’’تہران کی راتیں خاموش ہیں‘‘
tanveer.qaisar@express.com.pk
’’ جب میرے بچے جوان ہو جائیں گے اور مجھ سے استفسار کریں گے کہ انقلاب کیا ہوتا ہے اور کیسے معرضِ عمل میں آتا ہے تو اُنہیں مَیں اپنی یہ کتاب پیش کروں گی ۔ فرانسیسی اور رُوسی انقلابوں کے بعد ایرانی انقلاب ہمارے عہد کا سب سے بڑا ، سب سے نمایاں انقلاب ہے ۔ اِس انقلاب نے واقعی معنوں میں زندگیاں تلپٹ کر دیں ۔ انقلابِ ایران بارے مَیں نے بنیادی اور اصل معلومات اپنے والدین سے اخذ کیں۔ اِنہی معلومات کی اساس پر یہ ناول معرضِ وجود میں لایا گیا ہے۔ مَیں اپنے بچوں کو زبانی بھی بتاؤں گی کہ ایرانی انقلاب کے اصل بانی کون تھے اور اُن مخلص انقلاب پسندوں کو کن لوگوں نے کس طرح کچل کر پیچھے دھکیل کر اقتدار پر مطلق قبضہ کر لیا۔‘‘
یہ الفاظ محترمہ شیدا بزیار کے ہیں ۔انھی کے قلم سے یہ تہلکہ خیز ناول لکھا گیا ہے ۔ ناول کا عنوان ہے :The Nights are Quiet in Tehran(صفحات238) آج کل جب کہ دُنیا بھر میں ایران و امریکہ ( پلس اسرائیل) تصادموں کے سبب ایک پریشانی اور شورِ محشر بپا ہے ، شیدا بزیار کے اِس تازہ ترین ناول نے دھومیں مچا رکھی ہیں ۔ یہ ناول انقلابِ ایران (1979) کے اوّلین ایام سے شروع ہو کر حالیہ ایام تک آتا ہے ۔ عجب اتفاق ہے کہ یہ ناول ایسے سمے منصہ شہود پر آیا ہے جب ایران ہی کے حوالے سے ہر طرف بحث و مباحث کے دَور چل رہے ہیں ۔ یہ ناول بنیادی طور پر جرمن زبان میں لکھا گیا ہے ۔
رُتھ مارٹن (Ruth Martin)نے اِسے انگریزی زبان میں ڈھالا ہے اور کمال کر دیا ہے ۔ انگریزی کے علاوہ اِس ناول کے ڈَچ ، ترکی اور فرانسیسی زبانوں میں بھی تراجم ہو چکے ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ ناول نگار نے ناول اور کہانی کی زبانی جو پیغام دُنیا کو دینا چاہا ، اس میں وہ خاطر خواہ کامیاب ہُوئی ہیں ۔ اور یہ پیغام ایران کے سرکاری موقف سے مختلف بھی ہے اور متصادم بھی۔ اِس کی شائد بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ ناول نگار ( شیدا بزیار) نے اپنے مہاجر ایرانی والدین کی زبانی انقلابِ ایران بارے تلخ باتیں سُنیں ۔
ناول نگار ( شیدا بزیار) کے والدین انقلابِ ایران(1979) کے بعد مجبوراً ایران سے فرار ہو کر جرمنی میں پناہ گزیں ہو گئے تھے ۔ان والدین نے انقلابِ ایران کو برپا ہوتے ہُوئے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور خود بھی اِس میں حصہ لیا ۔ اور پھر انقلابِ ایران کے بعد ایرانی مذہبی شخصیات ، مذہبی اداروں اور مذہبی قوتوں نے جس تیزی ، شدت اور سختی سے ایرانی اقتدار پرقبضہ کیا، یہ حیرت انگیز اور غیر متوقع حالات بھی ان والدین نے اپنی آنکھوں سے ملاحظہ کیے ۔ جرمنی ہی میں ناول نگار کی پیدائش ہُوئی ۔ اب اُن کی عمر38برس ہے اور وہ ذہناًو طبعاً جرمن ہیں ۔ اُن کی زبان بھی جرمن ہے ۔
اپنے والدین کے توسط سے فارسی زبان سے آشنا تو ہیں مگر اظہارِ خیال کے لیے جرمن زبان ہی کو وسیلہ سمجھتی ہیں ۔ ناول نگار نے خود تو انقلابِ ایران کو برپا ہوتے دیکھا نہ شاہ ایران ( رضا شاہ پہلوی) کا تختہ اُلٹتے دیکھا ، مگر بیک وقت یہ سنگین اور حسین یادیں اُنہیں اپنے والدین کی معرفت حاصل ہوئیں۔ اُن کے ایرانی والدین کی یادیں اب ناول نگار کی اپنی یادیں ہیں ۔ ناقابلِ فراموش یادیں۔ ناول نگار صاحبہ اپنے ایک انٹرویو میں اعتراف کرتی ہیں: ’’مَیں نے یہ ناول لکھنے سے قبل کئی بار ایران کا دَورہ کیا۔ اپنے اُن قریب ترین عزیزوں سے ملی جنھوں نے انقلابِ ایران کے شب و روز کو اپنے دل و جاں پر گزرتے دیکھا ، جھیلا اور محسوس کیا ۔‘‘
جس طرح پولینڈ کے عالمی شہرت یافتہ اخبار نویس ریشارد کاپوشنسکی(Ryszard kapuscinski)کی لکھی گئی معرکہ آرا مشاہداتی کتاب Shah of Shahsپڑھتے ہُوئے ہم انقلابِ ایران کو خود تصوراتی طور پر اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں اور یہ بھی ملاحظہ کر سکتے ہیں کہ شاہِ ایران کے پیدا کردہ جابرانہ ماحول میں کس طرح پِسے ایرانی عوام نے بادشاہت کا تختہ اُلٹا، اِسی طرح ہم شیدا بزیار کے لکھے گئے تازہ ترین ناول The Nights are Quiet in Tehranکے چار بڑے کرداروں کی زبانی محسوس کر سکتے ہیں کہ (1)انقلابِ ایران کے دوران ایرانی عوام کے جذبات و احساسات کیا تھے (2) انقلاب کے حقیقی کردار کون اور کیسے تھے (3) ایرانی عوام بعد از انقلاب، ایران کو کیسا دیکھنا چاہتے تھے (4) انقلاب کے بعد پیدا ہونے والے حالات سے ترقی پسند ایرانی کیوں اور کیسے مایوس ہُوئے (5) ایران سے فرار ہو کر مغربی ممالک میں سر چھپانے والی ایرانی فیملیاں کن دگرگوں حالات میں ملک سے نکلیں (6) غیر ممالک میں پہنچنے والے یہ ایرانی خاندان اور افراد آج کل کن نفسیاتی عوارض سے گزر رہے ہیں (7) ایرانی انقلاب کے چار عشرے گزرنے کے بعد وطن سے نکلنے کا احساسِ زیاں اُنہیں کیسے بیقرار کررہا ہے ؟؟
زیر نظر ناول کو ہم بائیوگرافیکل ناول نہیں کہہ سکتے۔ تاریخی بھی نہیں ۔ نری سیاست پر مشتمل بھی نہیں۔ لیکن اِس میں ایک ایسی کشش ہے کہ پڑھنے والا مبہوت رہ جاتا ہے ۔ راقم بھی ابھی تک اِس کے سحر سے نہیں نکل سکا ۔ اِس میں رومان بھی ہے اور یادوں کی بے پناہ کسک بھی ۔ یہ کسک ناول میں موجود اُن دو نسلوں میں منتقل کی گئی ہیں جن کے والدین بہ امرِ مجبوری ایران کے نئے انقلابی کلچر سے مانوس نہیں ہو سکے تھے اور وہ ملک سے نکل کر اجنبی سرزمینوں کی جانب نکل گئے ۔ آزادی سے سوچنے ، لکھنے ، پڑھنے اور بِلا جبر زندگیاں گزارنے کے لیے ۔ اِس کے لیے مگر اُنہیں ایک منفرد قیمت بھی ادا کرنا پڑی ہے ۔ یہ قیمت سمندر پار جا بسنے والے ہر اُس فرد اور خاندان کو ، اپنے اپنے انداز میں، ادا کرنا پڑتی ہے جنھوں نے اپنی جڑوں سے اُکھڑ کر اجنبی سر زمینوں میں پاؤں جمانے کی سعی کی ۔ ناول زِگ زیگ اسلوب میں آگے بڑھتا ہے ۔ اِس کا آغاز 1979 کے انقلابِ ایران کے اوّلین، پُر آشوب ایام سے ہوتا ہے ۔
ناول کا مرکزی کردار طالب علم ( بہزاد) شاہ کے خلاف چڑھتی نفرت کی باڑھ میں شامل ہو جاتا ہے ۔ اِسی تحریک کے دوران اُس کی ملاقات ایک انقلابی لڑکی ( کامریڈ ناہید) سے ہوتی ہے ۔ دونوں کے دل اور ذہن ملتے ہیں اور پھر دونوں بانھوں میں بانہیں ڈال کر انقلابی قوتوں کے ریلے کا جاندار حصہ بن جاتے ہیں ۔ دونوں شادی کے بندھن میں بھی بندھ جاتے ہیں ۔ پھر انقلاب کامیاب ہو جاتا ہے ۔ ایران بدلنے لگتا ہے ۔ مذہبی اور مقتدر قوتیں شدت اختیارکر جاتی ہیں ۔ انقلابی نوجوانوں میں مایوسیاں پھیل جاتی ہیں کہ سوچا تھا کچھ اور نکل آیا کچھ ۔ ایران میں جمہوریت کے خواب پاش پاش ہو جاتے ہیں۔ ناہید مایوس ہو کر جرمنی چلی جاتی ہے ۔ اور پرائے دیس میں اُسے نئی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ بڑی آزمائش ایک یہ بھی ہے کہ اُس کا محبوب شوہر، بہزاد، نئے ملک (جرمنی) آکر مایوس بھی ہے اور حالات سے فرار حاصل کرنے کے لیے الکحل کا سہارا لیتا ہے ۔
ناول (تہران کی راتیں خاموش ہیں)کا تیسرا حصہ بہزاد اور ناہید کے تینوں بچوں ( مراد، لیلیٰ اور تارہ) پر مشتمل ہے ۔ اِنہی کی زبانی ناولسٹ نے بڑی مہارت سے اُن ایرانیوں کی المناک داستان سنائی ہے جو ایرانی انقلاب اور ایرانی مذہبی قیادت سے مایوس ہو کر جرمنی ہجرت کر گئے تھے ۔ یہ بچے خالصتاً جرمن ہیں ۔ لیکن اُن کا المیہ یہ ہے کہ جب وہ اپنی کلاس اور اپنے ہم جماعتوں میں بیٹھ کر ایران بارے کوئی بات کرتے ہیں تو اسے ایرانی ذہن کی ترجمانی سمجھا جاتا ہے ۔
اِس سے بچوں میں اجنبیت کا جو گہرا احساس پیدا ہوتا ہے ، یہ اُن کی منقسم نفسیات کو زک پہنچاتا ہے ۔ ناول کے اِس حصے میں ناول نگار نے اپنے اِنہی تینوں کرداروں کی زبانی یہ کہلوانے کی کوشش کی ہے کہ : ہم اپنے تشخص کی تلاش میں ہیں اورتشخص کہیں کھو گیا ہے ۔ ہمارا اصل چہرہ کیا ہے ؟ ناول کا یہ حصہ قاری کو رنجیدہ، غمزدہ اور اُداس کر جاتا ہے ۔ سخت مزاج اور بنیاد پرست ایرانی قیادت بارے بھی بین السطور تنقید کے کئی مناظر پڑھنے کو ملتے ہیں ۔ کہا جا سکتا ہے کہ شائد اِنہی مناظر کی بنیاد پر اِس ناول کو موجود ہ ایران میں پزیرائی نہیں ملے گی ، اگرچہ اِسے 2026کے ’’انٹرنیشنل بُکر پرائز‘‘ کے لیے بھی نامزد کیا گیا ہے ۔