سان ڈیاگو مسجد؛ حملہ کرنے والے نوجوانوں کے بارے میں چونکا دینے والے انکشافات
سان ڈیاگو مسجد کے سیکیورٹی گارڈ اور عملے کے دو ارکان نے اپنی جان قربان کرکے بچوں کو بچالیا
امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان ڈیاگو کے اسلامک سینٹر پر ہونے والے ہولناک حملے کی تحقیقات کے دوران چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حملہ آور دونوں نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار ہوئے تھے اور وہ یہودیوں اور مسلمانوں دونوں کی نسل کشی کے حامی تھے۔
دونوں ملزمان کا انٹرنیٹ پر ایک دوسرے سے رابطہ قائم ہوا تھا اور وہ سفید فاموں کی برتری، مسلم و یہود دشمنی، نسل پرستی اور آپس میں انتہا پسند نظریات اور مواد کا تبادلہ کرتے تھے۔
ایف بی آئی کے سان ڈیاگو میں تعینات مرکزی تفتیشی افسر مارک ریمیلی نے کہا کہ وہ اس بات میں فرق نہیں کرتے تھے کہ کس سے نفرت کرنی ہے۔
تفتیشی حکام کا مزید کہنا ہے کہ حملہ آوروں کی تحریروں اور منشور میں یہودیوں، مسلمانوں، سیاہ فام افراد، ایل جی بی ٹی کمیونٹی، خواتین اور سیاسی دائیں و بائیں بازو سب کے خلاف شدید نفرت پائی گئی۔
ایف بی آئی کے تفتیش کار نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر ان نوجوانوں کی تحریروں میں جرمن آمر ایڈولف ہٹلر کی تعریف کی گئی اور ہولوکاسٹ سے بھی انکار کیا گیا تھا۔
پولیس افسر نے بتایا کہ 17 سالہ کین کلارک اور 18 سالہ کیلب وازکویز نے مسجد پر حملے سے پہلے ایک تفصیلی منشور تیار کیا تھا جس میں یہودیوں کو دنیا کا سب سے بڑا دشمن قرار دیتے ہوئے ان کے مکمل خاتمے کی بات کی گئی۔
حملہ آور “گریٹ ریپلیسمنٹ تھیوری” سے بھی متاثر تھے جس کے مطابق سفید فام افراد کو جان بوجھ کر مغربی دنیا میں اقلیت بنانے کی سازش کی جا رہی ہے۔ ان کے نزدیک مسلمان بھی ایک جارح قوت تھے جنہیں ختم کرنا ضروری تھا۔
تفتیشی حکام نے بتایا کہ دونوں نوجوانوں نے حملے کی لائیو اسٹریمنگ کا بھی منصوبہ بنایا تھا اور اس مقصد کے لیے گو پرو طرز کے کیمرے استعمال کرنے والے تھے۔
حملے کے بعد پولیس نے مختلف مقامات سے کم از کم 30 بندوقیں، بڑی مقدار میں گولہ بارود اور ایک کراس بو برآمد کی۔
تحقیقات جاری ہیں کہ آیا حملہ آور مزید بڑے حملوں کی منصوبہ بندی بھی کر رہے تھے یا نہیں۔
یاد رہے کہ دونوں حملہ آور مسلح ہوکر اسلامک سینٹر سان ڈیاگو پہنچے تاہم سیکیورٹی گارڈ امین عبداللہ نے بھانپ لیا اور بروقت مزاحمت کرکے 200 سے زائد افراد کی جانب بچالی جن میں اسکول کے بچے بھی شامل ہیں۔
تاہم امین عبداللہ حملہ آروں سے مقابلے کرتے شہید ہوگئے ان کے علاوہ مسجد کے عملے کے دیگر 2 افراد بھی جاں بحق ہوگئے جب کہ حملہ آوروں نے بھی خود کو گولیاں مار کر اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا تھا۔
واضح رہے کہ سان ڈیاگو کی اس مسجد میں عربی زبان، قرآن اور اسلامی تعلیمات کی کلاسیں بھی دی جاتی ہیں اور یہ مقامی مسلم کمیونٹی کا اہم مرکز سمجھی جاتی ہے اور حملے کے وقت بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔