بجٹ اور عوامی مفاد پر مبنی سیاست
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان میں سیاست ،معیشت ،بجٹ کے تناظر میں ہونے والی منصوبہ بندی اور عوامی مفادات یا معاشی استحکام کے درمیان ہمیں خلیج دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ جب بھی بجٹ کی سیاست سامنے آتی ہے تو عوام کی پریشانی بڑھ جاتی ہے اور انھیں معیشت کی بہتری یا عوامی ترجیحات کو مضبوط بنانے کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں ہوتی۔
لوگوں کو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ بجٹ کی سیاست عملی طور پر مضبوط طبقات کے معاشی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔سرکاری طور پر عام آدمی کو جو اعداد وشمار دکھائے جاتے ہیں اس کا گورگھ دھندا عام آدمی کی سیاست یا معیشت سے بالکل مختلف ہوتے ہیں۔ اعداد وشمار کی بنیاد پر جو معاشی تفریق کے پہلو سماج اور محروم طبقات کی سطح پر دیکھنے کو ملتے ہیں وہ کافی سنگین نوعیت کے ہیں۔
حکومتی سطح پر ماہرین جو معیشت کی سمجھ بوجھ رکھتے ہیں یا جن کے پاس فیصلہ سازی کا اختیار ہے ان کے سامنے جو ترجیحات ہیں وہ عام آدمی کی معیشت کی بہتری کے مقابلے میں اعداد وشمار کی بہتر مینجمنٹ یا عالمی مالیاتی اداروں کی ترجیحات کو بنیاد بنا کر ان کو خوش یا مطمئن کرنے تک محدود ہوتی ہے اور عملاً اسی دائرہ کار تک ہماری معیشت کی کہانی چلائی جا رہی ہے ۔
مسئلہ معاشی اعداد وشمار کے کھیل سے نکل کر عملا عوام کی نفسیات اور اعصاب کا امتحان بن چکا ہے کیونکہ اس وقت لوگوں یا محروم طبقات کی جو حالت ہے اس میں ان کو سخت معاشی مسائل کا سامنا ہے۔ پٹرول ،ڈیزل ،تیل ،بجلی ،گیس، ادویات، تعلیم اور صحت کی فیسوں میں اضافہ، روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ سمیت مختلف محاذ پر لوگوں میں حکومت کے بارے میں سخت ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ایک طرف یہ حالت ہے کہ عوام کی مشکلات اور دوسری طرف حکمرانی کا نظام جس طرح سے طاقت ور طبقات کو ریاستی وسائل کی بنیاد پر ریلیف دیا جارہا ہے اس سے بھی طاقت ور اور کمزور کے درمیان مسلسل جہاں خلیج بڑھ رہی ہے وہیں لوگوں میں بے چینی پیدا ہورہی ہے۔جب حکومت طاقت ور طبقات کو مختلف معاملات میں سیاسی ومعاشی ریلیف دے رہی ہے تو ایسے میں عام لوگوں کا سخت ردعمل فطری امر ہوتا ہے۔
یہ سوال اہمیت رکھتا ہے حکمران طبقہ جس معاشی خوشحالی کے دعوے کرتا ہے یا جو معاشی ترقی پر مبنی تصویر پیش کرتا ہے یا مستقبل کے بارے میں جو خواب دکھاتا ہے اس پر لوگ کیونکر اعتبار کرنے کے لیے تیار نہیں۔یہ جو ملک میں لوئر مڈل کلاس ، مڈل کلاس یا اپر مڈل کلاس کے درمیان بالخصوص تنخواہ دار طبقہ میں آمدنی اور اخراجات کے درمیان عدم توازن مسلسل بڑھ رہا ہے اس کے حل کا کوئی جواب سرکاری معاشی ماہرین کے پاس نہیں ہے۔
ایک طرف معاشی ترقی کے دعوے تو دوسری طرف بجلی اور گیس کی مسلسل لوڈ شیڈنگ اور بڑی اور چھوٹی صنعتوں کے فروغ کا نہ ہونا صنعت کے شعبے کو کیسے فروغ دے سکتا ہے۔
بہت سے معاشی ماہرین کے بقول 2026-27 پاکستان کے سخت معاشی برس ہونگے یا اس کا مجموعی نزلہ عوام پر مزید مشکلات کی صورت میں سامنے آئے گا۔ حکومت کہتی ہے کہ معیشت سنبھل رہی ہے جب کہ معاشی ماہرین مسلسل ہماری معاشی پالیسیوں اور ترجیحات پر تنقید کررہے ہیں ۔حکومت سمجھتی ہے کہ معیشت کسی جادوئی عمل سے مضبوط ہوگی یا سیاسی استحکام کو پیدا کیے بغیر معیشت بہتر ہوسکتی ہے۔اسی طرح غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں کا سرمایہ کاری نہ کرنا بھی حکومت کے لیے چیلنج بن گیا ہے اور اس چیلنج سے کیسے نمٹا جائے اس کا جواب بھی حکمرانی کے نظام کے پاس موجود نہیں ۔
ایک بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر لوگوں کو ٹیکس دینے کے باوجود ان کے مسائل کا حل اور ریلیف نہیں ملے گا تو لوگ کیونکر حکومت پر اعتماد کریں گے ۔اس لیے آج اگر طاقت کے مراکز میں جو مرکزی نقطہ زیر بحث ہے وہ معیشت کے بگڑتے ہوئے حالات ہیں۔اسی بنیاد پر کسی بھی حکومتی دور میں سیاسی تبدیلیوں کی باتیں سننے کو ملتی رہیں اس کی وجہ بھی ملک میں بڑھتی ہوئی معاشی مایوسی ہے ۔
کسی بھی دور میں حکمران طبقہ تمام تر سیاسی فتوحات کے باوجود ملک میں نہ تو معیشت کو بہتر بناسکا اور نہ ہی ملک میں سرمایہ کاری کو لا سکا ۔ اس لیے اگر ملک میںکسی نئے سیاسی بندوبست یا کوئی نئی مہم جوئی کے سامنے آنے کی باتیں ہوتی تھیں تو اس کی وجہ بھی معیشت کی بگڑی کہانی رہی ہے ۔آئی ایم ایف کی جو حالیہ سخت شرائط سامنے آئی ہیں اس کے نتیجے میں بھی آنے والے حالات معیشت کی کہانی کا نقشہ اچھا نہیں پیش کررہے۔ حکومت کو باور کروا دیا گیا ہے کہ حالیہ بجٹ آئی ایم ایف کی شرائط پر مبنی ہونا چاہیے اور اس پر آئی ایم ایف کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔توانائی ٹیرف میں بجلی اور گیس کے نرخوں میں باقاعدہ ایڈجسٹمنٹ کا فارمولہ ،اسپیشل اکنامک زون اور ٹیکس مراعات مرحلہ وار ختم،ٹیکس اور ایف بی آر اصلاحات ،صوبائی سطح پر زرعی ٹیکس قوانین،سرکاری اداروں کی غیر مسابقتی ترجیحات ختم ،کرنسی کنٹرولز مرحلہ وار بنانے کا روڈ میپ،سماجی تحفظ،گورننس،کرپشن اعلی سطح پر سرکاری افسران کے اثاثوں کی شفافیت،قومی احتساب بیورو کی خود مختاری ،سخت مالیاتی پالیسی ،مانیٹری اصلاحات، ٹیکس چھوٹ سبسڈی کو کم سے کم کرنا شامل ہے۔
جہاں تک آئی ایم ایف کے حالیہ پروگرام کے نتیجے میں پہلا وار عوام پر ایک بڑے معاشی بوجھ کی صورت میں سامنے آسکتا ہے، بجلی اور گیس ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سے ان کے بلوں میں اضافہ متوقع ہے جس سے غریب اور مڈل کلاس پر مزید بوجھ پڑے گا۔ترقیاتی اخراجات کم ہونے سے روزگار ، انفراسٹرکچراور سماجی شعبہ بالخصوص تعلیم اور صحت پر منفی اثرات پڑسکتے ہیں۔اعلی شرح سود سے کاروبار اور قرضے مہنگے ہونگے۔بے روزگاری اور کاروباری دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا،کچھ سیکٹر اور صنعتیں متاثر ہوسکتی ہیں اور قرض کی ناکامی پر قرض کا بوجھ بڑھے گا۔ ماہرین کے بقول اگر حکومت نے شفافیت پر مبنی نظام قائم نہیں کیا تو پاکستان کی معیشت سمیت عملاً عوام کے معاشی حالات میں مزید خرابیاں دیکھنے کو ملیں گی۔
پاکستان میں ہر برس35لاکھ سے زیادہ نوجوان لیبر مارکیٹ میں داخل ہوتے ہیں مگر حکومت کی ترجیحات میں نئے روزگار کا پیدا نہ ہونا ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔پاکستان کا مسلسل ریمٹنسیز پر انحصار بڑھ رہا ہے جو خاندانوں کے لیے مزید مسائل پیدا کرے گا۔اسی طرح غربت کی شرح میں مزیداضافہ متوقع ہے ۔ایک رپورٹ کے مطابق دیہی علاقوں میں 36فیصد اورشہروں میں 17فیصدکے قریب لوگ سیلابوں یا مہنگائی اور سست معاشی معاملات سے غربت میں دھکیلے جا رہے ہیں۔
بالخصوص بجلی اور گیس کے بلوں سمیت پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کا اضافہ لوگوں میں مزید غصہ پیدا کرنے کا سبب بنے گا۔پاکستان میں حکومتی معاشی پالیسیوں کی وجہ سے متوسط طبقہ عملاً سکڑ رہا ہے اور کمزور طبقات مزید نیچے کی طرف جا رہے ہیں جو ملک میں مزید محرومی کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے ۔اسی طرح ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیںکہ تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکس کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور قرضوں کے بوجھ نے حکومتی مشکلات میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے اور اسی بنیاد پر سماجی شعبوں پر کم خرچ ہوتا ہے ۔اصل مسئلہ پائیدار ترقی یا معاشی استحکام سے جڑا ہوا ہے ۔عام آدمی کے لیے نوکری،سستی زندگی اور مستقبل کی سیکیورٹی سب سے بڑے چیلنج ہیں۔