وہ ساری دوائیاں کھالیں لیکن کچھ بھی اثر نہیں ہوا بلکہ دواؤں کے دوران بھی کئی بیماریاں ہمیں لاحق ہوگئیں۔بعد میں ہمیں اچھی طرح علم ہوا کہ دونوں ملکوں میں رہنے والوں کا’’قارو رہ‘‘ چونکہ ایک ہے اس لیے جو یہاں ہے وہ وہاں بھی ہے، وہاں بھی لوگ ایسے ہی مذہب اور طب وغیرہ بیچ رہے ہیں اور یہاں بھی۔وہاں بھی ایسے لوگ مذہب کے نام پر مصنوعات وسیع پیمانے پر بیچ رہے ہیں اور یہاں بھی ایسی ہی انڈسٹری چل رہی ہے۔
وہاں آئیورویدک بیچا جارہا ہے یہاں یونانی بیچا جارہا ہے، وہاں دوائی کو دیوی دیوتاؤں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے اور یہاں بھی مذہبی تڑکا لگایا جارہا ہے، وہاں بھی رشی منی ہے اور بابے دندناتے ہیں اور یہاں بھی پیر مرشد اور بابے لگے ہوئے ہیں۔ وہاں بھی بڑے بڑے آشرم چل رہے ہیں ٹی وی پر وقت خرید کر اپنا دارو بیچ رہے ہیں اور یہاں بھی۔خبروں میں تو آپ سنتے ہوں گے کہ کیسے کیسے لوگ کیا کیا نہیں کررہے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر ندا فاضلی کی ایک غزل یاد آجاتی ہے ؎
انسان میں حیوان یہاں بھی ہے وہاں بھی
اللہ نگہبان یہاں بھی ہے وہاں بھی
خونخوار درندوں کے فقط نام الگ ہیں
شہروں میں بیابان یہاں بھی ہیں وہاں بھی
ہندو بھی مزے میں ہے مسلمان بھی مزے میں
انسان پریشان یہاں بھی ہے وہاں بھی